12:36 pm
انسانی ضروریات اور معاوضوں کا تفاوت

انسانی ضروریات اور معاوضوں کا تفاوت

12:36 pm

کراچی کے جناب افتخار احمد (باغ ملیر، کراچی) کی طرف سے بھجوایا جانے والا ایک استفسار مختلف مفتیان کرام کے ہاں زیرغور ہے جو مساجد اور دینی مدارس میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر حقوق کے معیار اور مقدار کے حوالے سے ہے۔ راقم الحروف کو بھی اس کی کاپی موصول ہوئی ہے، میں عام طور پر فتویٰ نہیں دیا کرتا البتہ ذاتی رائے کے طور پر اس بارے میں کچھ گزارشات افتخار احمد کو ان شاء اللہ ضرور بھجواؤں گا اور ان سے قارئین کرام کو بھی آگاہ کروں گا۔ سرِدست ان کا استفسار ملاحظہ فرمائیے اور داد دیجئے ان سینکڑوں این جی اوز کو جو دینی مدارس کی خامیوں کو اجاگر کرنے میں سالہا سال سے دن رات مصروف ہیں لیکن یہ پہلو آج تک ان کی توجہ حاصل نہیں کر سکا۔
تیرہ چودہ سال پہلے ایک استفسار اس حوالے سے سامنے آیا تھا کہ تنخواہوں اور اخراجات میں ہوشربا تفاوت کا حل کیا ہے؟ بالخصوص دینی شعبوں میں محنت کرنے والے حضرات جس معاشی دباؤ اور کسمپرسی کا شکار ہیں اہلِ علم اور اہلِ فتوٰی کو اس سلسلہ میں معاشرہ کی راہنمائی کرنی چاہیے۔ یہ استفسار ایک بار پھر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:’’کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:آج کے اس ہوشربا مہنگائی کے دور میں جس میں کہ روز بروز مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے، آئمہ مساجد، مؤذنین و خادمین مساجد، علماء کرام جو کہ متفرق شعبہ جات مثلاً حدیث، فقہ، صرف و نحو، عربی، تفسیر، تصنیف و تالیف، افتاء اور دینی ادارے کے ترجمان ماہانہ رسائل وغیرہ میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں، یا ناظم تعلیمات، نگران، اکاؤنٹنٹ، دفتری امور کلرک، قاصد، گارڈ، چوکیدار، یا مدارس درجہ ناظرہ ہو یا حفظ و شعبہ تجوید و خطاطی کا، یا نان بائی و باورچی وغیرہ وغیرہ کے امور دینی مدارس و مساجد میں انجام دے رہے ہیں، ان کی تنخواہوں کا ماہانہ معیار کیا ہونا چاہیے؟ علماء و مفتیان کرام وغیرہ جو کہ کم و بیش دس سے بارہ سال کے عرصہ میں ادارے سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، یا چند سالوں میں حفاظ و قراء بننے والے حضرات ہوتے ہیں، ان کو اکثر دینی مداس و مساجد میں آج کے اس شدید ترین مہنگائی کے دور میں بھی 4000سے 6000روپے ماہانہ تنخواہ بھی بڑی مشکل سے دی جا رہی ہے بلکہ بعض مدارس و مساجد میں اس سے بھی کم ہے۔ جبکہ اتنے ہی عرصہ میں دنیاوی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل شخص کو علماء کرام وغیرہ کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ماہانہ تنخواہ (اکثر دنیاوی کمپنیوں، اداروں یا بینک وغیرہ میں) دیگر سہولیات مثلاً علاج معالجہ، گھر، گاڑی، پیٹرول، ڈرائیور وغیرہ وغیرہ کے ساتھ دی جا رہی ہیں۔ تو معلوم یہ کرنا ہے: (الف) کیا یہ دنیا دار لوگوں کے مقابلہ میں دینی حضرات کی بذات خود بھی اور ان کے مناصب کی توہین نہیں ہے؟ (ب) کیا اس طرح کا عمل جائز ہے یا ناجائز اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے گی؟ (ج) اگر مساجد و مدارس و دینی ادارے کی انتظامیہ کے پاس فنڈ ہوتا ہو لیکن تنخواہیں پھر بھی کم دی جاتی ہوں اور وہ بھی بغیر کسی سہولیات کے تو ان کے بارے میں قرآن و حدیث کیا کہتے ہیں؟ حقوق العباد سے متعلق بھی فرمائیں نیز ماتحتوں سے متعلق سلوک کے بارے میں بھی فرمائیں۔ (د) آج کے اس گرانی کے دور میں ایک انگوٹھا چھاپ، تعلیم سے بے بہرہ، جاہل گنوار عام سا مزدور بھی جو کہ کسی راج مستری، الیکٹریشن، پلمبر، کار پینٹر وغیرہ کا ہیلپر ہوتا ہے وہ بھی یومیہ 400 روپے اجرت لے رہا ہے، جبکہ ایک کاریگر راج مستری، الیکٹریشن، کارپینٹر وغیرہ یومیہ آٹھ سے نو گھنٹے کام کرنے کی اجرت 700سے 1000روپے لے رہے ہیں۔ اگر ان کی یومیہ اجرت کے حساب سے ماہانہ رقم اور دینی مدارس و مساجد میں خدمات انجام دینے والوں کو ماہانہ تنخواہ کو مدنظر رکھتے ہوئے 4000سے 6000 جو کہ عموماً مدارس و مساجد میں دی جا رہی ہیں، اگر کوئی شخص اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے بجائے دنیاوی تعلیم ہی دلوائے، یا راج مستری، الیکٹریشن، پلمبر، کارپینٹر وغیرہ بنوانا شروع کر دے کہ میرا بچہ کم از کم مالی لحاظ سے پریشان حال اور تنگ دست تو نہیں ہوگا (دنیاوی اسباب کے لحاظ سے) تو اس دین کی تعلیم سے بے رغبتی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ دینی اداروں کے مہتمم حضرات اور ان کی انتظامیہ بھی اگر ادارے میں کوئی بجلی کا کام، پلمبری کا کام، رنگ و روغن، کارپینٹر یا راج مستری وغیرہ سے متعلق کوئی کام نکلتا ہے تو ان مزدوروں کو چند گھنٹوں سے لے کر آٹھ نو گھنٹوں کی اجرت بخوشی 700 سے 1000 روپے تک یومیہ ادا کرتے ہیں، نیز کاریگر کے ساتھ ہیلپر کی اجرت بھی 400 روپے یومیہ ادا کی جاتی ہے۔ جبکہ ان کے مقابلے میں متفرق شعبہ جات کے اساتذہ کرام و علماء کرام، ائمہ مساجد وغیرہ کو ان سے کہیں زیادہ وقت دینے کے باوجود یومیہ اس کی آدھی اجرت بھی ادا نہیں کی جاتی۔ اس کی جوابدہی کس پر ہوگی؟ کیا یہ عمل قرآن و حدیث اور ان کی تعلیم دینے والوں کی تذلیل کے زمرے میں نہیں آئے گا کہ پیٹ، اہل و عیال اور بنیادی ضروریات زندگی کے اخراجات کی تکمیل جیسے مسائل سبھی کے ساتھ ہیں۔ کسی دینی یا دنیاوی اداروں میں ایک شخص تین مختلف شعبہ جات میں اپنے فرائض منصبی مکمل طور پر ادا کرتا ہے تو (الف) کیا وہ تینوں شعبہ جات کی علیحدہ علیحدہ اور پوری پوری تنخواہ لینے کا حقدار نہیں ہے؟ (ب) کیا ایک ادارے سے کسی ملازم کو مختلف شعبہ جات میں متفرق امور انجام دینے پر ایک سے زائد تنخواہ دینا ناجائز و حرام ہے؟ مثلاً ایک دینی ادارے میں مسمیٰ زید کو تین مختلف اور اہم شعبہ جات (۱) مدرس قرآن کریم تقرر ملازمت ۱۸ مارچ ۱۹۸۲ء (۲) کارہائے خصوصی تقرر ملازمت یکم دسمبر 1983ء جس کے تحت ناظم تعلیمات، ناظم تعمیرات، نگران، دفتری امور کلرک وغیرہ کے کام بھی آجاتے ہیں (۳) پیش امام و خطیب تقرر ملازمت 10 اکتوبر 1985ء۔ تینوں ملازموں پر علیحدہ علیحدہ ماہانہ تنخواہ پر تقرر کیا گیا ہے اور تینوں ملازمتوں کا عرصہ چوبیس سال سے اٹھائیس سال ہو چکا ہے اور وہ شخص دیگر ملازمین کے مقابلہ میں ہر ملازمت کے امور احسن طریقہ سے پوری دیانتداری اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہا ہے۔(جاری ہے)


تازہ ترین خبریں

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا جیل بھرو تحریک کا اعلان

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا جیل بھرو تحریک کا اعلان

عمران خان کی نااہلی متوقع،پی ڈی ایم ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لے، فضل الرحمن کا شہباز شریف کو مشورہ

عمران خان کی نااہلی متوقع،پی ڈی ایم ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لے، فضل الرحمن کا شہباز شریف کو مشورہ

قتل  ہوا  تو  ذمہ دار آصف زرداری، بلاول، شہباز اور رانا ثنا اللہ ہوں گے، شیخ رشید   کا دعویٰ

قتل ہوا تو ذمہ دار آصف زرداری، بلاول، شہباز اور رانا ثنا اللہ ہوں گے، شیخ رشید کا دعویٰ

وزیرخزانہ اسحاق ڈار اپنے معاشی اعداد وشمار درست کریں، شوکت ترین کی تنقید

وزیرخزانہ اسحاق ڈار اپنے معاشی اعداد وشمار درست کریں، شوکت ترین کی تنقید

ہرجانہ کیس ، افتخار چوہدری کے اعتراض پر عمران خان کیخلاف بینچ تبدیل

ہرجانہ کیس ، افتخار چوہدری کے اعتراض پر عمران خان کیخلاف بینچ تبدیل

انتقامی کارروائیوں سے معیشت بہتر نہیں ہوگی،حکومت الیکشن کا اعلان کرے مذاکرات  کیلئے تیار ہیں، فیصل جاوید

انتقامی کارروائیوں سے معیشت بہتر نہیں ہوگی،حکومت الیکشن کا اعلان کرے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، فیصل جاوید

تحریک انصاف کے سابق ارکان قومی اسمبلی سے پارلیمنٹ لاجز کے کمرے خالی کروالئے گئے

تحریک انصاف کے سابق ارکان قومی اسمبلی سے پارلیمنٹ لاجز کے کمرے خالی کروالئے گئے

شیخ رشید  اسلام آباد کے کسی تھانے میں موجود نہیں، راشد شفیق کا دعویٰ

شیخ رشید اسلام آباد کے کسی تھانے میں موجود نہیں، راشد شفیق کا دعویٰ

حکومتی ترجیحات امن نہیں، مقدمات ہیں، ہمیں کسی اور کی جنگ کاایندھن بنایا جارہا ہے، مراد سعیدکا انکشاف

حکومتی ترجیحات امن نہیں، مقدمات ہیں، ہمیں کسی اور کی جنگ کاایندھن بنایا جارہا ہے، مراد سعیدکا انکشاف

مہنگائی میں اضافے سے عوام کو تکلیف پہنچی ،ہم سب جانتے ہیں، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

مہنگائی میں اضافے سے عوام کو تکلیف پہنچی ،ہم سب جانتے ہیں، وزیرخزانہ اسحاق ڈار

سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کیخلاف کراچی میں مقدمہ درج ، پولیس گرفتاری کیلئے اسلام آباد پہنچ گئی

سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کیخلاف کراچی میں مقدمہ درج ، پولیس گرفتاری کیلئے اسلام آباد پہنچ گئی

کوہاٹ تاندہ  ڈیم خادثہ ، آخری طالب علم  کی لاش 6 روز بعد  نکال لی گئی،جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 53 ہو گئی

کوہاٹ تاندہ ڈیم خادثہ ، آخری طالب علم کی لاش 6 روز بعد نکال لی گئی،جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 53 ہو گئی

معروف اینکر عمران ریاض خان کیخلاف مقدمہ خارج ، عدالت کا فوری رہا کرنے کا حکم

معروف اینکر عمران ریاض خان کیخلاف مقدمہ خارج ، عدالت کا فوری رہا کرنے کا حکم

شیخ رشید کی مشکلات میں مزید اضافہ، مری میں بھی مقدمہ درج

شیخ رشید کی مشکلات میں مزید اضافہ، مری میں بھی مقدمہ درج