03:07 pm
ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

ریاستِ مدینہ کیسے وجود میں آئی؟

03:07 pm

جامعہ انوار القرآن کراچی میں ۲۰۱۸ء کے دوران ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے کورس کی ایک نشست میں گفتگو کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب سوسائٹی میں جو تبدیلیاں کی تھیں ان میں سب سے پہلی اصلاح  یہ ہے کہ عربوں کو ریاست کا تصور دیا ۔ نبی کریمؐ کے یثرب پہنچتے ہی پہلے سال کے اندر ریاست بن گئی، حضورؐ کو اس کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے ایک دستور طے ہو گیا۔ میثاق مدینہ میں جناب نبی کریمؐ، مہاجرین، انصار کے دونوں قبیلے بنو اوس اور بنو خزرج، یہود کے تینوں قبیلے بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنو نضیر کے علاوہ اردگرد کے دیگر قبائل بھی شامل تھے۔ 
مدینہ منورہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے یثرب کہلاتا تھا۔ قرآن کریم میں یثرب کا نام مذکور ہے ’’یا اھل یثرب لا مقام لکم فارجعوا‘‘ لیکن جناب نبی کریمؐ نے اس کا نام تبدیل کر دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی بستی تھی، کہتے ہیں کہ آج جو مسجد نبویؐ ہے پرانا یثرب سب اس کی حدود کے اندر تھا۔ مدینہ منورہ کا سرکاری نام ’’مدینتہ الرسول‘‘ ہے یعنی رسول اللہؐ کا شہر۔ جب ریاست قائم ہوئی تو اس وقت یہ یثرب، قبا اور اردگرد کی چند بستیوں پر مشتمل تھی جسے بخاری شریف کی روایت میں ’’بحیرہ‘‘ کہا گیا ہے یعنی ساحلی پٹی۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اور وصال کے درمیان دس سال کا عرصہ ہے کہ گیارہ ہجری میں آپ کا انتقال ہوا۔ اس دس سال کے عرصہ میں یمن، بحرین، نجران اور نجد سمیت پورا جزیرۃ العرب ریاستِ مدینہ میں شامل ہو چکا تھا۔ 
اس سلسلہ میں تاریخ کا ایک اہم سوال ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بچتے بچاتے اور چھپتے چھپاتے یثرب جا رہے تھے، جاتے ہی حکومت کیسے بن گئی؟آپؐ تو مہاجر تھے، آج کی زبان میں پناہ گزین ، یثرب میں بڑے بڑ ےقبائل تھے، اوس اور خزرج جیسے طاقتور قبائل کے علاوہ یہود کے قبائل بھی تھے اور دیگر بہت سے قبائل تھے۔ آپؐ کے یثرب جاتے ہی مہاجروں کی حکومت کیسے بن گئی اور تسلیم کیسے ہو گئی؟ 
یہ امر واقعہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یثرب جاتے ہی پہلے سال کے اندر ریاست بن گئی، حضورؐ کو اس کا سربراہ تسلیم کیا گیا اور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کے نام سے ایک دستور طے ہو گیا۔ میثاق مدینہ میں دو مسلمان قبائل تھے اوس اور خزرج، ان کے علاوہ یہودی تینوں قبیلے بنو قینقاع، بنو قریظہ اور بنو نضیر اس کا حصہ تھے جبکہ اردگرد کے دیگر قبائل بھی اس میں شامل تھے۔ اس معاہدے کی رو سے سب کے آپس میں معاملات طے ہوئے تھے کہ آپ یہ کام کریں گے ہم یہ کریں گے، آپ کے یہ حقوق ہوں گے ہمارے یہ ہوں گے، آپ کی یہ ذمہ داری ہو گی ہماری یہ ہوگی، جیسے کہ دستور میں ہوتا ہے۔ اس کا تھوڑا سا پس منظر معلوم کر لیتے ہیں۔ 
عربوں کا مجموعی ماحول یہ تھا کہ باضابطہ حکومتیں نہیں ہوتی تھیں۔ جزیرۃ العرب میں قبائل کا نظام تھا اور کسی مرکزی حکومت کا وجود نہیں تھا۔ مکہ میں قریش تھے، طائف میں بنو ثقیف تھے، یثرب میں بنو اوس اور بنو خزرج کے ساتھ یہودی قبائل تھے، ایک  علاقے میں بنو غسان تھے، ایک علاقے میں بنو حمیر تھے۔ اوس اور خزرج تو حضور علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے، لیکن جو ایمان نہیں لائے تھے انہوں نے بھی آپؐ کو حکمران تسلیم کر لیا تھا۔ اردگرد کے یہودی قبائل سمیت میثاق مدینہ میں جتنے قبائل شامل تھے سب نے آنحضرتؐ کو سربراہ ریاست تسلیم کیا تھا۔ یہ کیسے ہو گیا اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ سو دو سو آدمی ہجرت کر کے آئیں اور پورے علاقے میں حکومت قائم کر لیں۔ اس کے دو پس منظر بیان کیے جاتے ہیں۔ 
 ایک یہ کہ یثرب میں ایک مشترکہ حکومت کا تصور جناب نبی اکرمؐ کی تشریف آوری سے قبل قائم ہو گیا تھا اور اس میں پیشرفت ہو رہی تھی۔ بخاری شریف کی ایک تفصیلی روایت ہے جو اس حوالے سے تاریخی پس منظر بیان کرتی ہے۔ یہ ہجرت کے بعد اور غزوۂ بدر سے پہلے کی بات ہے کہ بنو خزرج کے سردار سعد بن عبادہؓ ایک دفعہ بیمار ہو گئے۔ دو بڑے قبیلے تھے خزرج اور اوس۔ خزرج کے سردار سعد بن عبادہؓ جبکہ اوس کے سردار سعد بن معاذؓ تھے۔ سعد بن عبادہؓ بیمار ہوئے، کچھ فاصلے پر رہتے تھے، نبی کریمؐ بیمار پرسی کے لیے جا رہے تھے، راستے میں کوئی مجلس تھی جس میں عبد اللہ بن ابی بھی موجود تھا۔ بنو خزرج سے اس کا تعلق تھا اور اس نے ظاہرًا بھی ابھی کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ مجلس میں یہودی بھی تھے، مسلمان بھی تھے، مشترک مجلس تھی۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جہاں کہیں بات کہنے کا موقع ملتا تھا اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ حضورؐ مجلس کے پاس کھڑے ہوئے، سلام کہا اور  اپنی دعوت اور نصیحت کی بات شروع کی۔ عبد اللہ بن ابی بیٹھا ہوا تھا، اس نے ناک پر رومال رکھا اور کراہت سے کہا کہ غبار کیوں اٹھا رہے ہو، ذرا اُدھر ہو کر بات کرو۔ آنحضرتؐ خچر پر آئے تھے۔ پھر اس نے کہا کہ یہاں ایسی بات کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ ہمیں کیوں تنگ کرتے ہو؟ اپنے گھر میں بیٹھو، جو وہاں آئے اس کو سناؤ۔ اس طرح کے لہجے میں اس نے بات کی۔ مجلس میں بعض صحابہ کرامؓ بیٹھے تھے، ان میں عبد اللہ بن رواحہؓ بھی تھےان کو غصہ آ گیا، وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ تم کون ہو روکنے والے؟ ہمارےرسولؐ ہیں آئیں گے اور بات کریں گے، ہم سنیں گے۔ یا رسول اللہؐ آپ ارشاد فرمائیے، میں دیکھتا ہوں کیسے روکتا ہے یہ۔ بات ایسی بڑھی کہ دونوں طرف سے لوگ گتھم گتھا ہونے لگے۔ حضورؐ نے مشکل سے دونوں طرف کے لوگوں کو روکا کہ بات سنو نہ سنو آپس میں لڑو تو نہیں۔      ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں

 الیکشن کمیشن کو قابل شناخت بیلٹ پیپرز چھاپنے ہوں گے، اٹارنی جنرل

الیکشن کمیشن کو قابل شناخت بیلٹ پیپرز چھاپنے ہوں گے، اٹارنی جنرل

 شفاف و آزادانہ انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون ضروری ہے،لطیف کھوسہ

شفاف و آزادانہ انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون ضروری ہے،لطیف کھوسہ

ہنگو:مکان کی چھت گرنے سے 2افراد جاں بحق ،3زخمی

ہنگو:مکان کی چھت گرنے سے 2افراد جاں بحق ،3زخمی

سپریم کورٹ نے سینٹ الیکشن خفیہ کرانے کی رائے دی،شبلی فرازنوکری کر نے پر مجبور ہیں،مریم اورنگزیب

سپریم کورٹ نے سینٹ الیکشن خفیہ کرانے کی رائے دی،شبلی فرازنوکری کر نے پر مجبور ہیں،مریم اورنگزیب

سپریم کورٹ نےسینیٹ الیکشن میں شفافیت کیلئے زبردست فیصلہ دیا ،فیصل جاوید

سپریم کورٹ نےسینیٹ الیکشن میں شفافیت کیلئے زبردست فیصلہ دیا ،فیصل جاوید

سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کا موقف تسلیم کرلیا ،فواد چوہدری

سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کا موقف تسلیم کرلیا ،فواد چوہدری

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ الیکشن دلچسپ ہونگے،شیخ رشید

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ الیکشن دلچسپ ہونگے،شیخ رشید

سپریم کوٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،شبلی فراز

سپریم کوٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،شبلی فراز

وزیراعظم وزراء کی کارکردگی سے ناخوش : وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

وزیراعظم وزراء کی کارکردگی سے ناخوش : وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

نامور اداکار اعجاز درانی انتقال کر گئے

نامور اداکار اعجاز درانی انتقال کر گئے

پاکستان : کورونا سے مزید36افراد جاں بحق

پاکستان : کورونا سے مزید36افراد جاں بحق

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال