منافقت کے نصاب

منافقت کے نصاب

3 days ago.

پچھلی سات دہائیوں سے زائدکشمیری عالمی ضمیرکوجگانے کی کوشش کررہے ہیں بالخصوص پچھلے دوعشروں سے آزادی کی تحریک میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنی جان کی قربانی دیکر آزادی حاصل کرنے کاعزم پوری آب وتاب سے جاری وساری رکھاہواہے۔بھارتی ظلم وستم اورجبری تسلط کے خلاف کچھ دیرکیلئے یہ تحریک مسلح جدوجہد کی صورت میں بھی جاری رہی لیکن گزشتہ برس 5اگست کومودی کی یکطرفہ تمام عالمی اوربھارتی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد اب تک بھارت نے کرفیو اور لاک ڈائون کے دوران کشمیرمیں ظلم وستم کاوہ بازار گرم کر رکھا ہے جس سے پوری مہذب دنیابھی آگاہ ہے لیکن اب تک کسی بھی عالمی ادارے کو بھارت کواس بہیمانہ ظلم وستم سے روکنے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھانے کی توفیق نہیں ہوئی۔اگر کسی انسانی ہمدردی کے ادارے نے کشمیرکے معاملے میں کسی دلچسپی کااظہار کیابھی تودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کانعرہ لگانے والی بھارتی سرکارنے کشمیرتک رسائی دینے سے صاف انکارکردیالیکن اس کے باوجودکشمیرمیں ہونے والے ظلم وستم کی داستانیں اکثرعالمی ضمیرکو جھنجھوڑتی رہتی ہیں۔

گیلانی صاحب!ہم شرمندہ ہیں

گیلانی صاحب!ہم شرمندہ ہیں

11 days ago.

زندگی کی متاعِ عزیزکیاہے؟روپیہ پیسہ زرو جواہر زمینیں اورجائیدادمنصب جاہ وجلال ناموری واہ واہ داد وتحسین صلہ وستائش بیوی بچے عزیزو اقرباء یاردوست‘ کیایہی ہے زندگی کی متاعِ عزیز! توپھرنظریہ کیاہے، اصول کیاہے،حق وصداقت کیا ہے، دار ورسن کیاہے، شہادت کیاہے،عشق کیاہے، محبت کیاہے،بے غرضی کیاہے،جاں نثاری کیاہے، مرمٹنا کیاہے؟ بتایئے پھریہ سب کیا ہیں؟کسے کہتے ہیں متاع عزیز؟ کیاانکارمتاعِ عزیزنہیں ہے؟ جبر کے سامنے انکار،فرعونیت کاانکار، صلہ کا انکار، سودے بازی سے انکار،دولت ِبے بہاکا انکار ، باطل کاانکار،سر جھکانے سے انکار،ظلم وجبرکا انکار، رب کی حاکمیت کے سواسب کاانکار‘انکارمتاعِ عزیز نہیں ہے توپھرکیاہے انکار؟ انکار اور یکسرانکار، پورے شعور کے ساتھ انکار ۔کوئی مصالحت نہیں بالکل بھی نہیں مجسم انکارباطل کے سامنے،طاغوت کے سامنے،رب کے باغیوں کے سامنے،نفس پرستوں کے سامنے،دنیائے حرص و تحریص کے سامنے ،دھوکے کے سامنے،بے وفائی کے سامنے، خدائی لہجے میں بات کرنے والوں کے سامنے‘انکار اور یکسرانکارپورے شعوراورپورے وجود کے  ساتھ انکار۔ بس انکار۔

کوروناکامثبت پہلو

کوروناکامثبت پہلو

21 days ago.

فلسطین خصوصاًمغربی کنا رے میں کوروناکے پھیلائوکے خدشے نے اسرائیل اورفلسطین اتھارٹی کے درمیان رابطے کوبڑھادیا ہے۔وائرس کوپھیلنے سے روکنے کیلئے دن رات کوششیں کی جارہی ہیں، اسرائیل کی براہ راست مداخلت پرفلسطین اتھارٹی نے اسرائیلی فوج سے آبادیوں میں موجود رکاوٹیں ہٹانے کی درخواست کی ہے تاکہ فلسطین کے شہروں ، علاقوں اورپناہ گزینوں کے کیمپ کوکوروناسے بچایا جاسکے۔اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل فون کالزکاانکشاف کیاہے،سول اور سیکورٹی سطح پر دونوں اطراف سے رابطے ہو رہے ہیں، اسرائیل اس حوالے سے خوفزدہ ہے کہ فلسطین میں جنگ زدہ ماحول کی وجہ سے پہلے ہی صحت اورمعیشت کے شعبے تباہی کے دہانے پرہیں۔ اسرائیل سیکورٹی ایجنسیز کوروناکی وجہ سے مغربی کنارے کے حالات اور اس کے اسرائیل پرپڑنے والے اثرات کامطالعہ کر رہی ہیں،بہت ممکن ہے کہ کوروناکی یہ وباء بین الاقوامی سطح پرطاقت کے توازن کوبدل دے یاپھر اس پردیرپااثرات چھوڑے۔  

اونٹ کی کمرپرآخری تنکا

اونٹ کی کمرپرآخری تنکا

23 days ago.

امریکہ نے تیل کی عالمی منڈی پراپنی اجارہ داری برقراررکھنے کیلئے کی جانے والی کوششوں میں دھمکیاں بھی شامل کرلی ہیں۔ 12اپریل کوسعودی عرب،تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اورروس کی قیادت میں فعال تیل برآمد کرنے والے ممالک نے پیداوارمیں یومیہ کم وبیش97لاکھ بیرل کے مساوی کٹوتی کااعلان کیا۔ سعودی عرب اور روس کے درمیان مارچ کے دوران تیل کی قیمت کے حوالے سے جوکشیدگی پیدا ہوئی اس نے امریکہ کومداخلت کا موقع مل گیا۔ 2اپریل کوٹرمپ نے سعودی ولی عہدمحمدبن سلمان کو فون کیا،جس میں انہیں واضح دھمکی دی کہ اگرسعودی عرب نے تیل کی پیداوارکم کرکے تیل کی قیمتیں مستحکم کرنے میں کلیدی کردارادانہ کیاتو امریکی قیادت سعودی سرزمین کے دفاع کی ذمہ داری سے دست کش ہوتے ہوئے وہاں سے افواج،پیٹریاٹ میزائل اورمیزائل ڈیفنس سسٹم ہٹالے گی۔یہ دھمکی اس قدرہمہ گیر نوعیت کی تھی کہ ولی عہدحیران رہ گئے اورانہوں نے اپنے تمام معاونین کوفوری طورپرکمرے سے نکال دیاتاکہ مزیدتوجہ اور رازداری سے بات کرسکیں۔

تاریخ کے سیاہ دھبوں کاسب سے بڑاعنوان

تاریخ کے سیاہ دھبوں کاسب سے بڑاعنوان

25 days ago.

یہ کیسی قومی غیرت ہے،ہما ری متعدداین جی اوز،حقوق انسا نی کے علمبردار، غیر ملکی قیدیوں کے غمگسارکہاں سوئے ہوئے ہیں؟شایدڈاکٹرعا فیہ صدیقی کیلئے کوئی آوازاٹھا نے،کوئی  احتجاجی تحریک اورریلی نکالنے میں کسی اقتصادی فائدے کی کوئی صورت نظرنہیں آرہی ہوگی۔یہاںہمسایہ ملک کے جا سوسوں اور دہشت گردوں کوسزائے موت کے باوجودرہاکروانے کیلئے اپنی تمام صلا حیتیں صرف کرکے واپسی کامحفوظ انتظام کرکے انسانی حقوق کے چیمپئن بننے کانعرہ بلند ہوا، جبکہ جواب میں ہمیں آج تک لا شوں کے تحا ئف ملتے ہیں۔ ہم امریکی قیدیوں کواپنی جیلوں میں وی آئی پی سہولتیں دیتے ہیں۔برطانوی شہریت کے حامل قاتل کی سزائے موت معاف کرکے نہایت احترام سے واپس برطانیہ بھجواتے ہیں اور مہذب قوم ہونےپراصرارکرتےہیں۔اگرایشین ہیومن رائٹس کمیشن ،امریکی قیدی معظم بیگ کی کتاب کی اشاعت اورایوان رڈلی درست طورپرتصدیق نہ کرتے توشاید ہمیں خبر تک نہ ہوتی اورمعاملہ موجودہ صورت اختیارنہ کرتااورعافیہ کانام و نشان تک مٹادیاگیاہوتا۔اسی تشہیرکے نتیجے میں مظلوم اوربے بس ڈاکٹرعافیہ صدیقی کوامریکہ منتقل کیاگیاجس پرحد درجہ واہیات اورمضحکہ خیزالزامات کے تحت مقدمہ قائم کرکے86سال کی قیدسنادی گئی ۔

تاریخ کے سیاہ دھبوں کاسب سے بڑاعنوان

تاریخ کے سیاہ دھبوں کاسب سے بڑاعنوان

26 days ago.

چنددن پہلے ڈاکٹرفوزیہ  کااپنی بہن کی سلامتی کیلئے ایک دردناک خط موصول ہواجس کوپڑھ کریقین ہوگیاکہ ہما ری قومی بے حسی اورچشم پوشی انتہا کوپہنچی ہوئی ہے ۔وقت کی پکارصدابصحراثابت ہورہی ہے۔کاش یہ صدا کسی گنبد میں دی گئی ہوتی،کم ازکم واپس تولوٹتی۔ جہاں میں پوری قوت سے قوم کی مظلوم بیٹی عافیہ کانام لیکرپکارتاکہ تم کہاں ہو؟تو سوال کاجواب نہ ملتا،سوال توواپس آتا۔ آئیے حساب لگاکر دیکھیں کہ جس روزقوم کی اس مظلوم بیٹی کوجواپنے دومعصوم العمراورایک گود میں لپٹے بچوں کے ساتھ تھی،ہماری خفیہ ایجنسیوں کے مستعداورسائے کی طرح پیچھا کر تے بے رحم ہاکس نے پوری درندگی اورسفاکی سے اغواء کیاتوان دنوں کون کون مسنداقتدارپرمتکمن تھا۔23جون 2003ء کے بدنصیب دن پرویزمشرف صدر، ظفراللہ جمالی وزیراعظم،فیصل صالح حیات وزیرداخلہ،خورشید محمود قصوری وزیرخارجہ تھے اور سید  ضمیرجعفری کے فرزند ارجمند  جنرل احتشام ضمیر ایک اہم ترین قومی ایجنسی کے سربراہ تھے۔ ان تمام اعلیٰ عہدیداروں کے علم کے بغیر ایک پتہ بھی جنبش نہیں کرسکتاتھا۔ ظفر اللہ جمالی اس تا ریخ سے مزید ایک برس26جون2004ء تک اپنے عہدہ جلیلہ پر فائز رہے۔ 

کرونا۔۔۔۔۔چین بھارت تنائو 

کرونا۔۔۔۔۔چین بھارت تنائو 

a month ago.

ایک طرف پوری دنیاکوروناسے لڑ رہی ہے۔ انڈیامیں اس کے متاثرین کی تعدادڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے اورچین پریورپ اور امریکہ باربار سوال اٹھا رہے ہیں۔ایسی صورت حال میں دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے تنازعے میں پڑنے کی کیاوجہ ہے؟ایس ڈی منی کاکہناہے کہ اس وقت انڈیاان علاقوں میں اپنے دعوے کومزید مضبوط بنانا چاہتاہے جس کے بارے میں اسے یقین ہے درحقیقت یہ متنازع علاقے ہیں۔اس کی شروعات 1958 ء میں اس وقت ہوئی جب چین نے اکسائی چن میں ایک سڑک بنائی جو شاہراہ قراقرم سے جڑتی ہے اور پاکستان کی طرف بھی جاتی ہے۔ جب سڑک تعمیرہورہی تھی تواس وقت انڈیاکی توجہ اس طرف نہیں گئی لیکن سڑک تعمیرہونے کے بعدانڈیاکے اس وقت کے وزیر اعظم جواہرلعل نہرونے اس پر اعترا ض کیاتھا۔اس وقت سے ہی انڈیاواویلاکررہاہے کہ چین نے اکسائی چن پرقبضہ کرلیاہے لیکن اس وقت انڈیانے اس پرکوئی فوجی کاروائی نہیں کی۔اب کاروائی کی جارہی ہے کیونکہ انڈیاکواپنادعویٰ کرناہے۔جس طرح انڈیا نے آزادکشمیر اورگلگت بلتستان سے متعلق اپنے دعوے کومستحکم کرناشروع کردیاہے۔اسی تناظرمیں اکسائی چن میں بھی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن اب چین کواس سے پریشانی ہورہی ہے۔