12:35 pm
اس حمام میں …

اس حمام میں …

12:35 pm

(گزشتہ سے پیوستہ) بخاری کی ایک حدیث کے مطابق زکوٰۃ کی وصولی پر مامور ایک صحابیؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وصول کردہ زکوٰۃ کا مال لائے اور ساتھ ہی کچھ تحائف بھی جن کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ صدقات کے علاوہ لوگوں نے یہ تحائف مجھے ذاتی طور پر دیئے ہیں جس پر حضورﷺ نے انہیں متنبہ کیا کہ یہ تحائف تمہیں نہیں تمہارے منصب کو ملے ہیں لہٰذا تمہارا کوئی حصہ ان میں نہیں، یہ سب سرکاری خزانے میں جمع ہوںگے۔ اس بناپر پارلیمان کو قانون سازی کرکے توشہ خانے کو مکمل طور پر سرکاری خزانے کا حصہ قرار دینا چاہئے اور ان تحائف کو قیمتاً بھی گھر لے جانے کا راستہ مکمل طور پر بند کردیناچاہیے نیز جن لوگوں نے بلاقیمت یا کم قیمت دے کر تحائف لئے ہیں انہیں ان کی پوری رقم قومی خزانے میں جمع کرانی چاہئے یا تحائف واپس کرنے چاہئیں۔توشہ خانہ کا اکیس سالہ ریکارڈ جو حال ہی میں وزیر اعظم کے حکم پر جاری کیا گیا ہے ثابت کرتا ہے کہ کس طرح حکمران خاندان اور ان کے اقربا اس قومی خزانے سے اپنے شوق پورے کرتے رہے ہیں۔ قیمتی گھڑیاں گاڑیاں زیورات اور بیش قیمتی آرائشی سامان بیرونی ممالک سے تحائف کی صورت میں ملنے والی نادر اشیا کی ایک لمبی فہرست ہے جو برائے نام ادائیگی پر ذاتی ملکیت میں شامل کر لی گئیں جبکہ ایک بڑی تعداد ایسی قیمتی اشیا کی بھی ہے جن کیلئے یہ تکلف بھی نہیں کیا گیا۔ دیکھا پسند کیا رکھ لیا۔ توشہ خانے کے اس ریکارڈ سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ ماضی کی حکومتیں کیوں اس تفصیل کو حساس معلومات قرار دے کر عوام کی نظروں سے چھپا کر رکھنا چاہتی تھیں اور اس کے اجرا کی ہر درخواست اسی بنا پر رد کی جاتی رہی۔
اس اکیس سالہ ریکارڈ کے منظر عام پر آنے کے بعد حکمران طبقے کے افراد کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو توشہ خانہ کا طعنہ دینا بند کر دیں کیونکہ 2002 ء سے رواں سال تک کے حکمرانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا نام 466 صفحات کی اس دستاویز کے مطابق توشہ خانہ سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں۔سفارتی روایت ہے کہ حکمران یا ملکی نمائندگان کو بیرونِ ملک دوروں کے مواقع پر تحائف پیش کیے جاتے ہیں۔ جس طرح ہمارے رہنماوں کو باہر سے تحفے ملتے ہیں اسی طرح ہمارے ہاں آنے والی شخصیات کو بھی حسبِ مراتب تحائف دیے جاتے ہیں۔ مگریہ تحائف کسی شخص کے لیے نہیں اس کے عہدے کیلئے اور جس ریاست کی وہ نمائندگی کرتا ہے اس کے لئے ہوتے ہیں؛ چنانچہ یہ ماننے میں کوئی قباحت نہیں کہ یہ تحائف ہر لحاظ سے قومی دولت کا حصہ ہیں اس لیے یہ خزانہ حکمرانوں اور ان کے قریبی اعزہ و اقربا کے رحم و کرم پر چھوڑ نے کے بجائے ضروری ہے کہ اس معاملے میں معقول اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق طریقہ کار وضع کیا جائے۔ اب تک جو اصول رائج ہے بادی النظر میں یہ شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کرتا اور اس قومی دولت کی بندر بانٹ کی راہ ہموار کرتا ہے جس سے پیدا ہونے والے سکینڈلز ملک اور سیاسی قائدین کے تشخص کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ کسی دوست ملک سے ملنے والی کسی قیمتی شے کی شفاف انداز سے نیلا می اور اس رقم کو قومی خزانے میں شامل کرنا دوست ملک کیلئے باعثِ رنج نہیں باعثِ اطمینان ہو گا مگر یہی چیز اگر غیر شفاف انداز سے توشہ خانے سے اُچک لی جائے اور تنازعات کا موضوع بنے تو اس سے قومی امیج کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ توشہ خانے کے قواعد و ضوابط کو تبدیل کیا جائے اور تحفے کی اصل قیمت کے چند فیصد کے برابر ادا کر کے اسے اپنے پا س رکھنے کے بجائے ہر تحفے کی کھلی نیلامی کا اصول لاگو کیا جائے۔ اس مد میں حاصل ہونے والی رقم پاکستان کی جانب سے دیے جانے والے تحائف میں کام آ سکتی ہے۔ توشہ خانے کے ریکارڈ کو عوامی پہنچ سے دور رکھنا بھی ہر گز قومی مفاد کا تقاضا نہیں۔ قومی مفاد شفافیت کو یقینی بنانے میں ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ عوام کی نظریں ان معاملات پر رہیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں قوی امکان ہے کہ بیرونِ ملک سے ملنے والے تحائف کے معاملے میں شفافیت کا عنصر غالب رہے۔ قومی مفاد کے نام پر حساس معلومات قرار دے کر ان تفصیلات کو عوام کیلئے ناقابلِ رسائی بنادینے کا مطلب تو یہ ہے کہ حکمران طبقے کو اپنی مرضی سے قومی دولت کے اس حصے کے حصے بخرے کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے جو ہم نے 466 صفحات کی اس دستاویز میں دیکھ لیا ہے۔ اگر چہ یہ ایک نامکمل رپورٹ ہے مگر اسے مشتے نمونہ از خروارے سمجھا جائے۔ حیرت ہے کہ ہمارے حکمران اور ان کے اقربا بیرونِ ملک سے ملنے والے بیش قیمت تحائف کے حصول میں کس قدر جلد باز واقع ہوئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں

ٹیکس چوری روکنے کیلئے نئے اقدامات، نان فائلرز سے زیادہ وصولی کی تجاویز

ٹیکس چوری روکنے کیلئے نئے اقدامات، نان فائلرز سے زیادہ وصولی کی تجاویز

عمران خان کے گھر سرچ آپریشن کی پولیس درخواست منظور

عمران خان کے گھر سرچ آپریشن کی پولیس درخواست منظور

حکومت کا آڈیو لیکس کمیشن بینچ پر اعتراض،نیا بینچ تشکیل دینے کی استدعا

حکومت کا آڈیو لیکس کمیشن بینچ پر اعتراض،نیا بینچ تشکیل دینے کی استدعا

انتشار پھیلانے والوں کیساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے، وزیراعظم شہبازشریف

انتشار پھیلانے والوں کیساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے، وزیراعظم شہبازشریف

پی ٹی آئی نے جھوٹی پریس کانفرنس کرنے پر عبدالقادر پٹیل کو 10 ارب ہرجانے کا نوٹس بھجوادیا

پی ٹی آئی نے جھوٹی پریس کانفرنس کرنے پر عبدالقادر پٹیل کو 10 ارب ہرجانے کا نوٹس بھجوادیا

مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے تشکیل کمیٹی  عدالت میں چیلنج

مبینہ آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے تشکیل کمیٹی عدالت میں چیلنج

عمران خان   ناراض ، ڈاکٹر عارف علوی سے بات کرنا چھوڑ دیا

عمران خان ناراض ، ڈاکٹر عارف علوی سے بات کرنا چھوڑ دیا

عالمی مالیاتی ادارے کی آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے انوکھی شرط سامنے آگئی

عالمی مالیاتی ادارے کی آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کیلئے انوکھی شرط سامنے آگئی

سپیکر ، ڈپٹی سپیکرگلگت بلتستان آمنے سامنے ، سپیکرکیخلاف عدم اعتماد تحریک آج پیش کی جائےگی

سپیکر ، ڈپٹی سپیکرگلگت بلتستان آمنے سامنے ، سپیکرکیخلاف عدم اعتماد تحریک آج پیش کی جائےگی

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف آج کوئٹہ کا دورہ کریں گے

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف آج کوئٹہ کا دورہ کریں گے

فواد چوہدری ، پرویزخٹک ، اسد عمر کو القادر ٹرسٹ کیس میں پیش ہونے کے نوٹس جاری

فواد چوہدری ، پرویزخٹک ، اسد عمر کو القادر ٹرسٹ کیس میں پیش ہونے کے نوٹس جاری

میری پوزیشن اس وقت کمزور ہو گی جب۔۔۔!!!عمران خان نے خود ہی بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

میری پوزیشن اس وقت کمزور ہو گی جب۔۔۔!!!عمران خان نے خود ہی بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

وزیراعظم کسی عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں،عرفان قادر

وزیراعظم کسی عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں،عرفان قادر

نو مئی سانحہ قابل مذمت، پی ڈی ایم منافقت سے کام لے رہی ہے، پی ٹی آئی سینیٹرز

نو مئی سانحہ قابل مذمت، پی ڈی ایم منافقت سے کام لے رہی ہے، پی ٹی آئی سینیٹرز