گُم گشتہ اقدار

گُم گشتہ اقدار

5 days ago.

ایک بہت ہی کرم فرماقاری نے پوچھاہے کہ آپ نے وطن عزیزمیں امیدکی فصل کاشت کرنے کامشورہ توخوب دیاہے مگریہ بھی توبتائیے کہ امیدکیسے کاشت کی جاتی ہے۔ہمیں کاشت کاری سے گہری دلچسپی ہے یعنی معاملہ توتدبرکے ذیل میں آتاہے،ہمیں تفکر کی الف بے بھی نہیں آتی تو’’تدبر‘‘کیاآئے گاالبتہ ایک دوباتیں توبالکل عیاں ہیں۔مثل مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کاسہارا۔ظاہرہے کہ ڈوبتے کوتنکے کا سہارا ہوتا ہے توکاغذکی کشتی تواس کے مقابلے میں بڑی چیز ہے۔اس میں اورکچھ نہیں توکشتی کا ’’ڈیزائن‘‘ موجود ہوتاہے لیکن کاغذ کی کشتی کے ساتھ لکڑی کی چھوٹی سی نائوفراہم ہوتو کون ہوگاجوکاغذکی کشتی پرہاتھ ڈالے گا۔ ظاہرہے کہ لکڑی کی چھوٹی سی نائوکے مقابلے پرجہاز فراہم ہوتوطوفان میں گھرے ہوئے لوگ جہازہی کی طرف جائیں گے اوراگرجہازکے ساتھ’’سفینہ‘‘بھی فراہم ہوتوپھرآپ کے خیال میں پھرلوگوں کاانتخاب کیا ہوگا؟ عقل تویہی کہتی ہے کہ لوگ جہازکو چھوڑ کرسفینے کاانتخاب کریں گے۔

انسانی وصف

انسانی وصف

7 days ago.

اللہ کے آخری رسولﷺ نے اپنے پیارے چچاکورازکی بات بتادی تھی۔اللہ کی اس بے کراں کائنات میں حیات کاسفینہ کسی خلل کے بغیر کیونکر رواں رہتا ہے؟سچ توصرف یہ ہے کہ عدل ہی زندگی کی روح اورزندگی کی اساس ہے۔ان گنت دنیاں میں ، زمینوں،آسمانوں اورکہکشاں میں ہرچیزاپناوظیفہ انجام دیتی اوراپنے اپنے مدارمیں متعین کردہ راستوں پرچلتی رہتی ہے۔سورج ،چاند،ستارے،ہوائیں اور بادل، فرشتے،شجراورہجر،چوپائے،کیڑے مکوڑے اور پرندے، بلندیوں پہ آفتاب کی تمازت برف پگھلاتی ہے اورندیوں میں بہتا پانی میدانوں میں پھول کھلادیتاہے ، وہ کھیتوں اورباغوں کوسینچتاہے،ہواانہیں لوریاں دیتی ہے،سورج کی روشنی گندم کے خوشے کوسنہری رنگ عطا کرتی اورپھلوں کورس اوررنگ وروپ بخشتی دیتی ہے۔ تقریباایک ارب قسم کی مخلوقات ہیں۔ان سب کی حیات اوربقاکاانحصاررزق کے ان تنوع اسباب پرہے،زمین پرحیات کی نمودکے ساتھ ہی خودبخودبروئے کا رآگئے اوروہ سب ایک دوسرے پرانحصارکرتے ہیں۔ایک خودکار نظام جوتقریباچھ ارب سال سے قائم ہے اوراس وقت تک قائم رہے گاجب اسے سمیٹنے کاحکم صادرکردیاجائے گا۔

اقبال کاپاکستان

اقبال کاپاکستان

12 days ago.

اقبال کاکلام انسانی فکروعمل کی تاریخ کانہائت دقیق تجزیہ ہے۔انہوں نے اپنی غیرمعمولی بصیرت کی بناپرتاریخی حوادث سے متعدددورس نتائج اخذکئے، بعض وہ نتائج بھی جوابھی رونمانہیں ہوئے تھے۔ان کایہ شعرمبنی برحقیقت ہے: حادثہ  جو ابھی پردہ افلاک میں ہے  عکس اس کامرے آئینہ ادراک میں ہے برصغیرکے مسلمانوں کی تاریخ پراقبال نے خصوصیت کے ساتھ توجہ دی،انہوں نے دیکھاکہ یہ وسیع وعریض خطہ مدت تک مسلمانوں کے فکروعمل کی عظیم جولانگاہ بنارہااورانہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ ایک عظیم الشان اسلامی معاشرہ تشکیل کیاجس کے برجستہ تمدنی نقوش ناقابلِ محوہیں۔مسلمان یہاں اگرچہ دوسری اقوام کی نسبت تعدادمیں کم اورمختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے تھے لیکن عقیدہ توحیدنیا نہیں ہمیشہ اسلام کے رشتہ وحدت میں منسلک رکھا۔ متعدد مسلمان خاندانوں نے یہاں ایک ہزارسال تک حکومت کی،ان میں غزنوی، غوری،خلجی،تغلقی،لودھی اورمغل خاندان زیادہ معروف ہیں۔یہ حکومتیں اگرچہ مذکورہ خاندانوں کے نام سے منسوب تھیں لیکن چونکہ وہ اسلامی اصولوں کی اساس پراستوارکی گئیں اوراسلامی اقدارکی حفاظت اور نشرواشاعت کیلئے کوشاں رہیں،اس لئے انہیں اسلامی حکومتوں کے نام سے یادکیاجاتاہے۔ان کے حکمران مسلمان تھے اوردین اسلام کواپنی حکومت کاتشخص اورطرہ امتیازقراردیتے تھے۔وہ اپنی قائم کردہ عدالتوں میں اسلامی قوانین رائج کرتے،مدرسوں اورمساجدکی تاسیس کرتے اوران میں اسلامی تعلیمات و روایات اورمسلمانوں کی زبان وادب کوفروغ دیتے ، اکثرسلاطین ِوقت صوفیااورعلماکی عزت وتکریم کرتے اوران سے ہدایات حاصل کرتے،صوفیاہمیشہ سلاطین کو رعایا

عید میلاد النبی  ﷺ

عید میلاد النبی ﷺ

15 days ago.

دل جس  سے ز ندہ ہے  وہ تمنا  تمہی  تو ہو ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیں تو ہو اور جذبۂ عشق رسول اکرمﷺکا اصل تقاضہ یہی ہے کہ یہ کیفیت ہمارے فکروعمل کا پوری طرح احاطہ کرلے۔یہ بات ایمان کی ہے  اور ایمان کا ثبوت اعمال صالح کی صورت ہی میں فراہم کیا جا سکتاہے ۔ سیرت پاک کے سلسلے میں یہ حقیقت بھی ہمارا جزوایمان ہونی چاہئے کہ دور رسالتِ مآبﷺ تاریخ کا حصہ نہیں ہے بلکہ ساری نسلِ انسانی کیلئے قیامت تک ہدائت جاریہ ہے۔ ہمارے رسول کریمﷺنے اسلام کو ایک مکمل معاشرتی نظام بنا کر نسلِ انسانی کو عطا فرمایا ہے اور انسانی تاریخ کا حقیقی انقلاب وہی دورسعا دت آثار ہے۔رسول کریمﷺ کے وسیلے ہی سے انسانیت کو دنیا کے ساتھ ساتھ حیات و کائنات کی وسعتوں کا شعور اور نسلِ انسانی کی عالمگیرمساوات کا پیغام ملا۔انسان انفرادی طور پر جس طرح مختلف مرحلوں سے گزر کر باشعور ہونے کی منزل تک پہنچتا ہے ‘نسلِ انسانی بھی مجموعی طور پر انہی مرحلوں سے گزری ہے۔ختم نبوت کا اعلان پوری نسلِ انسانی کے باشعور ہونے کا اعلان بھی ہے  اسی لئے ہمارے حضورﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں ساری نسل انسانی کو مخاطب فرمایا۔  

انمول ہیرا

انمول ہیرا

18 days ago.

چلیے آج لمبی چوڑی کہانی کوچھوڑ دیتے ہیں،جوہوگا دیکھاجائے گا۔پچھلے دنوں میں نے جوکچھ پڑھااور سنا،آپ سے کہہ سن لیتا ہوں۔جرات بھی دل سوزی، شفقت اوررحم دلی کی طرح انسانی معراج کاایک زینہ ہے۔آج تک کوئی جرات اوربہادری کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کرسکا۔جرات اس تین منزلہ مکان کانام ہے جس کے اندرانسان بستاہے۔ انسانی وجود کے تین حصے ہیں۔ پہلاجسمانی، دوسراذہنی اورتیسرا روحانی۔ ان تینوں حصوں یامنزلوں کاہونابہت ضروری ہے کہ اس کے بغیرانسان کی زندگی کا آگے بڑھنا،اس کانشوو نماپاناناممکن ہے۔جرات آپ سے تقاضہ کرتی ہے کہ آپ اپنے اوردوسروں کے حقوق کیلئے کھڑے ہوجائیں اورانہیں منوانے کیلئے سینہ سپرہوجائیں۔ جرات آپ کومجبورکرتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو،اپنے معاشرے کو،اپنے ملک کوتعمیر کرنے کیلئے سختی اورشقاوت کی بجائے محبت اورشفقت سے کام لیں، تشکیک کی بجائے ایمان کے اندرزندہ رہیں۔مایوسی کے مقابلے میں امیدکے سہارے، مشکلات کے نیچے دبنے کی بجائے ان پرحاوی ہوکر خوداعتمادی کی جرات پیداکریں۔غلطیاں تسلیم کرنے کی جرات اورخودکو کامل نہ پاکررونے بسورنے سے احتراز کریں۔ یہ ہیں صحیح جرات کے مظاہر!

زخم یاناسور؟

زخم یاناسور؟

25 days ago.

امریکہ اوراس کے حواری پچھلے چندبرسوں سے بھارت کی برسوں سے دبی خواہش کی چنگاری کوبھڑکا کراسے خطے میں چھوٹاامریکہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن امریکہ سے پاکستان کے تعلق کی نوعیت کچھ بھی پاکستان اوربھارت کاتنازعہ صدیوں کاپس منظررکھتاہے۔برصغیرمیں رہنے والی دوبڑی قوموں میں آویزش کشمکش کاعہد بہ عہدسفرتھاجوارتقائی منازل طے کرکے پاکستان کے مطالبے پرمنتج ہواتھا۔ اگراس تقسیم کواچھے اندازسے مکمل کردیاجاتاتو شاید دونوں ملک آج نفرت مخاصمت اورعداوت کے اس مقام پرکھڑ ے نہ ہوتے جہاں مودی نے لاکھڑاکیا ہے۔تقسیم کے وقت انگریزنے مسئلہ کشمیرکی صورت میں خطے کوایک ایسازخم تحفے میں دیاجسے وقت کامرہم، دوستی کے وعدے ،مشترکہ مفادات کے مقاصد،بقائے باہمی کے معاہدے بھی مندمل نہ کرسکے اوریہ زخم رس رس کر ناسوربن گیا۔اب حالات یہ ہیں کہ یہ مسئلہ کسی ملک کیلئے بقاء کامسئلہ ہے توکسی ملک کیلئے اناکامسئلہ بلکہ یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ ممکنہ عالمی ایٹمی جنگ کاسبب بھی بن سکتاہے۔جب تنازعات کے ساتھ اس نوع کے حقیقی خطرات وابستہ ہوجائیں توان سے آنکھیں چراناآئندہ نسلوں کی مکمل تباہی پرمنتج ہوسکتاہے،ایسے میں کشمیرکے بارے میں حقائق کوچھانٹناآسان نہیں۔

یہ ہے زندگی!

یہ ہے زندگی!

28 days ago.

ایساہوتاآرہاہے کہ سب فلسفے دھرے رہ جاتے ہیں،دلیلیں منہ تکتی رہ جاتی ہیں،پندونصائح بے اثر ہوجاتے ہیں،زورخطابت دم توڑدیتاہے،اہل منبرو محراب دنگ رہ جاتے ہیں، جبے عمامے اپنی شان وشوکت کھو بیٹھتے ہیں،پہاڑریزہ ریزہ ہوکرروئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگتے ہیں،زمین تھرتھرانے لگتی ہے،ساری حکمتیں ناکارہ اورسارے منصوبے نابود ہوجاتے ہیں،ذلیل دنیاکے چاہنے والے دم دباکر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں،اہل حشمت وشوکت منہ چھپانے لگتے ہیں،محلات بھوت بنگلے بن جاتے ہیں، منظربدل جاتاہے،موسم بدلنے لگتاہے،آسمان حیرانی سے تکتاہے،شجرپر بیٹھے ہوئے پرندے اورجنگل میں رہنے والے درندے راستہ چھوڑدیتے ہیں۔جب دیوانے رقص کرتے ہیں،جنوں اپنے گریباں کاعلم بن کرنکل پڑتاہے پھرعقل خودپر شرمندہ ہوتی ہے،جب عشق اپنی جولانی پرآتاہے،نعرہ مستانہ بلندسے بلندتراوررقص بسمل تیزسے تیزترہوتا چلاجاتاہے ۔ جب موت کی تلاش میں نکلتی ہے زندگی۔ سب کچھ ہماری نظروں کے سامنے ہوتاہے لیکن،لیکن ہمیں نظرنہیں آتا،آئے بھی کیسے!ان دیدوں میں بینائی کہاں ہے،روشنی کہاں ہے؟روشنی اوربینائی تواندر سے پھوٹتی ہے،جی اندرسے،دل سے اورجسے ہم دل سمجھ بیٹھے ہیں،وہ توصرف خون سپلائی کرنے کاایک پمپ بن کررہ گیاہے،دل کہاں ہے؟ نہیں یہ دل نہیں ہے بس ایک آلہ ہے۔جن کے دل دھڑکتے ہیں وہ زمانے سے آگے چلتے ہیں۔نعرہ مستانہ لگاتے، سربکف میدان میں اترتے ہیں۔موت کوللکارتے ہیں اور موت ان سے خائف ہوکرکہیں چھپ کربیٹھ جاتی ہے۔یہ دیوانے اورپاگل لوگ موت کے گھاٹ اتر نے نکلتے ہیں اورپھر زندہ جاوید ہوجاتے ہیں،زندہ جاویدلوگ!