12:38 pm
تدبرکامہینہ۔۔۔۔ ۔رمضان الکریم

تدبرکامہینہ۔۔۔۔ ۔رمضان الکریم

12:38 pm

(گزشتہ سے پیوستہ) آپ اپنے اور کائنات کے مابین موازنہ کیجیے اورقرآن کے الفاظ میں اپنے آپ سے دریافت کیجیے،تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یاآسمان کی؟اللہ نے اس کوبنایا، اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھراس کاتوازن قائم کیا،اوراس کی رات ڈھانکی اور اس کادن نکالا۔اس کے بعد اس نے زمین کوبچھایا،اس کے اندرسے اس کاپانی اورچارہ نکالا،اورپہاڑاس میں گاڑ دئیے سامانِ زیست کے طورپرتمہارے لیے اورتمہارے مویشیوں کے لئے(النزعت)قرآن مجیدمیں غورکرنا چاہیے۔ کیااِن لوگوں نے قرآن پر غورنہیں کیا،یادلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟(محمد)
انسان اپنے رب کی نافرمانی کرکے اپنے ساتھ خودزیادتی کرتاہے۔سوال یہ ہے کہ انسان خیانت کیوں کرتاہے؟اپنے پروردگارکی معصیت کیوں کرتا ہے؟ وہ تکبرکیوں کرتاہے؟اپنے آپ کوبڑا کیوں سمجھتا ہے؟ کیاغوروفکرتجھے اللہ کے شایانِ شان قدردانی کی دعوت نہیں دیتاکہ تواللہ کی رحمت کی امیدرکھے اوراس کے عذاب سے ڈرے؟ قرآن نے اس ماہِ مبارک میں نازل ہوکرتجھے وہ کچھ بتادیاجوتونہیں جانتاتھااوریوں اللہ نے تجھ پرفضلِ عظیم کیااورمجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ گزشتہ صدی میں ربِ کریم نے پاکستان کی شکل میں براعظم کے مسلمانوں پرپاکستان جیسی معجزاتی ریاست جیسافضل عظیم فرمایا۔ اس عظیم خیرکے لئے ہم نے اپنے رب سے بڑی مناجات،قربانیوں اوردعائوں میں ایک ایسے خطہ ارض مانگااورمیرے رب نے وہ ہمیں عطاکیا۔ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کس دن معرض وجودمیں آیا۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے 14اگست، بروز جمعرات ، صبح نوبجے دستورساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں مائونٹ بیٹن نے آزادی اورانتقالِ اقتدارکااعلان کیا۔ قیامِ پاکستان کے لئے مڈنائٹ کاوقت طے ہواتھا۔ 14 اور15اگست کی درمیانی شب مطابق27 رمضان المبارک 1366ھ رات ٹھیک بارہ بجے دنیاکے نقشے پرایک آزاداورخودمختار اوردنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت کااضافہ ہوا،جس کا نام ’’پاکستان‘‘ہے۔ آزادی کااعلان صبح دستورسازاسمبلی میں ہوچکاتھا۔پاکستان کے پرچم کی منظوری دستور ساز اسمبلی سے 12اگست کولی جاچکی تھی۔چنانچہ کراچی میں 14اگست کوقائدِاعظمؒ قومی پرچم لہرانے گئے تو مولانا شبیراحمدعثمانی کوساتھ لے گئے اورانہی سے پرچم کشائی کی رسم اداکروائی۔ قائدِاعظمؒ کے حکم پر ڈھاکہ میں مولانا اشرف علی تھانوی کے خواہر زادے مولانا ظفر احمدعثمانی نے پاکستان کاپرچم لہرانے کا اعزازحاصل کیا۔آزادی اور انتقالِ اقتدارکا اعلان اورپاکستان کے پرچم لہرانے کی رسم14 اگست کوہوئی اور 14اگست کے دن26 رمضان تھا ۔ دوپہر2بجے مائونٹ بیٹن دہلی روانہ ہوگئے، جہاں اسی رات12بجے بھارت کی آزادی کے اعلان کے ساتھ انہیں گورنرجنرل کامنصب سنبھالنا تھا۔ 15-14اگست کی درمیانی شب لاہور، پشاور اورڈھاکہ کے ریڈیوسٹیشنوں سے رات گیارہ بجے آل انڈیاریڈیوسروس نے اپنا آخری اعلان نشرکیا۔ 12بجے سے کچھ لمحے پہلے ریڈیوپاکستان کی شناختی دھن بجائی گئی اورظہورآذرکی آوازمیں انگریزی زبان میں اعلان گونجاکہ آدھی رات کے وقت پاکستان کی آزاد وخودمختارمملکت وجود میں آئے گی۔رات کے ٹھیک 12بجے پہلے انگریزی اورپھراردومیں یہ الفاظ گونجے، یہ پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ہے۔ فوراً بعدمولانا زاہرالقاسمی نے قرآن مجید کی سورہ فتح کی آیات تلاوت فرمائیں ۔15اگست کو جمعۃ الوداع تھا۔اسی دن پاکستان کاپہلا سرکاری گزٹ شائع ہوا چنانچہ 15-14اگست کی درمیانی شب’’'لیلۃ القدر‘‘ تھی۔ مجھے پروفیسر مرزا محمدمنور مرحوم ماہرِاقبالیات اور ماہرِ تحریکِ پاکستان اور قائداعظمؒ کے الفاظ یاد آرہے ہیں جو انہوںنے اپنی کتاب ’’حصارِ پاکستان‘‘کے صفحہ نمبر194پر لکھے: لاکھ لاکھ شکر اس خدائے مہربان کا جس نے اولادِآدم کی دائمی ہدایت کے لئے قرآن الفرقان ،ماہِ رمضان کی آخری متبرک راتوں میں سے ایک میں نازل کرنا شروع کیا، اسی طرح لاکھ لاکھ شکر خدائے رحمن کا جس نے رمضان ہی کے ماہ مبارک کی آخری مقدس راتوں میں سے ایک میں امتِ مسلمہ کو پاکستان عظیم الشان کی نعمت مترقبہ سے نوازا۔ یقیناانسان اپنے رب کی نافرمانی کرکے اپنے ساتھ خودزیادتی کرتاہے۔سوال یہ ہے کہ انسان خیانت کیوں کرتاہے؟اپنے پروردگارکی معصیت کیوں کرتا ہے ؟ وہ تکبرکیوں کرتاہے؟ اپنے آپ کو بڑاکیوں سمجھتاہے؟ کیاغوروفکرتجھے اللہ کے شایانِ شان قدردانی کی دعوت نہیں دیتاکہ تواللہ کی رحمت کی امید رکھے اوراس کے عذاب سے ڈرے؟ قرآن نے اس ماہِ مبارک میں نازل ہوکرتجھے وہ کچھ بتادیا جو تونہیں جانتاتھااوریوں اللہ نے تجھ پرفضلِ عظیم کیا۔ امام ابن قیم فرماتے ہیں،سب سے عجیب بات یہ ہے کہ تم اللہ کوجانتے ہواورپھراس سے محبت نہیں کرتے۔ اس کے منادی کی پکارسنتے ہواورپھر جواب دینے اورلبیک کہنے میں تاخیر سے کام لیتے ہو۔تمہیں معلوم ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں کتنا نفع ہے مگرتم دوسروں کے ساتھ معاملہ کرتے پھرتے ہو۔تم اس کے غضب کی جانتے بوجھتے مخالفت کرتے ہو۔تمہیں معلوم ہے کہ اس کی نافرمانی کی سزاکتنی بھیانک ہے مگرپھربھی تم اس کی اطاعت کرکے اس کے طالب نہیں بنتے ہو۔افسوس کہ تم اس ماہ مبارک کے قیمتی لمحات ضائع کردیتے ہواوران کے دوران اللہ کے قرب کوتلاش نہیں کرتے۔ابن قیم نے کیاہی خوب فرمایا ہے: روزے داراپنے معبود کی خاطراپنی لذتوں کوترک کرتاہے۔وہ اللہ کی محبت اوراس کی رضاکواپنے نفس کی لذات پرترجیح دیتاہے۔ رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:جوکوئی بندہ، اللہ کے راستے میں ایک دن کاروزہ رکھتاہے،تواس دن کی وجہ سے اللہ جہنم کو اس شخص سے 70خریف دورکر دیتاہے۔ امام حسن البنافرماتے ہیں،لوگ دوقسم کے ہیں۔ایک وہ جوکوئی بھلائی کرتاہے یانیکی کی بات کرتاہے توچاہتاہے کہ اس کافوری معاوضہ ملے۔ اس کے بدلے میں مال ملے جسے وہ جمع کرے، یااسے شہرت ونیک نامی ملے،یااسے کوئی مرتبہ وعہدہ ملے،یا اسے کوئی لقب ملے کہ اس لقب کے ساتھ اس کاشہرہ ہرطرف ہو۔دوسراوہ ہے جس کاہرقول وفعل محض اس لیے ہوتاہے کہ وہ خیرکوخیر ہونے کی وجہ سے چاہتاہے۔وہ حق کا احترام کرتا ہے اورحق سے اس کے حق ہونے کی وجہ سے محبت کرتاہے۔اسے معلوم ہے کہ دنیاکے معاملے کا سدھار صرف اورصرف حق وخیرسے ہی ہے۔ انسان کی انسانیت دراصل یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو حق وخیر کے لئے وقف کردے۔ آپ ان دوقسموں میں سے کون سی قسم کے مسلمان بنناچاہتے ہیں؟کتنااچھاہوکہ آپ دوسری قسم میں داخل ہوں اورایسے مسلمان بن جائیں جوحکم کو بجا لاتا ہے،جس سے منع کیاگیا ہے اسے ترک کردیتاہے، جوکچھ مل گیاہے اس پرصبر کرتاہے ۔انعام ملے توشکر کرتاہے،آزمائش آئے توصبرکرتا ہے،گناہ کرے تومغفرت طلب کرتاہے۔آپ بھی ایسے ہی ہو جائیے۔ ایسے لوگوں میں شامل ہوجائیے جن کادایاں ہاتھ صدقہ دے توبائیں کوخبرنہ ہو۔آپ کمزورکی مددکیجیے۔ صلہ رحمی کیجیے۔لوگوں کے بوجھ اٹھایئے، لوگوں کی حصولِ حق میں مدد کیجیے۔ضرورت مندکاساتھ دیجیے اوراس کی مدد کے لئے تعاون کیجیے۔یتیم کے سرپردستِ شفقت رکھیے،بیوہ کی سرپرستی کیجیے۔کشمیر، فلسطین،عراق، افغانستان، سوڈان،اریٹیریا اور صومالیہ کے اپنے بھائیوں کی غم خواری کیجیے۔دنیامیں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کی جان، مال، عزت وآبروخطرے میں ہے ان کے لئے دعائیں کیجیے۔آپ ان مظلوم مسلمانوں کے لئے دعا کیجیے،جن کے گھروں کومنہدم کیاگیااورانہیں ان کے علاقوں سے بے دخل کردیا گیا۔آپ صلاح الدین ایوبی کایہ قول یادرکھیے: میں کیسے ہنسوں،جب کہ اقصیٰ اسیرہے؟ رمضان کے اس پیغام اوروقت کی اس آوازکو توجہ سے سنیے اوراس پرغورکیجئے کہ کیاہم نے اس مہینے کاحق اداکردیا؟ اگرجواب مثبت ہے توآپ کامران وکامیاب ہیں اورآپ ناکام ونامراد نہ ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں

جناح ہائوس حملہ کیس میں اہم پیشرفت،ڈاکٹر یاسمین راشد کو مقدمے سے ڈسچارج کردیاگیا

جناح ہائوس حملہ کیس میں اہم پیشرفت،ڈاکٹر یاسمین راشد کو مقدمے سے ڈسچارج کردیاگیا

پرویز الٰہی کو اربوں روپے کی کرپشن پر گرفتارکیا،میاں جاوید لطیف

پرویز الٰہی کو اربوں روپے کی کرپشن پر گرفتارکیا،میاں جاوید لطیف

سپریم کورٹ کی آئندہ ہفتے کیلئےججز روسٹراور کاز لسٹ جاری

سپریم کورٹ کی آئندہ ہفتے کیلئےججز روسٹراور کاز لسٹ جاری

حکومت کا ظلم مزید برداشت نہیں کریں گی،رہنما پی ٹی آئی خواتین

حکومت کا ظلم مزید برداشت نہیں کریں گی،رہنما پی ٹی آئی خواتین

بزدار روحانی طریقے سے وزیراعلیٰ بنے کبھی سیاست تو کی ہی نہیں  تھی ، منظور وسان

بزدار روحانی طریقے سے وزیراعلیٰ بنے کبھی سیاست تو کی ہی نہیں تھی ، منظور وسان

پی ٹی آئی میں پت جھڑ کا سلسلہ جاری،مزید تین ارکان  ساتھ چھوڑگئے

پی ٹی آئی میں پت جھڑ کا سلسلہ جاری،مزید تین ارکان ساتھ چھوڑگئے

وزیر اعظم شہباز شریف کا 2روزہ دورہ  ترکیہ ، انقرہ پہنچ گئے،آج اہم ملاقاتیں متوقع

وزیر اعظم شہباز شریف کا 2روزہ دورہ ترکیہ ، انقرہ پہنچ گئے،آج اہم ملاقاتیں متوقع

چوہدری پرویز الہیٰ کو نے ایک اور مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا

چوہدری پرویز الہیٰ کو نے ایک اور مقدمہ میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی ومعاشی استحکام کیلئےنوازشریف جلد واپس آرہے ہیں،  مریم اورنگزیب

سیاسی ومعاشی استحکام کیلئےنوازشریف جلد واپس آرہے ہیں، مریم اورنگزیب

سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان

سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان

پارلیمنٹ لاجز میں رہائش پذیر رکن اسمبلی کو گیس کا بھاری بھرکم بل بھیجنے کا انکشاف

پارلیمنٹ لاجز میں رہائش پذیر رکن اسمبلی کو گیس کا بھاری بھرکم بل بھیجنے کا انکشاف

سینیٹ قائمہ کمیٹی توانائی میں مارشل لاکی بازگشت،سینیٹر سیف اللہ ابڑو افسران پربرہم

سینیٹ قائمہ کمیٹی توانائی میں مارشل لاکی بازگشت،سینیٹر سیف اللہ ابڑو افسران پربرہم

وزیر اعظم شہباز شریف کا  دورہ ترکیہ،  قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ ترکیہ، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

پاکستان میں سالانہ دو کے ٹو  پہاڑ کے مساوی پلاسٹک کا کچرا پیدا ہو رہا ہے، شیریں رحمان  

پاکستان میں سالانہ دو کے ٹو  پہاڑ کے مساوی پلاسٹک کا کچرا پیدا ہو رہا ہے، شیریں رحمان