نانا کی موت‘ نواسے کا گریا

نانا کی موت‘ نواسے کا گریا

7 days ago.

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج ظلم اور بربریت کی تمام حدیں پار کرچکی ہے۔ اس سفاک بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو قتل کرنے کی کھلے بندوں مسلمان دشمن وزیراعظم نریندر مودی نے دے رکھی ہے۔ سب سے زیادہ دلخراش واقعہ منگل کو پیش آیا جس میں بھارتی فوج کے ایک سفاک اور ظالم فوجی نے ایک بشیر احمد کو اس کی گاڑی سے اتار کر گولی مار کر شہید کردیا‘ جبکہ اس کا تین سالہ نواسہ جواس کے ساتھ تھا نانا کی لاش پر بیٹھ روتا رہا۔ گریہ کرتارہا۔ خون کے آنسو رونے والا یہ منظر ساری دنیا میں وائرل ہوگیاہے لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتاہے کہ امریکہ سمیت تمام انسانی حقوق کے چمپئن بھارتی فوج کی اس سفاکت اور بے رحمی پرخاموش ہیں‘ لب کشائی کرنے سے ڈرتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حوصلے اوران کے جذبہ ایمانی کو سلام پیش کرناچاہیے جو آٹھ لاکھ بھارت کی ظالم‘ بے رحم اور ہر قسم کے اخلاقیات سے عاری فوج کا بڑی بے جگری سے ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔ کچھ نوجوان بھارتی فوج کے ظلم سے تنگ آکر ان کا مقابلہ کررہے ہیں ان کی تعداد میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہاہے۔ بھارتی فوج کے خلاف مزاحمت کو بھارتی حکومت دہشت گردی سے تعبیر کررہی ہے جبکہ غیر جانبدار مبصرین اس بات پر اتفاق کررہے ہیں کہ کشمیری نوجوان اپنے دست بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے اس ظلم کے خلاف اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں۔ جبکہ تحریک مزاحمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر موجودہ صورتحال کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر میں عوام کی آرا معلوم کی جائے تو 99فیصد کشمیری مسلمان حق خودارادیت کے اصول کے تحت یاتو آزاد رہنا پسند کریں گے یاپھر پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے‘ لیکن بھارت کے ساتھ ضم ہونے کے لئے کوئی تیارنہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ جس کا حل عوامی رائے معلوم کرنے میں پوشیدہ ہے۔آنجہانی نہروسے لے کر ان کی بیٹی اندرا گاندھی تک نے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کیاہے ۔

کُل قرنی کا ایک چشم کشا کالم

کُل قرنی کا ایک چشم کشا کالم

10 days ago.

پاکستان میں ہر صحافی کُل قرنی سے واقف ہے۔ وہ ایک اچھے کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ایک ذمہ دار سیاستدان بھی ہیں اور پاکستان کے لئے جذبہ خیر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کچھ سال قبل پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی رونمائی کا بمبئی میں اہتمام کیاتھا۔ ان سے نفرت کااظہار کرتے ہوئے اس ’’جرم‘‘ کی سزا کے طور پر ان کے چہرے پر چند انتہا پسندوں نے سیاہی پھینک کر کیاتھا۔ لیکن اس شیطانی حرکت کے باوجود وہ کتاب کی رونمائی کرانے میں کامیاب رہے۔ ایک کثیرتعداد میں پڑے لکھے افراد نے اس تقریب میں شرکت کرکے یہ پیغام دیا کہ بھارت میں سب انتہا پسند نہیں ہیں اور نہ ہی وہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی چاہتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں کل قرنی  نے اپنے ایک کالم تحریر کیا ہے جس کا حوالہ بھارت کے مشہور صحافی جاوید نقوی نے مقامی اخبارمیں اپنا کالم دیا ہے کہ کل قرنی  نے اپنے کالم میں لکھاہے کہ بھارتی فوج نے پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر جنگ جیسی صورت حال پیدا کرکے سینکڑوں بھارتی فوجیوں کومروادیا ہے لیکن بھارتی فوج پاکستان سے ایک انچ زمین بھی نہیں لے سکی ہے۔ انہوں نے مزید لکھاہے کہ بھارت پھر کس طرح آکسائے چین کا علاقہ دوبارہ لے سکتاہے؟

بجٹ سے متعلق ہلکا پھلکا تبصرہ

بجٹ سے متعلق ہلکا پھلکا تبصرہ

28 days ago.

  کورونا کی وباء کی وجہ سے حکومت کے مالی وسائل پر بہت زیادہ منفی اثرات  مرتب ہوئے ہیں۔ ماضی کی طرح غیرترقیاتی اخراجات زیادہ ہوئے ہیں جبکہ آمدنی بہت کم ہے۔ آمدنی کے حصول کیلئے ٹیکس کا اطلا ق ہوتاہے۔ پاکستان بھی زیادہ تر ٹیکس indirect طریقے سے حاصل کئے جاتے ہیں جبکہ براہ راست ٹیکس کا دائرہ بہت محدود ہے۔indirect taxes کا بوجھ ایک عام آدمی پر پڑتاہے جبکہ کورونا کی وباء اور لاک ڈائون کی وجہ سے عوام میں بے روزگاری اور غربت بڑھ گئی ہے۔ لاک ڈائون کرنے سے چھوٹے موٹے کاروبار تقریباً تباہ ہوچکے ہیں ۔ اس طرح کہاجاسکتاہے کہ لاکھوں کی تعداد میں عوام غربت کی لکیر کے نیچے آگئے ہیں ۔اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر عوام کس طرح ٹیکس ادا کرسکیں گے؟  پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں خاصی گرچکی ہے۔ جس کی وجہ سے Debt Servingمیں بھی پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرناہوگا ۔ اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 6 ٹریلین  روپے کامزید قرضہ بڑھ گیاہے۔ آئی ایم ایف نے تین سال کیلئے چھ بلین ڈالر کا جو ریلیف پیکیج دیا ہے۔ وہ بھی موجودہ خراب مالی حالات کی روشنی میں معیشت کی شرح نمو میں اضافہ کا سبب نہیں بنے گا حالانکہ آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کی مد میں پاکستان کو مدد کے لئے ایک بلین سے زیادہ کا امدادی پیکیج دیاہے۔ تاہم اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ پاکستا ن کی معیشت کورونا وائرس کے ظاہر ہونے سے قبل 3.50فیصد کے حساب سے بڑھ رہی تھی لیکن اب کورونا کی وبا اور لاک ڈائون کی وجہ سے اور کاروبار ٹھپ ہوجانے کی وجہ سے معیشت کی شرح نمو منفی میں چلی گئی ہے۔ یعنی  4فیصد کے قریب یہ صورتحال ہرلحاظ سے اپنی جگہ تشویشناک ہے ۔ مزید براں پاکستان دو طریقے سے اپنی معیشت کو ٹیکس کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات سے بڑھاسکتاہے۔ 

کشمیری نوجوان شہید ہورہے ہیں

کشمیری نوجوان شہید ہورہے ہیں

a month ago.

گذشتہ پیر کی شب کو بھارت کی درندہ صفت فوج نے راجوڑی سیکٹر میں گھر گھر تلاشی کے دوران تیرہ نوجوانوں کو شہید کردیا ہے۔ شہید ہونے والے نوجوانوں پر یہ الزام عائد کیا گیاہے کہ انہوں نے سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج کے ساتھ’’مقابلہ‘‘ کیاتھا حالانکہ ان شہید ہونے والے نوجوانوں پر یہ الزام بے بنیاد ہے ‘بھارت کی درندہ صف فوج نے اس سے قبل جنوبی کشمیرکے بعض گائوں میں سرچ آپریشن کے دوران مزید کئی نوجوانوں کوشہید کیاہے۔جس میں بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارت کی درندہ صفت آٹھ لاکھ فوج نے اب تک صرف ایک ماہ کے اندر 30نوجوانوں کو بغیر کسی وجہ کے شہید کردیاہے۔ بھارتی فوج کواس غیر انسانی‘ غیر اخلاقی اور غیر قانونی کارروائیا ں کرنے کیلئے بھارت کے مسلم دشمن اور پاکستان دشمن فسطائی وزیراعظم نریندرا مودی نے پوری اجازت دے رکھی ہے۔ اس کی ظالم فوج پر کسی قسم کا نہ تو قانونی اطلاق ہوتاہے اور نہ ہی ان کی ظالمانہ کارروائیوں کو روکنے والا کوئی نہیں نظر آتاہے لیکن اب مقبوضہ کشمیر میں حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں نے فیصلہ کرلیاہے کہ اب وہ بھارتی فوج کے ظلم وبربریت کے خلاف ہر قسم کی مزاحمت کرنے کیلئے تیار ہیں‘ جس میں مسلح جدوجہد بھی شامل ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری اور آزادی کو بحال کرایاجاسکتاہے اور عوام کی عزت وآبرو بھی۔  

چینی اسیکنڈل‘ حقائق کیا ہیں؟

چینی اسیکنڈل‘ حقائق کیا ہیں؟

a month ago.

پاکستان میں اکثر وبیشتر چینی سے متعلق اسیکنڈل اخبارات اور ٹی وی کے تبصروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ شوگر ملز کے مالکان کی اکثریت کاتعلق کسی نہ کسی طریقے سے سیاستدانوں سے ہوتاہے‘ اور ظاہر ہے پاکستان میں بیشتر سیاستدانوں کی کارکردگی ملک اور عوام کی خدمت کرنے کے حوالے سے انتہائی متنازع رہی ہے بلکہ انہوں نے قومی  وسائل کو بے دریغ لوٹا ہے‘اپنے لئے اپنے رشتہ داروں کے لئے اور دوستوں کے لئے اس پس منظر میں عمران خان کو مبارکباد پیش کرنی چاہیے کہ انہوں نے چینی اسکینڈل سے متعلق ایک غیر جانبدار کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے اور اس کو پبلک بھی کردیا گیاہے۔ سندھ سے متعلق رپورٹ میں سندھ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔کیونکہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا۔ اس تفتیشی ٹیم کے سربراہ  واجد ضیا جو کرپشن کوبے نقاب کرنے میں اپناثانی نہیں رکھتے ہیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ کو ان کے ’’علیل باس‘‘ نے منع کردیاتھا کہ وہ اس کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہوں۔ حالانکہ اگر وہ پیش ہوجاتے تو وہ چینی کے سلسلے میں دی جانے والی سبسڈی(زرتلافی) سے متعلق اپنا موقف پیش کرسکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے ان پہ انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔

طیارے کا حادثہ! ذمہ دارکون؟

طیارے کا حادثہ! ذمہ دارکون؟

a month ago.

جمعۃ الوداع کے دن تقریباً ڈھائی بجے پی آئی اے کا طیارہ لاہور سے 99مسافروں کو لے کر کراچی آرہاتھا ‘ رن وے پراترنے سے ایک منٹ پہلے حادثے کاشکار ہوگیا‘اس حادثے میں مسافروں کے علاوہ فضائی میزبان بھی شہید ہوگئے۔ یہ ایک انتہائی ہولناک حادثہ تھا‘ جس میں ماڈل کالونی کے بہت سے گھر‘ گلیوں میں کھڑی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں سب تباہ ہوگئیں۔ صرف دومسافر زندہ بچے جس میں بینک آف پنجاب کے سی ای او ظفر مسعوداور ایک نوجوان زبیر شامل تھے حادثے سے چند منٹ قبل ظفر مسعود قرآن کی ایک سورہ کی تلاوت کررہے تھے۔ حکومت نے اس حادثے سے متعلق اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی ہے جو حادثے سے متعلق وجوہات کی چھان بین کریگی۔ یہ طیارہ ایئربس A-300 اور فائلٹ نمبرپی کے۔8303تھا۔ جس کو فرانس نے بنایاتھا جس کی ایک ٹیم (گیارہ افراد پر مشتمل) کراچی پہنچ چکی ہے اور حادثے کی جگہ کا تفصیلی معائنہ کررہی ہے۔ پی آئی اے کی پائلٹ ایسوسی ایشن نے بھی اس کمیٹی میں شامل ہونے کا مطالبہ کیاہے تاکہ تحقیقات میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کا خیال رکھاجاسکے‘ کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک کیاجائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ غلطی کہاں ہوئی اور اس کا کون ذمہ دار ہے؟   

پاکستان کے لئے ایک بڑی خوشخبری

پاکستان کے لئے ایک بڑی خوشخبری

2 months ago.

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان کردیاہے۔ منگلا ڈیم اور تربیلاڈیم کے بعد پاکستان کا یہ تیسرا بڑا منصوبہ ہے اس ڈیم کی تعمیر کا اعلان پاکستان کے عوام کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے 16500ملازمتیں ملیں گی جبکہ4500میگاواٹ بجلی میں پیدا کی جائے گی۔ یہ منصوبہ ماضی میں متعدد وجوہات کی بنا پر تعطل کاشکار رہا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے بھی بھاشا ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں بہت کوششیں کی تھیں لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی لیکن اب صورتحال کافی بدل چکی ہے۔ ایک پاپولر حکومت اقتدار میں ہے جوپاکستان کے بنیادی مسائل کوحل کرنے کی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز بھی اسی سوچ اور کوشش کا حصہ ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو تین اہم فوائد حاصل ہوں گے۔ پہلاwater security دوسرا food security اورتیسرا energy securityاس ڈیم کی مدد سے 23.1ملین ایکڑ زمین زیرکاشت آسکے گی۔ ملک میں پانی کی قلت بھی بہت حد تک دور ہوجائے گی۔اس طرح یہ ہر لحاظ سے ایک عوامی پروجیکٹ ہے جس کو موجودہ حکومت نے اس کا تعمیر کی منظوری دی ہے۔ بھارت ماضی میں اور اب بھی بھاشا ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کررہاہے لیکن وہ اپنی اس سازش میں کامیاب نہیں ہوگا۔ماضی میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں بھارت کے زرخریدایجنٹوں کے ذریعہ خصوصیت کے ساتھ سندھ میں اس کو متنازعہ بنادیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ کالا باغ ڈیم سیاست کی نذر ہوگیا‘ورنہ اس ڈیم سے پورے ملک کو جوفائدے پہنچنے والے تھے‘ وہ پورے نہیں ہوئے۔ اس کا اندازہ ورلڈ بینک کی رپورٹ سے لگایاجاسکتاہے جس میں اسکی افادیت پرزور دیا گیاتھا لیکن کیونکہ پاکستان میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہے جو دشمن ملکوں کے پروپیگنڈے کے زیراثر آکر اپنے ہی ملک کو ناقابل تلافی نقصان  پہنچانے کاباعث بنتے ہیں۔ اسی دوران بھارت نے کم از کم 5200 چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلئے ہیں جس میں مقبوضہ کشمیر میں تین ڈیم بھی شامل ہیں جس کی مدد سے وہ پاکستان کاپانی روک رہاہے۔ بھارت بنگلہ دیش کے دریا پر ڈیم بناکر بنگلہ دیش کا پانی بھی روک کراپنی بنجر زمینوں کو زیرکاشت لارہاہے۔ اس وقت ان دونوں ملکوں کے درمیان پانی کے مسئلے پر تنائو پیدا ہو رہاہے۔

کابل میں تخریبی کارروائیاں پھرشروع

کابل میں تخریبی کارروائیاں پھرشروع

2 months ago.

گزشتہ دنوں کا بل میں واقع ایک میٹرنٹی ہوم پر دہشت گردانہ حملہ ہوا جس میں 13خواتین اور نومولود بچوں کے علاوہ ڈیوٹی پر موجود نرسز جاں بحق ہوگئیں ۔ اس سے قبل صوبے ننگر ہار میں پولیس کمانڈر کی نماز جنازہ میں خودکش حملہ ہوا جس میں 24افراد جاں بحق ہوئے شدید زخمی ہونے والوں کی تعداد8 6سے زائد ہے۔افغان طالبان نے ان دونوں تخریبی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور کہاہے کہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان نے بھی ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یقینا افغانستان میں ایسے عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں۔ جو افغانستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کوسبوتاژ کرنے چاہتے ہیں۔ اس امن معاہدے کی تکمیل اور تشکیل میں پاکستان کا ایک واضح کردار ہے‘ کیونکہ افغانستان میں قیام امن کی صورت میں پاکستان کو بے پناہ معاشی وسیاسی فوائد حاصل ہوں گے۔ یقینا افغانستان میں امن افغانستان کی موجودہ حکومت اور بھارت کو پسند نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت شروع نہیں ہوسکی ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ افغانستان میں امن دشمن طاقتوں کو تقویت مل رہی ہے۔

اٹھارویں ترمیم‘ ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت

اٹھارویں ترمیم‘ ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت

2 months ago.

اٹھارویں ترمیم کومختلف سیاسی پارٹیوں کی آراء سے منظور ہوئے تقریباً بارہ سال ہوگئے ہیں ان میں جن سیاسی پارٹیوں نے شراکت کی تھی اس میں پی پی پی‘ مسلم لیگ(ن) ‘ تحریک  انصاف ‘جماعت اسلامی‘ ایم کیو ایم‘ اے این پی‘ مسلم لیگ (ق) کے علاوہ پارلیمنٹ میں موجود دیگر سیاسی پارٹیوں کے نمائندے شامل تھے۔ پی پی پی کے رہنما  رضا ربانی اس کمیٹی کے چیئرمین تھے جن کی ذمہ داری تھی کہ وہ آئین میں ایسی ترامیم لے کر آئیں تاکہ میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہونے کے علاوہ جمہوری اقدار کے ثمرات صوبوں اور عوام تک پہنچ سکیں۔ اٹھارویں ترمیم سے متعلق کئی ماہ تک سیاسی جماعتوں کے مابین صلاح ومشورے ہوتے رہے جس کے بعد اس کو منظور کرلیا گیا‘ لیکن پارلیمنٹ میں اس پہ تفصیلی بحث نہیں ہوئی تھی‘ محض خانہ پری کے لئے اس کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیاتھا ‘ اس ضمن میں ایک اہم بات کا حوالے دینا بہت ضروری ہے کہ جب رضا ربانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کے روبرو پیش ہوکر اس کو endorse کرنے کی درخواست کی تو جناب ثاقب نثار نے  رضا ربانی سے پوچھا کہ کیا اٹھارویں ترمیم کے خدوخال سے متعلق پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوئی ہے توانہوں نے جواب دیا کہ نہیں سر توجسٹس صاحب نے  رضا ربانی کو ہدایت کی کہ وہ پہلے پارلیمنٹ میں اس پہ تفصیلی بحث کراکر آئیں تو اس کے بعد میں اس پر اپنا observation دوں گا۔

کورونا وبا کے انسداد کیلئے عسکری اداروں کی خدمات

کورونا وبا کے انسداد کیلئے عسکری اداروں کی خدمات

3 months ago.

پاکستان میں کورونا کی وبا سے اب تک 207 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حکومت کے ساتھ ساتھ ہمارے عسکری ادارے اس وبا کے انسداد کے سلسلے میں غیر معمولی طورپر متحرک ہیں اور فعال کردار اداکررہے ہیں۔ ان اداروں کے علاوہ پولیس‘ رینجرز اور لیویز بھی اپنے حکام بالا کی ہدایتوں پر روز وشب اس وائرس سے متاثرین کی خدمت کررہے ہیں انہیں آگاہ بھی کررہے ہیں کہ موجودہ حالات میں باہر نکلنا مناسب نہیں ہے۔ کراچی میں اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے بیس پولیس والے کوروناوائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن کا معقول علاج کیاجارہاہے۔ کراچی کے مختلف نجی اور سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر حضرات جن میں لیڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں‘ وائرس سے متاثرین کی بے لوث اور بے خوف ہوکر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان میں کچھ ڈاکٹر وں کو بھی کورونا نے متاثر کیاہے‘ لیکن اس کے باوجود یہ افراد اپنی قومی وملی ذمے داریاں پوری کرکے مریضوں کی جان بچارہے ہیں۔

سرمایہ دار اور مزدور

سرمایہ دار اور مزدور

3 months ago.

پوری دنیا کو رونا وائرس کی وجہ سے ایک ایسے عذاب میںمبتلا ہوگئی ہے جس کے بارے میں جاننا کہ یہ کیوں ہورہاہے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تاہم اس وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیریں اختیار کرکے بہت حد تک اس وائرس بچاجاسکتاہے لاک ڈائون بھی اس وائرس سے بچنے کے سلسلے میں ایک موثر تدبیر ہے۔ جیسا کہ چین نے ابتدائی دنوں میں اس طریقہ کار کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کی جانیں بچائیں تھیں لیکن پھربھی چین میں ہزاروں لوگ اس وباسے اپنی جانیں ہار چکے ہیں۔ پاکستان بھی ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں یہ وائرس ہلاکتوں کا سبب بن رہاہے۔ لیکن خدا کے فضل وکرم سے پاکستان میں ایسی تشویشناک صورتحال نہیں ہے جیسا کہ امریکہ‘ اٹلی‘ فرانس ‘ اسپین‘ ایران اور برطانیہ میں پائی جارہی ہے۔ لیکن پھربھی پاکستان کے مختلف حصوں میں لاک ڈائون کیاجارہاہے تاکہ وائرس کے پھیلائو کو روکا جاسکے۔ ہمارے ملک کی بدنصیبی یہ ہے کہ عوام میں شعور کی کمی ہے اور شعور کا ایثار تعلیم کے ذریعہ پیدا ہوتاہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی وہ توجہ نہیں دی گئی جو دی جانی چاہیے تھی۔ اس ہی طرح صحت کا شعبہ بھی غفلت کاشکار ہونے کے سبب عوام کی توقعات پرپورا نہیں اترا ہے ۔ تاہم ہمارے ڈاکٹرز ‘ نرسیں اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنی کوششوں اور موجود دستیاب وسائل سے کورونا کے مریضوں کاعلاج کررہے ہیں۔ بہت سے مریض ان کی کوششوں سے صحت یاب ہوگئے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر پر ایک اور بھارتی حملہ

مقبوضہ کشمیر پر ایک اور بھارتی حملہ

3 months ago.

قارئین کرام آپ کو یادہوگا کہ بھارت کی موجودہ مسلمان دشمن فسطائی حکومت کے سربراہ نریندر مودی نے 5اگست2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت Special status کوختم کرکے اس کو ’’غیرقانونی ‘‘طور پر بھارت میں ضم کرلیاہے۔ مقبوضہ کشمیر بھارتی آئین کی شق370کے تحت خصوصی حیثیت کاحامل تھا۔ نیز35Aکے تحت مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی غیر کشمیری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد نہ تو خرید سکتاتھا اور نہ ہی بناسکتاتھا‘ لیکن اب بھارتی آئین کی یہ شق بھی ختم کردی گئی ہے۔ حالانکہ کشمیروجموں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان تقریباً 72سالوں سے ایک متنازعہ مسئلہ چلاآرہاہے۔ جس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم نہیں ہوسکے ہیں بلکہ اس مسئلہ پر ان دونوں ملکوں کے درمیان تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں جس کا کوئی حل نہیں نکل سکاہے۔ مزید براں بھارت نے 31 اکتوبر  کی رات کو مقبوضہ کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کردیاہے یعنی سرینگر  جموں ایک طرف اور لداخ دوسری طرف ‘ بھارت کی اس تقسیم کوبھی پاکستان سمیت اقوام متحدہ نے بھی مستردکردیاہے ۔