01:38 pm
نیٹوکوسب سے بڑاچیلنج

نیٹوکوسب سے بڑاچیلنج

01:38 pm

آج نیٹوکوسب سے بڑاچیلنج روس سے نہیں بلکہ اپنے اراکین کی جانب سے درپیش ہے۔ترکی اورمتعددیورپی اتحادیوں کے درمیان تنازعات ایک بارپھرعروج
آج نیٹوکوسب سے بڑاچیلنج روس سے نہیں بلکہ اپنے اراکین کی جانب سے درپیش ہے۔ترکی اورمتعددیورپی اتحادیوں کے درمیان تنازعات ایک بارپھرعروج پرہیں،جس کی وجہ سے تنظیم کی اجتماعی فیصلہ سازی کی صلاحیت بری طرح متاثرہورہی ہے،اگر ان مسائل کوبروقت حل نہیں کیاگیاتودنیاکے طاقتوراتحادکوشدیدنقصان پہنچ سکتاہے۔تازہ ترین واقعہ ترکی کی جانب سے آذربائیجان کی جانب سے نگورنوکاراباخ پرقبضے کیلئے  جنگ کی کھلی حمایت کرناہے۔یہ جنگ روس کے زیرسرپرست ایک معاہدے کے بعد ختم ہوئی۔اس جنگ میں ترکی کی جانب سے اپنے نیٹواتحادیوں کوصرف دکھانے کیلئے معاملے کے پرامن حل پرزوردیاگیا۔ معاہدے کے نتیجے میں آذربائیجان کو متنازع خطے کاقابلِ ذکرعلاقہ حاصل ہوگیا۔ ترکی فاتح بن کرابھرااوراس کے مغربی اتحادیوں کاکردار محدودہوگیا۔یہ واقعہ اونٹ کی کمرتوڑنے کیلئےآخری تنکے کاکرداراداکرسکتاہے۔
مغرب کی اپنے نیٹواتحادی سے شکایت بڑھتی جارہی ہے۔پچھلے ماہ ترکی کی جانب سے گیس کی تلاش کیلئے مشرقی بحیرہ روم کے متنازع علاقوں میں بحری جہازبھیجنے سے یونان سے ٹکرائوکاامکان خطرناک حد تک بڑھ گیاتھا۔اگرچہ بعدمیں ترکی نے اپنا جہازواپس لے لیالیکن ترکی کی جانب سے تحقیقاتی سرگرمیوں کیلئے دوبارہ جہازبھیجنے کے اعلان سے  نیٹو اتحادیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا،جس پریونان کی جانب سے پابندیوں کامطالبہ کیاگیا۔آخرصورتحال اتنی دھماکاخیزکیوں ہوجاتی ہے؟دراصل مشرقی بحیرہ روم کی دوریاستوں  کے درمیان1947سے قبرص کی تقسیم اوراس علاقے میں قدرتی وسائل کی دریافت پر تنازع چلاآرہاہے۔جون میں فرانس اورترکی کے درمیان نوبت تصادم تک آ پہنچی،جب فرانس کے جہازنے لیبیاکواسلحہ کی فراہمی پراقوام متحدہ کی پابندیوں کے تناظرمیں ترک جہازکی تلاشی لینے کی کوشش کی۔انقرہ نے فوری طورپرفرانس کادعوی مسترد کر دیا۔دونوں ممالک لیبیامیں مختلف فریقوں کی حمایت کررہے ہیں۔دونوں نیٹواتحادی شام، لیبیا،نگورنوکاراباخ کے معاملے پرلفظی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔اس حوالے سے تازہ ترین تنازع فرانس کے صدرمیکرون کی جانب سے توہین آمیزکارٹون بنانے کادفاع کرنا ہے،جس کاجواب ترک صدرنے فرانسیسی مصنوعات کابائیکاٹ کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے دیا۔اس صورتحال میں نیٹو اتحادکے اندرتنائواورالجھائوبڑھتا جارہاہے۔ یورپی اتحادیوں کواس بات سے مایوسی ہے کہ ترکی علاقائی سطح پرجارحانہ اندازاختیارکرتاہے اورکوئی اقدام اٹھانے سے قبل مشورہ تک نہیں کرتا۔ 1952سے اس اتحاد میں ترکی کاہمیشہ ایک منفردکرداررہا ہے۔ اس کاحجم،فوجی وسائل اورایشیائی دہلیزپرکلیدی حیثیت ترکی کی اہمیت کو بڑھاتی ہے۔مشرق وسطی میں بھی ترکی کو اسٹریٹجک حیثیت حاصل ہے۔اگرچہ ترکی اور نیٹوکے تعلقات اکثرکشیدہ رہے ہیں لیکن خاص کر2016میں ترکی میں بغاوت کی کوشش کے بعدتو حالات بدترین ہوتے چلے گئے ہیں،جس کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں۔اس پس منظرمیں نیٹوکواپنے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ارکان کے بگڑتے ہوئے تعلقات درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اوراپنے سکیورٹی مفادات کونئی جہت دینی چاہیے، تاکہ اتحادمیں مزیددراڑوں سے بچاجاسکے۔جب بھی تنائوبڑھتاہے تونیٹوکے ایک اتحاد کی طرح عمل کرنے کی صلاحیت متاثرہوتی ہے کیونکہ اتحادکے اصولوں کے مطابق اتفاق رائے سے فیصلہ سازی کرنا ضروری ہے۔نیٹوکے ہرفیصلے میں اتحادیوں کی اجتماعی خواہش کااظہارہوتاہے، جس سے مطلوبہ نتائج کاحصول آسان ہوجاتا ہے۔
اقوام کے درمیان باہمی دلچسپی کے امورپر بات چیت ایک پیچیدہ عمل ہوتاہے اورخرابی یہ ہے کہ نیٹوکے ہررکن کوکسی بھی معاملے میں ویٹوکرنے کاحق دیاگیاہے۔ریاستیں اس حق کو قومی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرسکتی ہیں۔یورپی یونین کے اندربھی یہ مسئلہ ہے کہ ہرچیزاتفاق رائے سے طے کی جائے گی۔حال ہی میں قبرص نے بیلاروس کی حکومت پر پابندیوں کی حمایت سے انکارکرتے ہوئے پہلے ترکی کے خلاف پابندیوں پراصرارکیا ہے۔قبرص نے بحیرہ روم کے پانیوں میں بحری جہاز بھیجنے پرترکی کے خلاف بروقت اقدامات نہ کرنے پریورپی یونین پرشدیدتنقیدبھی کی ہے۔ یورپی یونین کے برعکس نیٹومیں بات چیت بنددروازوں کے پیچھے کی جاتی ہے اوراختلاف رائے کی خبریں باہرنہیں آپاتی ہیں۔ اصولی طورپر کوئی بھی رکن ملک اتحاد کی اہم پالیسی یااقدام کوروک سکتاہے۔پچھلے سال خبروں کے مطابق نیٹوسربراہی اجلاس میں ترکی نے بالٹک ریاستوں اورپولینڈ کے خلاف روسی جارحیت سے تحفظ کے اہم دفاعی منصوبے کوروکنے کی دھمکی دی اور اتحادیوں پردبائوڈالاکہ کردملیشیاکو دہشتگردتنظیم قرار دیاجائے حالانکہ کئی نیٹوممالک کے کردملیشیاسے تعلقات ہیں۔اسی طرح کچھ سال قبل جب آسٹریانے یورپی یونین کی ممبر شپ کے حوالے سے انقرہ سے بات چیت معطل کرنے کامطالبہ کیاتوترکی نے آسٹریاکے ساتھ نیٹوکے تعاون کو ویٹو کردیا۔اگرچہ دونوں معاملات بات چیت کے بعدطے کرلیے گئے لیکن یہ صورتحال اتحادیوں کے درمیان بڑھتے اختلافات کو ظاہرکرتی ہے،جوبات چیت کے ماحول کوخراب کررہی ہے۔ترکی کے سخت رویے کی وجہ سے نیٹوارکان کااپنے اتحادی کے ساتھ کام کرنامشکل ہوتاجارہاہے۔
2011میں عرب بہارکے بعدترکی کی سکیورٹی کیلئے چیلنج بڑھنے لگے اوریہ تاثربھی گہراہوگیاکہ انقرہ کے اہم سکیورٹی مفادات کے تحفظ کیلئے مغربی اتحادی قابلِ اعتبارنہیں ہیں،جسمیں یورپی یونین کارکن بننے کیلئے بات چیت کاعمل روکنا،امریکاکی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے حالات سے لاتعلقی، کردباغیوں کی حمایت کرنااورفتح اللہ گولن کی حوالگی سے انکارکرنا شامل ہیں۔فتح اللہ گولن کو2016کی بغاوت کاماسٹرمائنڈقراردیا جاتا ہے۔اس صورتحال نے واضح کردیاکہ ترکی کی سلامتی کیلئے انقرہ کوخود اقدامات کرنے ہوں گے اورایک منقسم اورناقابلِ اعتبارمغرب پربھروسہ غلط فیصلہ ہوگا۔ مجموعی طورپران عوامل نے انقرہ پرنیٹوکااثرو رسوخ ختم کردیاہے۔
(جاری ہے)
ترکی نے شام میں اپنے کلیدی کرداراورخطے میں جغرافیائی برتری کی وجہ سے یورپ میں پناہ گزینوں کی آمدکے دبائوکوکم کیا۔نیٹوکی نظرمیں ترکی جنوبی سرحدکامحافظ ہے۔اسی لیے ترکی نے پولینڈ اوربالٹک ریاستوں کے تحفظ کی حمایت کے بدلے اتحادکواپنے دفاع کیلئے زیادہ مددفراہم کرنے پرمجبورکیا۔ترکی اس بات کامطالبہ کئی برسوں سے کررہاتھا۔ترکی میں دنیابھرمیں سب سے زیادہ چالیس لاکھ پناہ گزین موجودہیں۔ یہی بات برسلزکوانقرہ کی بات سننے پرمجبورکرتی ہے کیوںکہ ترکی دھمکی دے چکاہے کہ وہ مہاجرین کیلئے یورپ کے دروازے کھول دے گاجوکہ یورپ اورترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ترکی کی جارحانہ حکمتِ عملی کے نتیجے میں یورپ کی جانب سے پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں اور مشکلات کاشکارترک معیشت مزیدبدترین حالات سے دوچارہوسکتی ہے۔نیٹوکوایک اورچیلنج عظیم یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کے مطالبے سے ہے،جس سے اتحادکونقصان پہنچ سکتاہے،یورپ اوراٹلانٹک کے بگڑتے تعلقات کے پس منظرمیں کئی رہنمائوں نے کھلے عام نیٹوکی افادیت پرسوال اٹھانے شروع کردیے ہیں۔اسٹریٹجک خودمختاری کے اہم وکیل فرانس کے صدر میکرون نے لیبیاکو اسلحے کی فراہمی کے معاملے پرترکی سے ٹکرائوکے بعدنیٹوکوایک مردہ اتحادقراردیا،جس کی وجہ سے وہ ترکی کی مہم جوئی کاراستہ نہیں روک سکتے۔
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں

 شفاف و آزادانہ انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون ضروری ہے،لطیف کھوسہ

شفاف و آزادانہ انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کیساتھ تعاون ضروری ہے،لطیف کھوسہ

ہنگو:مکان کی چھت گرنے سے 2افراد جاں بحق ،3زخمی

ہنگو:مکان کی چھت گرنے سے 2افراد جاں بحق ،3زخمی

سپریم کورٹ نے سینٹ الیکشن خفیہ کرانے کی رائے دی،شبلی فرازنوکری کر نے پر مجبور ہیں،مریم اورنگزیب

سپریم کورٹ نے سینٹ الیکشن خفیہ کرانے کی رائے دی،شبلی فرازنوکری کر نے پر مجبور ہیں،مریم اورنگزیب

سپریم کورٹ نےسینیٹ الیکشن میں شفافیت کیلئے زبردست فیصلہ دیا ،فیصل جاوید

سپریم کورٹ نےسینیٹ الیکشن میں شفافیت کیلئے زبردست فیصلہ دیا ،فیصل جاوید

سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کا موقف تسلیم کرلیا ،فواد چوہدری

سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کا موقف تسلیم کرلیا ،فواد چوہدری

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ الیکشن دلچسپ ہونگے،شیخ رشید

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ الیکشن دلچسپ ہونگے،شیخ رشید

سپریم کوٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،شبلی فراز

سپریم کوٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،شبلی فراز

وزیراعظم وزراء کی کارکردگی سے ناخوش : وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

وزیراعظم وزراء کی کارکردگی سے ناخوش : وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان

نامور اداکار اعجاز درانی انتقال کر گئے

نامور اداکار اعجاز درانی انتقال کر گئے

پاکستان : کورونا سے مزید36افراد جاں بحق

پاکستان : کورونا سے مزید36افراد جاں بحق

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششیں کررہی ہیں، شاہ محمود قریشی

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ سے قبل نئی حکمت عملی ۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہوگیا

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی خیبر سے کراچی تک ظلم کا نظام ختم کرے گی ۔ مصطفی کمال

 پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان

پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن میں اختلافات کا شکار ہوگی لیکن چاروں صوبوں اور مرکز میں پی ڈی ایم کا ‏اتحاد قوم کیلئے خوشخبری ہے۔مولانا فضل الرحمان