03:08 pm
نام نہاد انتخابات، فائرنگ، ہلاکتیں، عملہ، نتائج غائب

نام نہاد انتخابات، فائرنگ، ہلاکتیں، عملہ، نتائج غائب

03:08 pm

٭نام نہاد ضمنی انتخابات، بدنظمی، بدمعاشی، عملہ لاپتہ، نتائج غائب، فائرنگ، دو افراد ہلاک O ’’اپوزیشن نے ووٹ خریدنے کی منڈی لگا دی ہے‘‘ وزیراعظم، ’’سیاست میں پیسے کا خاتمہ وزیراعظم کی ترجیح ہے‘‘ شبلی فرازO پشاور: پبلک سروس کمیشن کی رشوت خوری!! ہائی کورٹ میں درخواستO بجلی مزید 92 پیسے فی یونٹ مہنگی!!O نوشہرہ میں تحریک انصاف، کرم میں جے یو آئی اپنی نشستوں سے محرومO ’وکلا کی ہڑتال بددیانتی ہے‘ لاہور ہائی کورٹO منظور پشتین و محسن داوڑ کے شناختی کارڈ بلاک O پاکستان ایران سرحد پر 928 کلو میٹر باڑ جون میں مکمل O الیکشن کمیشن، تمام گرفتار ارکان اسمبلی کا پروڈکشن آرڈرO امریکہ: سابق صدر ٹرمپ کے اہم فیصلے منسوخ O میانمر: فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری O گھی، 48 روپے مزید مہنگا، یوٹیلیٹی سٹوروں پر چینی غائب O سرکاری سیف سٹی لاہور کے ڈھائی ہزار کیمرے خراب۔
٭ضمنی انتخابات کے نام پر ڈسکہ میں ہلڑ بازی، بدنظمی بلکہ بدمعاشی کے شرم ناک مناظر! اخبارات میں تفصیل موجود ہے۔ دو افراد پولیس کی موجودگی میں ہلاک کر دیئے گئے۔ سیاسی حریفوں کی آپس میں چپقلش اور جھگڑے تو معمول کی بات ہے مگر یہ پہلی بار ہوا کہ 23 پولنگ سٹیشنوں کا عملہ ووٹوں کے بکس اور نتائج کے ساتھ غائب ہو گیا!! انتہا یہ کہ پولیس کی موجودگی میں نمبروں کے بغیر موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد گھومتے رہے، ایک دوسرے پر فائرنگ بھی ہوئی، دو افراد، ایک ن لیگ کا دوسرا تحریک انصاف کا ورکر، ہلاک، کچھ زخمی بھی ہو گئے، کسی کو نہ روکا گیا نہ پکڑا گیا۔ اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے مناظر! ن لیگ کے رانا ثناء اللہ کی قیادت میں ن لیگ کے ارکان اسمبلی اور صوبائی وزیر محمود الرشید کی قیادت میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی انتخابی حلقوں میں دھڑلے کے ساتھ گھومتے اور سیاسی مہم چلاتے رہے، پولیس تماشا دیکھتی رہی! فی الحال اس حلقے کے نتائج روک دیئے گئے ہیں۔ یہ تو صرف ایک حلقے کی بات ہے، عام انتخابات میں گیارہ سو سے زیادہ حلقوں میں کیا قیامت برپا ہو گی؟ سوچ کر ذہن سن ہو رہا ہے!
٭اب ذرا حالت دیکھیں، کراچی اور وزیرآباد میں تو پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے اپنی پرانی نشستیں جیتنا ہی تھیں مگر نوشہرہ میں تحریک انصاف کی پرانی نشست پر ن لیگ نے قبضہ کر لیا۔ اس ایک شکست سے آئندہ کے حالات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
٭وزیراعظم عمران خاں نے غصہ کا اظہارکیا ہے کہ اپوزیشن نے سینٹ کے الیکشن کی منڈی لگا دی ہے اور حکومت کے ارکان کو خریدا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی قوالی کے انداز میں وزیراطلاعات نے بھی ہم نوائی کی ہے کہ وزیراعظم سیاست میں پیسے کا خاتمہ چاہتے ہیں! اس چاہت کا کھلا اظہار تو سینٹ کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر ہوا تھا! عمران خاص صاحب، شبلی فراز صاحب! اس موقع پر کھلی ووٹنگ ہوتی تو کیا چیئرمین بچ سکتا تھا؟ سینٹ میں پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی، اسے کیسے ہرایا گیا؟ اس وقت ’پیسے‘ کی مذمت کیوں نہ کی گئی؟ وزیراعظم کا بار بار یُوٹرن تو اب مثالی حیثیت اختیار کر چکا ہے، مجھے شبلی فراز کی باتوں پر اس لئے زیادہ دکھ ہو رہا ہے کہ موصوف کے والد سید احمد فراز سے میری گہری دوستی تھی،  ہم اکٹھے مشاعرے پڑھا کرتے تھے۔ وہ حق و صداقت کے علمبردار تھے۔ شبلی فراز! میاں! تم مجھ سے بہت چھوٹے ہو، پتہ نہیں تمہیں فراز کی کتنی شاعری یاد ہے؟ چلو، والد صاحب کے دو شعر سن لو کہ ’’جہاں کے شور سے گھبرا گئے کیا؟ مسافر گھر کو واپس آ گئے کیا؟…یہاں کچھ آشنا سی بستیاں تھیں! جزیروں کو سمندر کھا گئے کیا؟‘‘ ایک اور شعر سن لو!’’ وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں ستارے لے کر! جانے دیں گے خواب ہمارے لے کر!!‘‘
٭کراچی، نیا ڈراما! تحریک انصاف کے زیرحراست اپوزیشن لیڈر حلیم عادل نے سنسنی خیز شکائت کی ہے کہ پولیس نے بلاول زرداری کی ہدائت اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے حکم پر پولیس نے تھانہ میں اس کے بند کمرے میں چار فٹ لمبا زہریلا کوبرا ناگ چھوڑ دیا تا کہ اسے ڈس کر ہلاک کر دے۔’’ملزم نے مزید تفصیل نہیں بتائی کہ سانپ پر کیسے قابو پایا اور کیسے جان بچائی؟ مگر پولیس نے وضاحت کر دی کہ سانپ تو واقعی موجود تھا مگر اس نے حلیم عادل کو کچھ نہیں کہا بلکہ وہ تو کمرے میںگیا ہی نہیں  دروازے کے باہر ایک بکس کے نیچے چھپا رہا۔ پولیس نے بھی وضاحت نہیں کی کہ سانپ کا کیا انجام ہوا مگر یہ سوال کہ اتنا زہریلا ناگ پولیس کی چاروں طرف سے ناکہ بندی چار دیواری میں کیسے آیا، پولیس کا یہ دفتر نہائت بارونق بھری جگہ پر واقع ہے، ایسی آبادی میں اتنا بڑا سانپ کہاں سے اور کیسے آ گیا؟ اور سانپ بھی معمولی نہیں، دنیا بھر میں زہریلا ترین کوبرا ناگ؟ اک تماشا! ایک محترم قاری نے عجیب بے تکا سا تبصرہ کیا ہے کہ حیرت کی بات نہیں، سانپ اپنے ہی دوستوں سے ملنے آیا ہو گا!
٭روح فرسا خبر! پشاور ہائی کورٹ میں کچھ پروفیسر حضرات کی درخواست دائر ہوئی ہے اس میں صوبے کے پبلک سروس کمیشن پر دھاندلی اور کرپشن کا واضح الزام لگایا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق سروس کمیشن کے ارکان امتحان اور انٹرویو دینے والے امیدواروں سے کامیابی کی بولیاں لگواتے ہیں!! اس سلسلے میںامیدواروں سے باقاعدہ رابطے قائم کئے جاتے ہیں! درخواست میں مبینہ طور پر ایسے رابطوں کے ثبوت بھی پیش کئے گئے ہیں!! ہائی کورٹ نے 9 مارچ کو کمیشن کے متعلقہ حکام اور درخواست گزاروں کو طلب کر لیا گیا سینٹ منڈی کے بعد ایک اور کیس! استغفراللہ! مگر یہ نیا معاملہ نہیں، ایسا ہی ایک انتہائی اذیت ناک کیس پنجاب سروس کمیشن پربھی زیر تحقیقات ہے جہاں امتحان دینے والے امیدواروں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے عوض امتحانی پرچے فروخت کئے جاتے تھے، پختونخوا کا سروس کمیشن تو دو ہاتھ آگے بڑھ گیا کہ اس کے انٹرویو لینے والے ارکان پر ہی امیدواروں سے بھاری رشوت لینے کے الزامات عائد ہو گئے ہیں۔ انتہائی شرم ناک بات کہ طلبا کو دیانت داری کی تعلیم دینے والے اساتذہ اعلیٰ تقرریوں کے لئے رشوت ستانی میں مبتلا ہو جائیں! اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے جہاں وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کے نام پر رشوت لٹا رہا ہو، اپوزیشن ووٹ خریدنے کے لئے نوٹوں بھرے تھیلے اٹھائے ووٹروں کے پیچھے بھاگ رہی ہو! اور جہاں پبلک سروس کمشنوں کے اعلیٰ عہدیدار اعلیٰ عہدے فروخت کر رہے ہوں!
٭ یہ نہائت سنگین مسئلہ ہے۔ ملک کے علم و ادب کے معروف سکالر شاعر افسانہ و ناول نگار پروفیسر ڈاکٹر مرزا حامد بیگ اور معروف دانش ور باسط خٹک نے اہم سوال اٹھایا ہے کہ وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمشنوں میں صرف ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں اور اعلیٰ سی ایس پی افسروں کو ہی اعلیٰ عہدوں پر کیوں لگایا جاتا ہے؟ ملک کی اعلیٰ یونیورسٹیوںکے عالمی شہرت یافتہ اعلیٰ ترین ڈگریوں والے سابق اساتذہ اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟ محترم مرزا حامد بیگ صاحب کا بیان بالکل درست ہے کہ ہر حکومت اپنے لاڈلے، چہیتے اور قدم بوس فرمانبردار، جرنیلوں، ججوں اور سرکاری ا فسروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی احسان مندی کے معاوضہ کے طور پر سروس کمشنوں اور دوسرے بااختیار بڑے اداروں پرمسلط کر دیتی ہے تا کہ ان کے ذریعے قوم کو لوٹنے کھسوٹنے کے ذرائع میں وسعت جاری رہے! یہ وبا صرف سروس کمشنوں میں ہی نہیں، دوسرے اداروں میں بھی عام ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر 30,30 لاکھ وفادار درباری چیئرمین، اکادمی ادبیات پرانڈر میٹرک چیئرمین پٹرولیم کے ادارے اوگرا پر ایک وزیر کے ایف اے پاس سالے کو منیجنگ ڈائریکٹر (82 کروڑ کا فراڈ کر کے باہر بھاگ گیا) مگر جہاں صرف ایف اے پاس ملک کے صدر اور گورنر، میٹرک پاس وزیراعلیٰ ملک کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے چانسلر بن کر وائس چانسلروں کی تقرریاں کر رہے ہوں، ایک بالکل ناخواندہ وزیراعلیٰ ڈگریوں والے ماہرین پر مسلط ہو، وہاں کس کس بات پر نوحے لکھے جائیں؟ سب کے سب چور، لٹیرے! کون کس کو پوچھے گا؟ اللہ تعالیٰ دس لاکھ قربانیوں سے حاصل ہونے والے میرے ملک کو سلامت رکھے! پتہ نہیں کس طرح چل رہا ہے!!
 

تازہ ترین خبریں

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

 پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک ۔۔۔۔ ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی

سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک ۔۔۔۔ ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی

پاکستان تحریک انصاف وہ جماعت ہے جس نے نظام میں شفافیت اور ملک میں کرپشن کے خاتمے کو ایک تحریک کی شکل دی۔شبلی فراز

پاکستان تحریک انصاف وہ جماعت ہے جس نے نظام میں شفافیت اور ملک میں کرپشن کے خاتمے کو ایک تحریک کی شکل دی۔شبلی فراز

ہم بھارت کیساتھ اچھے تعلقات چاہتےہیںضروری ہےکہ کشمیرکی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ شیخ رشید احمد

ہم بھارت کیساتھ اچھے تعلقات چاہتےہیںضروری ہےکہ کشمیرکی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ شیخ رشید احمد

فنون لطیفہ زندگی میں خوشیاں بھرنے کا اہم ذریعہ ہے۔فوزیہ سعید

فنون لطیفہ زندگی میں خوشیاں بھرنے کا اہم ذریعہ ہے۔فوزیہ سعید

اسکولز کھولنے کا معاملہ ۔۔ سندھ حکومت اور وفاق ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ۔۔۔ والدین پریشان

اسکولز کھولنے کا معاملہ ۔۔ سندھ حکومت اور وفاق ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ۔۔۔ والدین پریشان

مسافروں کیلئے خوشخبری ۔۔۔ پی آئی اے نے کرایوں میں کمی کا اعلان کردیا

مسافروں کیلئے خوشخبری ۔۔۔ پی آئی اے نے کرایوں میں کمی کا اعلان کردیا

سینٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کے رابطے تیز پیپلزپارٹی اور جےیوآئی کے درمیان رابطہ

سینٹ انتخابات کا معاملہ۔۔۔۔ اپوزیشن جماعتوں کے رابطے تیز پیپلزپارٹی اور جےیوآئی کے درمیان رابطہ

کورونا وائرس کے بعد ایک اور وائرس کی انٹری ۔۔۔ کراچی کےشہریوں میں تشویش کی لہر ڈور گئی

کورونا وائرس کے بعد ایک اور وائرس کی انٹری ۔۔۔ کراچی کےشہریوں میں تشویش کی لہر ڈور گئی

  نیا پاکستان محض نیا ہی نہیں مہنگا بھی ہے، شازیہ مری

نیا پاکستان محض نیا ہی نہیں مہنگا بھی ہے، شازیہ مری

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری۔۔۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کر دیا

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری۔۔۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کر دیا