01:10 pm
جنوب ایشیا ئی زرعی انقلاب کی حقیقت

جنوب ایشیا ئی زرعی انقلاب کی حقیقت

01:10 pm

دنیا کی سب سے بڑی سیڈ کمپنی ،مونسانٹو (Monsanto)بیجوں کی عالمی ملکیت میں تقریبا ایک چوتھائی حصہ (23 فی صد) کی حصہ دار ہے۔پاکستان میں مونسانٹو نے عملی طور
(گزشتہ سے پیوستہ)
دنیا کی سب سے بڑی سیڈ کمپنی ،مونسانٹو (Monsanto)بیجوں کی عالمی ملکیت میں تقریبا ایک چوتھائی حصہ (23 فی صد) کی حصہ دار ہے۔پاکستان میں مونسانٹو نے عملی طور پر PT بیجوںکے ضمن میں قائم مقامی لیب اور تحقیقاتی اداروں کو کام بند کرنے پر مجبور کردیا، اس سے معیشت اور ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
ہندوستانی کاشت کار یہ سمجھ سکتے ہیں کہ آج وہی کچھ دہرایا جارہا ہے، جو برطانوی زرعی انقلاب یا دوسرے زرعی انقلاب کے دوران رونما ہوا تھا۔ جب  برطانیہ میں زرعی پیداوار میں غیرمعمولی اضافہ ہوا، اب اُس کپاس سے زیادہ کپاس کی ضرورت تھی، جو وہ اپنی محدود زمین پر اگا سکتے تھے۔
روئی کی جدید مشینری نے ہندوستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ کمپنی کے فوجیوں نے خواتین کی لوم مشینیں اور دیگر اوزار توڑ ڈالے۔ بنگال کی صنعتی ساکھ مجروح کرکے برطانیہ صنعتوں کی بنیاد رکھی گئی۔تمام کپاس برطانیہ پہنچا دی گئی، تاکہ وہ انگریزوں کی ٹیکسٹائل صنعت کا پیٹ بھر سکے، اور یوں دیسی کپاس کی بُنائی کو، جو صدیوں سے دنیا بھر میں بہترین ململ تیار کر رہی تھی، ختم کردیا گیا۔
آمدنی اور خوراک کی قلت سے قحط کا ظہور ہوا، جس کی بابت گورنر جنرل نے 1834ء میں ان کرب ناک الفاظ میں اظہار خیال کیا۔ ’’اس المیے کی تجارت کی طویل تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ملے۔ روئی کے بننے والوں کی ہڈیاں ہندوستان کے میدانی علاقوں کو ورغلا رہی ہیں۔‘‘ (ہندوستانی تاریخ سے متعلق کارل مارکس کے خیالات کو ششی تھرور نے اپنی کتاب"An Era of Darkness" میں بھی شامل کیا) 
اس ہندوستانی رکن پارلیمنٹ کے مطابق، جو یواین کا ڈپٹی سربراہ رہ چکا ہے، اور جس کے قلم سے متعدد کتابیں نکلیں، جنوبی ایشیا اور برصغیر میں بہیمانہ لوٹ مار کا آغازاصل ولیم ہاکنگس سے ہوتا ہے،جس نے  1613-14 میں شہنشاہ جہانگیر کے دور میں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمائندے کے طور پر ہندوستانی سرزمین پر تجارت کا آغاز کیا۔ کمپنی کی بنیاد چند برس پہلے لندن میں رکھی جاچکی تھی۔
تب تومغل دربار میں انہیں زیادہ احترام اور اہمیت حاصل نہیں تھی۔البتہ 150برس بعد 1765 ء میں انگریزوں نے کمزور حکمراںپر غلبہ پا کر بہار، بنگال اور اڑیسہ میں شاہی محصولات کے عہدے داروں کو کمپنی کے عہدے داروں سے تبدیل کر دیا۔طاقت حاصل کرنے کے بعد کمپنی کی نجی فوج رابرٹ کلائیو کی قیادت میں(بعد میں لارڈ بنا) پلاسی میں بنگلال کے حکمران سراج الدولہ کو شکست دے چکی تھی۔کیوں کہ انگریز تاجر تھے، تو انڈیا کی ٹیکسٹائل  صنعت میں یکدم اضافہ ہوا۔پارچہ بانی کی صنعت(hardloom industry) میں 33 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اٹھارویں اور اکیسویں صدیوں میں خاصی معاشی مماثلت ہے۔حاکم بننے کے بعد کمپنی کے طریقے میں درشتی در آئی۔مقامی’’ پراکسی ‘‘پر مشتمل ان کا جدید طریقہ کار زیادہ گھاتک ہے، جس کی قیمت مقامی آبادی ادا کرتی ہے۔بھارتی کسانوں کے مقابلے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی حمایت کرکے مودی اور بی جے پی متوقع قحط کو مزید قریب لے آئیں گے۔ بھوک کی وبا نے ’’پری کولونیل‘‘ ہندوستان میں لاکھوں افراد کی جان لے لی تھی۔
جس طرح 18 ویں اور 19 ویں صدی میں مقامی افراد نے ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے اپنے برطانوی آقاؤں کی ہدایات پر آنکھیں بند کرکے عمل کیا تھا، واضح خطرہ ہے کہ اس بار بھی وہی کیا جائے اور ویسے ہی خوف ناک نتائج سامنے آئیں۔اس کے برعکس 1985 تا 1988 پاکستان میں سرتاج عزیز اور 1979  میں بنگلا دیش میں میجر جنرل (ر) نور الاسلام جیسے نمایاں، باصلاحیت اورپر عزم افراد کی اعلان کردہ مثبت پالیسیوں پر غور کریں۔
سرتاج عزیز1984  میں FAO سے لوٹنے کے بعد زرعی وزیر بنے۔اُن کے اقدامات کے ، جن میں آبی وسائل کا تحفظ شامل تھا، تین پہلوئوں اہم تھے۔۱: گندم کے راشنگ سسٹم کو ختم کرنا ۔۲:چاول اور کاٹن کے لیے سپورٹ پرائز کو ختم کرنا، مگر چینی اور گندم کے لیے برقرار رکھنا۔ ۳:زرعی مصنوعات کی قیمت کا ان پٹ کے ذریعے تعین کرنا، تاکہ کاشت کاروں کو مناسب قیمتیں مل سکیں۔
دیگر اقدامات کی طرح جن میں مچھلی اور پولٹری فارمنگ کا فروغ اور’ گرامین بینک ‘کا تصور شامل تھا، جنر ل اسلام نے، جن کا نک نیم Shishu تھا،تین اضلاع رنگ پور، دنج پور اور بوگرا میں کھانے کی عادات کو یکسر تبدیل کر دیا۔ انھوں نے خشک موسم سرما میں گندم کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی۔(اس وقت امریکی سفارت خانے کے پاس غذائی امداد کی مد میں7 ملین ڈالر تھے اورامریکی سفیر جن چار ممالک سے گندم کے بیج خریدنے پر مسرور تھے، پاکستان ان میں شامل تھا)یوں گندم پیداوار 0.12   ملین ٹن سے بڑھ کر  0.78 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔چپاتی کھانے کے چلن نے چاول پر انحصارکو کم کیا۔ اس طرح کے اقدامات اب بھی ممکن ہیں، ضرورت سرتاج عزیز اور نورالاسلام جیسے مخلص لوگوں کی ہے۔ 
 دنیا کے دیگر حصوں میں ہونے والی پیش رفت کو جنوبی ایشیا پر تھوپنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔برصغیر کی تاریخی، سماجی اور معاشی صورت حال مختلف ہے۔اسے سمجھنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام کی زندگی اور اس خطے میں موجود ممالک کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔کسی انقلاب کے بجائے ہمیں قانونی، معاشی اور معاشرتی میدان میں ارتقائی عمل کی ضرورت ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے استفادہ کر سکیں۔زرخیز اراضیاں، آبادی کے ساتھ ساتھ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، جنھیں ترقی کے سراب کے تعاقب میں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔(فاضل مصنف دفاعی اور سیکیورٹی تجزیہ کار ہیں)
 

تازہ ترین خبریں

ہنگو:مکان کی چھت گرنے سے 2افراد جاں بحق ،3زخمی

ہنگو:مکان کی چھت گرنے سے 2افراد جاں بحق ،3زخمی

سپریم کورٹ نے سینٹ الیکشن خفیہ کرانے کی رائے دی،شبلی فرازنوکری کر نے پر مجبور ہیں،مریم اورنگزیب

سپریم کورٹ نے سینٹ الیکشن خفیہ کرانے کی رائے دی،شبلی فرازنوکری کر نے پر مجبور ہیں،مریم اورنگزیب

سپریم کورٹ نےسینیٹ الیکشن میں شفافیت کیلئے زبردست فیصلہ دیا ،فیصل جاوید

سپریم کورٹ نےسینیٹ الیکشن میں شفافیت کیلئے زبردست فیصلہ دیا ،فیصل جاوید

سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کا موقف تسلیم کرلیا ،فواد چوہدری

سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کا موقف تسلیم کرلیا ،فواد چوہدری

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ الیکشن دلچسپ ہونگے،شیخ رشید

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ الیکشن دلچسپ ہونگے،شیخ رشید

سپریم کوٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،شبلی فراز

سپریم کوٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،شبلی فراز

وزیراعظم وزراء کی کارکردگی سے ناخوش : وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

وزیراعظم وزراء کی کارکردگی سے ناخوش : وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

نامور اداکار اعجاز درانی انتقال کر گئے

نامور اداکار اعجاز درانی انتقال کر گئے

پاکستان : کورونا سے مزید36افراد جاں بحق

پاکستان : کورونا سے مزید36افراد جاں بحق

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

 پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک ۔۔۔۔ ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی

سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک ۔۔۔۔ ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی