حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری‘ فکر ولی اللہی کے مستند شارح

حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری‘ فکر ولی اللہی کے مستند شارح

2 months ago.

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کی وفات کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوریؒبھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے کے لگ بھگ حسب معمول نیند سے بیدار ہو کر موبائل فون کھولا تو کراچی کے ڈاکٹر ثنا اللہ محمود کے اکانٹ پر حضرت مفتی صاحب کے فرزند مولانا قاسم احمد پالنپوری کا میسج رنج و غم کا ایک نیا طوفان لیے نگاہوں کے سامنے موجود تھا کہ  انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ خبر صاعقہ اثر لکھی جا رہی ہے کہ ہمارے والد محترم حضرت مولانا مفتی سعید احمد  پالنپوریؒ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند آج بتاریخ 19 مئی مطابق25 رمضان المبارک بروز منگل بوقت چاشت اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مفتی صاحب کی علالت کی خبریں کئی روز سے آرہی تھی مگر گزشتہ روز ایک میسج نے تشویش میں اضافہ کر دیا تھا جو آج حقیقت میں بدل گئی اور عالم اسلام کی یہ عظیم علمی شخصیت، محدث، فقیہ، متکلم اور ہزاروں علما کرام کے شفیق استاذ اپنا سفر زندگی مکمل کر کے دار باقی کی طرف روانہ ہوگئے۔

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا تین نکاتی احتسابی فارمولا

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا تین نکاتی احتسابی فارمولا

2 months ago.

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ خاندان بنو امیہ کے نامور چشم و چراغ اور خلفاء اسلام میں مثالی کردار کے حامل حکمران شمار ہوتے ہیں، ان کا تعلق تابعین کے طبقہ سے ہے جو صحابہ کرامؓ کے بعد امت کا سب سے بہترین طبقہ ہے اور وہ اپنے دور کے ممتاز عالم دین، محدث اور صالح بزرگ تھے۔ ان کے والد عبد العزیزؒ کئی سال تک مصر کے گورنر رہے اور وہ خود خلیفہ بننے سے پہلے حجاز کے والی رہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان بھتیجے اور داماد تھے اور شاہی خاندان کے ممتاز ترین افراد میں سے تھے، انہیں اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ نے اپنا جانشین نامزد کیا اور وہ ان کی وفات کے بعد صفر 99 ہجری میں خلافت پر متکمن ہوئے۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا پایۂ تخت دمشق تھا اور وہ اپنے دور میں پوری دنیائے اسلام کے واحد حکمران تھے۔ ان کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ جب شاہی خاندان نے خلیفہ سلیمان بن عبد الملکؒ کی وفات کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی تو انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ دمشق کی جامع مسجد میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ کا انتخاب عوام کا حق ہے اور وہ خود کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھتے، اس لیے عوام کو ان کا حقِ اختیار و انتخاب واپس کرتے ہیں کہ وہ ان کی بجائے جس شخص کو چاہیں اپنا حکمران منتخب کر لیں۔ مگر عوام نے بیک آواز انہی کے حق میں فیصلہ دیا اور کہا کہ ان کے بغیر اور کوئی خلیفہ انہیں قبول نہیں ہوگا۔

نو آبادیاتی ماحول میں ملا اور مسٹر کا کردار

نو آبادیاتی ماحول میں ملا اور مسٹر کا کردار

2 months ago.

یہ ہمارے معاشرتی مزاج اور روایات کا حصہ ہے کہ گھر کے آٹھ دس افراد میں سے جو کاما ہوتا ہے اسے ہی گھر کے تمام کاموں کا ذمہ دار سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ گھر کا جو فرد خود محنت اور مشقت کا عادی بن کر مختلف کاموں کو نمٹانا شروع کر دیتا ہے گھر کے دوسرے افراد سارے کام اسی کے کھاتے میں ڈال کر خود کو ہر کام سے فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ پھر اس غریب کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اسے کوئی کام سرانجام دینے کا کریڈٹ تو کبھی نہیں ملتا، البتہ جو کام نہیں ہو پاتا اس کا الزام یہ دیکھے بغیر اس کامے پر لگا دیا جاتا ہے کہ یہ اس کے کرنے کا تھا بھی یا نہیں، اور اس کام کے لیے اس کے پاس وقت بھی تھا یا نہیں۔ حتی کہ اسے اپنے اس بھائی کی خشمگیں نگاہوں کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا ہے جو سارا دن لمبی تان کر سویا رہتا ہے اور جب آنکھ کھلتی ہے تو اس ٹوہ میں لگ جاتا ہے کہ کامے بھائی کی کوئی کوتاہی سامنے آئے تو اس کے لتے لینے کا موقع ہاتھ آئے۔