12:34 pm
ایسے لوگ ہی فلاح پاتے ہیں

ایسے لوگ ہی فلاح پاتے ہیں

12:34 pm

اللہ تبارک تعالیٰ نے فرض عبادات کے علاوہ نفلی عبادات میں سے انسانی خدمت پر زیادہ زور دیاہے۔لیکن یہ کام کرنا قسمت والے لوگوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔دنیا میں جن لوگوں نے بھی مخلوقِ خدا کی خدمت کی وہی سرخرو ہوئے۔آج لوگوں کے پاس وسائل بہت زیادہ ہیں۔آج میں جس شخصیت کا یا جس خاندان کا ذکر کرنا چاہ رہا ہوں۔انہوں نے میری یاد میں آج سے60 سال پہلے جس طرح انسانیت کی خدمت کی اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ان کے پاس یہ پیسہ نہ تو لوگوں سے چندہ خیرات اکٹھا کر کے جمع کیا ہوا تھا اور نہ ہی لوگوں کی زمینوں پر ناجائز قبضے کر کے اکٹھا کیا گیا تھا۔جس وقت کی میں بات کر رہا ہوں اس وقت فوجی جوان کی ٹوٹل ماہانہ تنخواہ صرف 28 روپے تھی۔بہت کم ایسے سرکاری ادارے تھے جہاں ملازمین کے سرکاری علاج ہوتے تھے بلکہ سرکار کے محکمے بھی چند گنے چنے ہی تھے۔ہر شخص کو ہر دوائی قیمتاً خریدنا ہوتی تھی اور جن محکموں سے ملازمین کو علاج کی سہولت میسر تھی تو ان کے بچوں اور والدین کو سارا علاج اپنے ذاتی پیسوں سے کرانا ہوتا تھا۔کالم کی اتنی تمہید کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اس زمانے میں انسانیت کی خدمت کا کتنا اجر ملتا ہوگا جب لوگ پیسے پیسے کے لئے ترس رہے ہوتے تھے۔اسی زمانے میں چکوال کے ایک قریبی گاؤں ہستال سے ایک شخصیت آ کر چکوال شہر میں آباد ہوتی ہے۔پہلے کچھ اور کاروبار کئے۔پھر تحصیل سول ہسپتال کے سامنے دوائیوں کی دکان کھول لی۔یہ اس زمانے کی بڑی دکان تھی۔جو دوائی لاہور اور راولپنڈی میں مل سکتی تھی وہ چکوال میں ان کی دکان پر بھی دستیاب ہوتی۔ان کا بڑا صاحبزادہ کالج میں مجھ سے ایک سال سینئر تھا۔ وہ انتہائی دلیر اور جی دار دوست تھا۔یہ ایک بڑا مشہور فقرہ بولا جاتا ہے کہ میں تو فلاں شخص کے لئے تن من دھن لگا سکتا ہوں لیکن یہ فقرہ شاید کہنے کے لئے ہی اچھا لگتا ہے۔ایسے لوگ لاکھوں میں کوئی ایک آدھ ہی ہوتا ہو گا لیکن میرا یہ دوست بلکہ بڑا بھائی شاید ان لاکھوں میں سے ہی ایک تھا جو دوستوں کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر تن من دھن لگا دیتا تھا۔اس کی ایک دفعہ نہیں بلکہ درجنوں مرتبہ ڈنکے کی چوٹ پر مثالیں بھی قائم ملتی ہیں۔
آج میں ان کے والد محترم راجہ نذر حسین ہستال کا ذکر کرنا چاہ رہا ہوں۔سب سے پہلے اتنے وسیع پیمانے پر چکوال میں دوائیوں کا کاروبار راجہ نذر حسین صاحب نے شروع کیا۔پھر 1970ء کے لگ بھگ ان کے بڑے صاحبزادے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے راجہ محمد رضاالحق نے والد صاحب کا کاروبار سنبھال لیا۔ان کی دکان کا خاصہ یہ تھا کہ غریبوں اور ایمرجنسی کے مریضوں میں سے کوئی پیسے دے دے تو ٹھیک ورنہ تقاضا کر کے مجبور لوگوں کو شرمندہ نہیں کرتے تھے۔چکوال چونکہ تحصیل ہستال تھا اور زیادہ سیریس مریضوں کو جہلم شفٹ کر دیا جاتا تھا۔ایمبولینسز کی بھی کوئی زیادہ بہتر حالت نہ ہوتی تھی۔لیکن اچانک وہ زخمی مریض جن کو جہلم بھیجا جاتا تھا ان کو بھی راستے کے لئے ایمرجنسی دوائیاں اور پٹیاں وغیرہ سمیت نقد پیسے بھی مریض کے لواحقین کو دئیے جاتے تھے۔میں نے دیکھا کہ ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہوتے تھے جن کو راجہ نذر حسین یا ان کے صاحبزادے جانتے تک نہیں ہوتے تھے۔ان میں کچھ لوگ آ کر پیسے واپس کر جاتے تھے لیکن اگر نہ بھی کرتے تو ان کی دکان سے تقاضا نہیں کیا جاتا تھا۔اللہ تبارک تعالیٰ اپنے لوگوں کی خدمت کرنے والوں کا ادھار نہیں چھوڑتا۔اللہ نے راجہ نذر حسین کو چھ بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔راجہ صاحب نے صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے سارے خاندان کے لئے محنت کی اور سارے خاندان کو ساتھ لے کر چلے۔اپنے بھائیوں بیٹوں سب کو اپنی اپنی جگہ سیٹ کیا۔ان کے بڑے صاحبزادے راجہ محمد رضاالحق نے میڈیسن کا کام ہی سنبھالااور سارا دن جوتے اتار کر دکان میں دوڑ بھاگ کر گاہکوں کو دوائیں پوری کر دیتے ہیں۔ان سے چھوٹے بھائی راجہ محمد ثناء الحق انگلینڈ سے قانون کی اعلیٰ ڈگری ایل ایل ایم کر کے آئے۔تیسرے نمبر پر راجہ محمد مقصود الحق ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور وہ اپنے شعبے کے صفِ اول کے ڈاکٹر ہیں۔چوتھے بیٹے راجہ غلام مرتضیٰ اور ان کی زوجہ محترمہ بھی ڈاکٹر ہیں ۔دونوں انگلینڈ میں اپنے اپنے ہسپتال چلا رہے ہیں۔پانچویں بیٹے محمد عبداللہ بھی اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔سب سے چھوٹے بیٹے راجہ محمد عظیم الحق پاکستان گورنمنٹ میں سینئر بیوروکریٹ تھے۔ ایک خبر خلاف لگی پھر ضمیر نے اس سیٹ پر بیٹھنا گوارا نہ کیا اور استعفیٰ دے کر گھر آ گئے۔وہ سابق وزیراعظم اور موجودہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے داماد ہیں۔ راجہ نذر حسین نے جہاں کاروباری مصروفیات میں نام کمایا وہاں مذہب کی بھی بے پناہ خدمت کی۔چکوال میں سب سے پہلے عید میلادالنبی کے موقع پر ممتاز عالم دین علامہ زبیر شاہ کے ساتھ مل کر جلوس کی قیادت کرنی شروع کی۔اپنی اولاد میں سے ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، محمد عبداللہ اور صاحبزادی ام سلمیٰ کو قرآن پاک حفظ کروایا۔راجہ صاحب کی زندگی میں کچھ بڑے حادثے بھی پیش آئے۔سب سے پہلے 1960ء کی دہائی میں ان کے بھتیجے راجہ محمد عظیم کار حادثے میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔پھر 1975ء میں ان کے چھوٹے بھائی راجہ مظہر حسین، ان کی بیوی، دو بیٹے اور ایک خادمہ گھر میں گیس سلینڈر پھٹنے سے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ان کا ایک بیٹا اظہر حسین اور بیٹی جو اُس وقت گھر پر موجود نہیں تھے وہ بچ گئے۔اپنے یتیم رہ جانے والے بھتیجے اظہر حسین کو بھی قرآن پاک حفظ کروایا۔ دونوں بہن بھائیوں کی شادیاں کیں۔اظہر حسین بھی چند سال پہلے بلکسر انٹر چینج کے پاس ایک کار حادثے میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔اب میں کالم کے سب سے اہم اور بنیادی حصے کی طرف آ تا ہوں۔ راجہ نذر حسین نے جو ساری زندگی انسانیت کی خدمت کی۔اب 96 سال کی عمر میں چکوال کے بالکل قریب جہاں اب زمین چار پانچ لاکھ روپے فی مرلہ ہے وہاں سے برلبِ سڑک 56 ایکڑ زمین راجہ صاحب نے اخوت والوں کو لڑکیوں کے کالج کے لئے ہدیہ کر دی ہے۔انہوں نے جب یہ چیزیں صدقہ اور خیرات کیںاس وقت ان کا سارا رزق دوائیوں کے روزگار سے تھا۔اس وقت دواؤں کے کاروبار سے ساتھ سمگلنگ کی تجارت نہیں شروع ہوئی تھی۔یعنی دواؤں کے ساتھ کاسمیٹک کا کام شروع نہیں ہوا تھا۔جس میں دس ہزار گنا زیادہ منافع ہے۔ہماری دعا ہے اللہ تبارک تعالیٰ ان کے ہاتھ سے دیا ہوا ساری زندگی کا صدقہ و خیرات قبول فرمائے۔ورنہ اب تو جس سے بھی جس شہر کا بھی حال پوچھو ایک ہی جواب ملتا ہے۔ پوچھا حال شہر تو سر جھکا کر بولے لوگ تو زندہ ہیں ضمیروں کا پتہ نہیں


تازہ ترین خبریں

الیکشن کمیشن کو دھمکانے کا کیس، فواد چوہدری کی ضمانت منظور

الیکشن کمیشن کو دھمکانے کا کیس، فواد چوہدری کی ضمانت منظور

خود کش حملہ آور پولیس لائنز میں کیسے داخل ہوا؟حیران کن انکشافات سامنے آگئے

خود کش حملہ آور پولیس لائنز میں کیسے داخل ہوا؟حیران کن انکشافات سامنے آگئے

متحدہ عرب امارات  کو پاکستان کے 5 سرکاری اداروں کے شیئرز خریدنےکی پیشکش

متحدہ عرب امارات کو پاکستان کے 5 سرکاری اداروں کے شیئرز خریدنےکی پیشکش

سپریم کورٹ کا بڑا ایکشن، نیب ترامیم کے ذریعے ختم کئے جانیوالے کیسز کا ریکارڈ طلب

سپریم کورٹ کا بڑا ایکشن، نیب ترامیم کے ذریعے ختم کئے جانیوالے کیسز کا ریکارڈ طلب

ترجمان کی شاہدخاقان عباسی کے استعفے کی خبروں کی تردید

ترجمان کی شاہدخاقان عباسی کے استعفے کی خبروں کی تردید

گھر پر پولیس کا چھاپہ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کاسخت  ردعمل سامنے آگیا

گھر پر پولیس کا چھاپہ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کاسخت ردعمل سامنے آگیا

عمران درست کہتا ہے کہ زرداری اسے قتل کروانا چاہتا ہے،میں اپنے بیان پر قائم ہوں، شیخ رشید

عمران درست کہتا ہے کہ زرداری اسے قتل کروانا چاہتا ہے،میں اپنے بیان پر قائم ہوں، شیخ رشید

پولیس ہمارے گھر کیا بھارتی جاسوس ڈھونڈ رہی تھی، مونس الٰہی کا چھاپے پر ردعمل

پولیس ہمارے گھر کیا بھارتی جاسوس ڈھونڈ رہی تھی، مونس الٰہی کا چھاپے پر ردعمل

مریم نواز سے اختلافات شدید ۔۔۔مرکزی رہنما مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

مریم نواز سے اختلافات شدید ۔۔۔مرکزی رہنما مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی پارٹی عہدے سے مستعفی ہو گئے

آئی ایم ایف کا پاکستان پر بجلی مہنگی کرنے کیلیے دباؤ،روڈ میپ طلب کرلیا

آئی ایم ایف کا پاکستان پر بجلی مہنگی کرنے کیلیے دباؤ،روڈ میپ طلب کرلیا

بجلی بریک ڈاؤن،نیپرا نے سارا ملبہ این ٹی ڈی سی پرڈال دیا

بجلی بریک ڈاؤن،نیپرا نے سارا ملبہ این ٹی ڈی سی پرڈال دیا

غیرملکی کمپنی انڈس موٹرز کا پلانٹس بند کرنے کا اعلان

غیرملکی کمپنی انڈس موٹرز کا پلانٹس بند کرنے کا اعلان

پاکستانی اداروں کی نجکاری ، پی ڈی ایم حکومت نےآئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

پاکستانی اداروں کی نجکاری ، پی ڈی ایم حکومت نےآئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

مسلم لیگ ق کی صدارت کا معاملہ، الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ، چوہدری شجاعت حسین صدر برقرار

مسلم لیگ ق کی صدارت کا معاملہ، الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ، چوہدری شجاعت حسین صدر برقرار