02:09 pm
   محترمہ مریم نواز

محترمہ مریم نواز

02:09 pm

ایک بہت بہادر ،سخت جان ، دریدہ دہن خاتون جسے سیاستدان کہنا لفظ سیاست کی حرمت کوپامال کرنے کے مترادف ہے کہ سیاست تو سائیس سے نکلا ہے ،سائیس کامطلب سدھانا،سکھانا اور تربیت کرناہے ۔ گھوڑے کو شہ سواری کی تربیت دینے والے کو سائیس کہتے ہیں اور عوام کو جمہوری آداب معاشرت سکھانے والے یا والی کو سیاستدان کہتے ہیں ۔اس لحاظ سے یہ بہت ذمہ داری سے لدا لفظ ہے ۔ یہ بھی ایک مبرہن حقیقت ہے کہ والدین کو جس بچے کی صلاحیتوں پر زیادہ زعم ہوتا ہے اس کو بھاری ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں ۔ مریم نواز شریف وہ خوش نصیب خاتون ہیں جن پر ان کے والد میاں شریف کو بہت فخر ہے اسی لئے سیاست میں وہ اپنے چھوٹے بھائی سے بڑھ کر اپنی اس بیٹی کو اہمیت دیتے ہیں ،اس سلسلے میں انہوں نے اپنی نرینہ اولاد کو کبھی اعتنا کے قابل نہیں سمجھا ۔
7دسمبر 1913ء کو اپنی وزارت عظمیٰ کے چوتھے دور میں انہوں نے مریم نواز کی خواہش اور تمنا کی خاطر وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کا اجرا کیااپنی ہونہار دخترمریم نواز کو اس کی چیئرپرسن بنا دیا ۔سکیم کا مقصد بہت عظیم تھا کہ ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بچے اور بچیاں جو بے روزگاری کے دشت بے اماں میں ماری ماری پھرتی ہیں انہیں روزگار دے کر ملکی ترقی وخوشحالی کے دھارے میں شامل کیا جائے اور دختر نیک اختر نے سر دست کام شروع کردیا غالباً ایک سورپے مالیت کے لاکھوں فارم ملک کے طول و عرض میں پھیلا دیئے گئے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار بچے بچیاں بیروزگاری کے عفریتوں سے نجات کے لئے دھڑا دھڑ فارم خریدنے لگے یوں دیکھتے ہی دیکھتے لگ بھگ ستر کروڑ مریم نواز کی سکیم کی زنبیل میں ڈل گیا ۔مگر شومئی قسمت ابھی قرضوں کا اجرا نہیں ہوا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعظم کی صاحبزادی کی بحیثیت چیئرپرسن یوتھ لون اسکیم کو چیلنج کردیا گیا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے عدالت کوآگاہ کیا گیاکہ ’’چیئرپرسن یوتھ لون اسکیم ایک اعزازی عہدہ ہے اس کے پاس کوئی اختیار نہیں یہ فوکل پرسن ہیں جو وزیراعظم کے ساتھ شکایات کے ازالے کے لئے رابطہ رکھتی ہیں ۔‘‘ سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’’کیا میں اپنے باورچی کو فوکل پرسن قرار دے کر اس عہدے پر لگا سکتا ہوں ؟بہر حال حکومت اس عہدے کے لئے خود تبدیلی کا فیصلہ کرے گی یا عدالت اپنا فیصلہ سنائے۔‘‘ عدالت نے استفسار کیا کہ ’’کیا وزیراعظم کے خاندان کے افراد ہی اس عہدے کے لئے رہ گئے ہیں ؟‘‘ عدالت نے قرار دیا کہ ’’اس عہدے کے لئے ماہر شخص کی تعیناتی ہونی چاہئے ،جبکہ مریم نواز کی تعلیمی قابلیت مختلف ہے ۔‘‘ یوں حکومتی لیت و لعل کے باوجود مریم نواز کو پہلے مرحلے پر ہی فارغ کردیا گیا۔ بے نیل و مرام ہوجانے کا غم سہار نہ سکیں اور یہ مسئلہ محترمہ کے لئے ایک نفسیاتی عارضہ بن گیا اور کوئی ایسا عہدہ نہ تھا جو اسے تفویض کیا جاتا ،یوں بھی مسلم لیگ ن کے اقتدار کی کشتی ہچکولے لے رہی تھی وزیر اعظم نواز شریف بدعنوانی کے مقدمات کے بھنور میں ایسے پھنسے کہ آخر کار بیماریوں کے بہانے عدالتی مچلکوں پر چند ماہ کی رہائی کاپروانہ لئے انگلستان سدھار گئے اور پھروہیں کے ہوکر رہ گئے ۔کپتان کوبل میں گھس جانے کا طعنہ دینے والی مفرور باپ کو عدالتی حکم عدولی کی یاد دلانے سے صرف نظر ہی کرتی رہیں اور تو اور انہیں اپنے تہذیبی بانجھ پن کا احساس بھی کبھی نہ ہوا کہ وہ ایک اسلامک ریپبلک کے چار مرتبہ وزیراعظم رہنے والے باپ کی بیٹی ہیں ، مسلم لیگ نام کی سیاسی جماعت کی مرکزی نائب صدر اور چیف آرگنائزر کے عہدے کی پرواہ کبھی نہیں کی ، اپنے اور اپنے باپ کے جرائم پر ندامت کبھی محسوس نہیں کی ،تحریک انصاف کے چیئرمین پر توشہ خانے کے حوالے سے رقیق حملے کرنے میں کبھی ایک پل نہیں چوکی،زبان کی بے لگامی کی انتہا یہ ہے کہ اپنی ہی حکومت کے وزیر اعظم اپنے چچا شہباز شریف کی حکومت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ۔اس کی تعلیمی قابلیت کو تو 1913ء میں اعلیٰ عدالت نے محل نظر قرار دیا اب اس کی سیاسی بصیرت نے بھی ثابت کردیا ہے کہ اس کی جماعت نے اب تک کسی سطح کی اسمبلی ممبر شپ کے لئے اس کانام تجویز نہیں کیا اور اب جبکہ جہاں بھر میں اس کی یاوہ گوئی کاخوب چرچا ہے تو کیسے اسے قانون بنانے والے کسی ادارے کی رکن بنانے کا خطرہ مول لیا جاسکتا ہے ۔ یہاں اس بات کا اعادہ ضروری ہے کہ شیخ رشید، سعد رفیق ،مریم اورنگ زیب اور عمران خان نے ایوانوں کوجتنا بے وقار کیا ان سب پر مریم نواز سبقت لے گئی ہیں ۔شکر ہے آج نواب زادہ نصراللہ خان زندہ نہیں وگرنہ وہ اس دکھ سے ہی مر جاتے ۔گفتگو کی شائستگی ، مروت ، بردباری اور اسلامی اقدارو روایات اس قدرپامالی وہ کیسے سہار سکتے کہ جن کی زبان سے نکلے ہوئے ہر ہر حرف سے محبت کی خوشبو آتی تھی جو سیاسی کارکنوں کے مشام جاں کو معطر کردیتی تھی ،خواجہ رفیق اور ولی خان صاحب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔اس کے برعکس آج چوٹی کے سیاستدان جب سیاسی اجتماعات سے خطاب کرتے ہیں تو لگتا ہے تعفن کے ڈھیروں سے پالا پڑا ہے ۔الامان الحفیظ

تازہ ترین خبریں

کنٹینر جلانے کا معاملہ ، میاں محمود الرشید کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا

کنٹینر جلانے کا معاملہ ، میاں محمود الرشید کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا

زلزلہ یا قدرتی آفات ،ہنگامی صورتحال میں جاپان شہریوں کو خوراک مفت فراہم  کرے گا

زلزلہ یا قدرتی آفات ،ہنگامی صورتحال میں جاپان شہریوں کو خوراک مفت فراہم کرے گا

پی ٹی آئی کا 9 مئی کوریاست پر حملہ تھا،انسانی حقوق پر واویلا گمراہ کن ، شہبازشریف

پی ٹی آئی کا 9 مئی کوریاست پر حملہ تھا،انسانی حقوق پر واویلا گمراہ کن ، شہبازشریف

ٹویوٹا، اسوزو اور فورڈ  کو بڑا چیلنج،کیا کمپنی نے  پک اپ ٹرک متعارف کرانے کا اعلان کردیا

ٹویوٹا، اسوزو اور فورڈ کو بڑا چیلنج،کیا کمپنی نے پک اپ ٹرک متعارف کرانے کا اعلان کردیا

وزیر اعظم شہبازشریف سے  مولانا فضل الرحمان کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پرگفتگو

وزیر اعظم شہبازشریف سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پرگفتگو

جہانگیر ترین سے  کوئی تعلق نہیں، فواد چوہدری  سے  رابطوں میں ہوں، اسد عمر

جہانگیر ترین سے کوئی تعلق نہیں، فواد چوہدری سے رابطوں میں ہوں، اسد عمر

جناح ہائوس حملہ کیس میں اہم پیشرفت،ڈاکٹر یاسمین راشد کو مقدمے سے ڈسچارج کردیاگیا

جناح ہائوس حملہ کیس میں اہم پیشرفت،ڈاکٹر یاسمین راشد کو مقدمے سے ڈسچارج کردیاگیا

پرویز الٰہی کو اربوں روپے کی کرپشن پر گرفتارکیا،میاں جاوید لطیف

پرویز الٰہی کو اربوں روپے کی کرپشن پر گرفتارکیا،میاں جاوید لطیف

سپریم کورٹ کی آئندہ ہفتے کیلئےججز روسٹراور کاز لسٹ جاری

سپریم کورٹ کی آئندہ ہفتے کیلئےججز روسٹراور کاز لسٹ جاری

حکومت کا ظلم مزید برداشت نہیں کریں گی،رہنما پی ٹی آئی خواتین

حکومت کا ظلم مزید برداشت نہیں کریں گی،رہنما پی ٹی آئی خواتین

بزدار روحانی طریقے سے وزیراعلیٰ بنے کبھی سیاست تو کی ہی نہیں  تھی ، منظور وسان

بزدار روحانی طریقے سے وزیراعلیٰ بنے کبھی سیاست تو کی ہی نہیں تھی ، منظور وسان

پی ٹی آئی میں پت جھڑ کا سلسلہ جاری،مزید تین ارکان  ساتھ چھوڑگئے

پی ٹی آئی میں پت جھڑ کا سلسلہ جاری،مزید تین ارکان ساتھ چھوڑگئے

وزیر اعظم شہباز شریف کا 2روزہ دورہ  ترکیہ ، انقرہ پہنچ گئے،آج اہم ملاقاتیں متوقع

وزیر اعظم شہباز شریف کا 2روزہ دورہ ترکیہ ، انقرہ پہنچ گئے،آج اہم ملاقاتیں متوقع

چوہدری پرویز الہیٰ کو نے ایک اور مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا

چوہدری پرویز الہیٰ کو نے ایک اور مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا