(گزشتہ سے پیوستہ)

(گزشتہ سے پیوستہ)

21 days ago.

ان دونوں الفاظ ہادی اور نذیر پر غور کرتے ہوئے یہ بات ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ ہر لفظ کے کچھ مضمرات ہوتے ہیں۔ لفظ ھاد یا ھادی (ہدایت دینے والا) ایک عام لفظ ہے۔ اسی طرح سے  نذیر (خبردار کرنے والا)بھی ایک عام لفظ ہے۔ یہ دونوںلفظ ایسے شخص کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں جو حقائق سے آشنا ہو جائے چاہے وہ از خود ہی آشنا ہوا ہو۔قرآن مجید میں اس کی ایک بڑی اہم مثال حضرت لقمان کی ہے۔آپ نہ نبی تھے نہ رسول تھے اور نہ ان کے بارے میں کسی نبی یا رسول کے امتی  ہی ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔ وہ بس ایک سلیم الفطرت سلیم العقل انسان تھے۔ اس سلیم الفطرت انسان نے اپنی عقل سلیم کی راہنمائی میں غور و فکر اور سوچ بچار کے ذریعے ان تعلیمات تک رسائی حاصل کر لی جو قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات ہیںیعنی توحید اور معاد ۔ نیکی اور بدی کا شعور بھی اللہ تعالی نے ہر انسان میں ودیعت کر دیا ہے۔ نبوت اور کتاب درحقیقت ہدایت ِخداوندی کی معین شکلیں ہیں لیکن ہدایت خداوندی اور انذار صرف نبوت اور کتاب کے ساتھ وابستہ نہیں ہے بلکہ ایک حکیم اور دانا انسان بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے غور و فکر کے نتیجے میں ان حقائق تک پہنچا ہو اور اپنے ان حقائق اور اپنی علمی اور عقلی یافت کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کر رہا ہو انہیںنیکی کی تلقین کر رہا ہولیکن بہر حال نبی اور رسول چار ہزار سال تک جو بھی آیا حضرت ابراہیمؑ کی نسل میں آیا ہے۔  

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

25 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  ’’تو آپؐ کسی یتیم پر سختی نہ کریں۔‘‘ حضور ﷺ پر اللہ تعالیٰ کے تین بڑے احسانات کے ذکر کے بعد اب یہاں اسی مناسبت سے تین راہنما اُصول بتائے گئے ہیں۔یتیم چونکہ معاشرے کا سب سے کمزور اور قابل رحم طبقہ ہوتا ہے لہٰذا سب سے پہلے آنحضور ﷺ کی حیات مبارکہ کو یتیموں کے لیے ایک نمونہ بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے خود آپؐ کی سرپرستی فرما کر اُمت کے لیے ایک راہنما اُصول بنا دیا اور یہاں یہی اُصول بتایا جارہاہے کہ آپؐ بھی اسی طرح یتیموں کی سرپرستی کا اہتمام کریں اور معاشرے میں اُن پر سختی نہ ہونے پائے۔آپ ؐ تو خود یتیم تھے،لہٰذا آپ ؐ کو احساس تو تھا ہی لیکن آپؐ رحمتہ اللعالمین بھی بنا کر بھیجے گئے ہیں،آپ ؐ تو ہیں ہی احسان کرنے والے اور رحم دل۔یہ ممکن ہی نہیں کہ آپؐ سے کسی یتیم پر سختی کا معاملہ ہو۔لہٰذا آپؐ کے ذریعے یہ اُمت کو بتایا جارہاہے کہ یتیم معاشرے کاقابل رحم طبقہ ہے اور سب سے زیادہ بے یارو مددگار لہٰذا اس کا اکرام ہو اور اس کے حقوق سلب نہ ہونے پائیں۔ ’’اور آپؐ کسی سائل کو نہ جھڑکیں۔‘‘

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

سیرت مصطفی ﷺ کے تین اہم گوشے

26 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) وہ جانتا ہے کہ کائنات کا رب توایک اللہ ہی ہے لیکن نزولِ وحی سے قبل ہدایت کی تفصیلات اس کے سامنے نہیں ہوتیں،وہ جاننا چاہ رہا ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ انسانیت کا یہ قافلہ کس طرف جارہا ہے؟معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کا سد باب کیسے ہو سکتا ہے؟تو آپﷺ بھی تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے،اصل ہدایت تک پہنچنا چاہ رہے تھے،تمام علمی سوالات کا جواب چاہ رہے تھے۔اس کے لیے آپؐ کئی کئی دن غار حرا میں جایا کرتے تھے۔ہم تو کہیں گے کہ عبادت کے لیے جایا کرتے تھے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عبادت کی نوعیت کیا تھی ؟کیونکہ عبادت کا موجودہ طریقہ تو نازل نہیں ہوا تھا،ابھی وحی تو اُتری نہیں تھی۔اُم المومنین حضرت عائشہؓ کا قول ہے کہ آپؐ جو عبادت غار حرا میں فرمایا کرتے تھے وہ تجسس، غور وفکر پر مبنی ہوتی تھی کہ کائنات کی تخلیق اور انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟اصل حقائق کیا ہیں؟ یعنی آپؐ تلاش حقیقت میں سرگرداں تھے۔ تو اللہ نے دوسرا احسان آپؐ پر یہ کیا کہ آپ ؐ پر حقائق کے دروازے کھول دئیے۔سورۃ الشوریٰ(آیت:52) میں فرمایا :’’(اے نبیﷺ !)آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے‘‘ ’’لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔‘‘

نیکی کی حقیقت

نیکی کی حقیقت

a month ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) اللہ کو راضی کرنے کے لیے کررہا ہوکوئی اور مقصد نہ ہوجیسے بعض لوگ نام اور شہرت کے لیے خیرات کرتے ہیں کہ بڑا دیندار اور سخی آدمی ہے یا الیکشن قریب آرہا ہے تو اب خیرات کے کام بڑھ چڑھ کر ہو رہے ہیں۔بظاہر تو یہ کام نیکی کا ہی ہو رہاہے لیکن اللہ کے ہاں یہ نیکی ہر گز نہیں ہے بلکہ اُلٹا اس شخص کے لیے وبال ہے۔نیکی تو تب ہو گی جب خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے کوئی کام کیا جائے۔اسی طرح ایمان بالآخرت کا حاصل یہ ہے کہ نیکی کا اجر صرف اور صرف آخرت میں مطلوب ہو۔اگر ایسا ہوگا توتب وہ  عمل اللہ کی نگاہ میں نیک ہے۔اسی طرح ایمان بالرسالت کا حاصل یہ ہے کہ کوئی بھی کام اس طریقے پر کیا جائے جو کتاب و سنت میں بتایا گیا ہو۔نیکی کے حوالے سے کچھ بنیادی باتیں توہر انسان کے اندر موجود ہیں لیکن نیکی اور بدی کا تفصیلی شعور انسان کے پاس نہیں ہے۔ تفصیلی راہنمائی ہمیں انبیاء اور اللہ کی کتابوں سے ملتی ہے اور اب اللہ کی طرف سے authanticکتاب وہ ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔اسی طرح حضور ﷺ کی شخصیت ایک مکمل شخصیت ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت میں تمام نوع انسانی کے لیے راہنمائی موجودہے۔آج بھی اگر سب سے زیادہ تفصیلات دنیا میں کسی شخصیت کے حوالے سے محفوظ ہیں تو حضور ﷺ کی حیات طیبہ کے حوالے سے ہیںجبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود تاریخی طور پر ثابت کرنامشکل ہے کیونکہ ان کی کتابیں بھی محفوظ نہیں ہیں، سب محرف شدہ ہیں چنانچہ ہم تمام سابقہ رسولوں پر ایمان لاتے ہیں تو اس لیے لاتے ہیں کہ قرآن نے بتایا ہے کہ وہ بھی اللہ کے نبی اور رسول تھے چنانچہ نیکی کا پیکر کیا ہے اس کا تعلق ایمان بالرسالت سے ہے کیونکہ نیکی کی تفصیل ہمیں اللہ کے رسولﷺ نے بتائی ہے۔  

توحید اور آخرت

توحید اور آخرت

a month ago.

قارئین!سورۃالواقعہ ہمارے زیر مطالعہ ہے۔ اس کی 56 آیات ہم پڑھ چکے ہیں۔ اِن آیات میں پہلے اہل جنت کے دو درجات اور پھر اہل جہنم کے احوال کا ذکر ہے۔ قرآن حکیم کا یہ وہ مقام ہے جہاں پر مقربین کا ایک خاص درجہ بیان کیا گیا ہے۔ جنت اور جنت کی نعمتوں کا تفصیل سے ذکر سورۃ الرحمن میں بھی آیا ہے اوراس سورت میں بھی۔ اسی طرح یہاں اہل جہنم کے احوال کا بھی ذکر ہے۔ جنت اور جہنم کے تذکرہ میں جو اصل پیغام ہے اس کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن حکیم در اصلجنت اور جہنم کا بار بار تذکرہ کر کے یہ پیغام دے رہا ہے کہ آخرت میں دو ہی مقامات ہیں:جنت اور جہنم ۔ اس کے لیے حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ (وانھا لجنۃ ابدا اولنار ابدا) یعنی آخرت میں یا تو جنت ہے ہمیشہ ہمیشہ کی ،یا پھر جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ یہ دو ہی مقامات ہیں، بیچ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔آدمی یا توجنت کا مستحق ہو گا یا پھر جہنم میں جائے گا‘ لہٰذا ہم آخرت کے حوالے سے کوئی رسک نہیں لے سکتے۔ یہ تسلی نہیں دے سکتے کہ جنت میں نہ گئے تو اس سے کم تر درجے کی آسودگی کے کسی اور مقام پر چلے جائیں گے۔ نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ اگر جنت حاصل نہ کر سکے تو نا کامی کی صورت میں خسران عظیم اور نار جہنم کا سامنا کرنا ہو گا اور اس کے ہم ہر گز متحمل نہیں ہو سکتے۔ آیات 1 تا 56 کا مطالعہ ہم پچھلے جمعہ کر چکے ہیں۔ آج ہم آیات 57 تا74 کا مطالعہ کریں گے، ان شاء اللہ۔ ان آیات میں جھنجوڑنے کا انداز ہے۔ مکی سورتوں کا ایک خاص اسلوب ہے کہ مختلف انداز سے انسان کو سوچنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اُسے دعوت فکر دی جاتی ہے کہ اپنے باطن میں جھانکو، زمین وآسمان اور مظاہر قدرت پر غور کرو،تمہیں قرآن کی دعوت دل کی آواز محسوس ہو گی۔ یہاں وہی انداز ہے۔ فرمایا:’’ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے ،تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟‘‘

مومنین اورمنافقین میں مکالمہ سورۃالحدید کی  روشنی میں

مومنین اورمنافقین میں مکالمہ سورۃالحدید کی روشنی میں

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) اہل ایمان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں جنت کی خوشخبری ہے، جنت وہ کہ جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ تم اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہوگے۔ یہ ہے اصل کامیابی جو تمہیں ملی ہے۔ جنت کی نعمتوں کا تذکرہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ حدیث کے مطابق یہ وہ نعمتیں ہیں جن کو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے ان کا تذکرہ سنا اور نہ کسی کے تصور ہی کی رسائی ان تک ہو سکتی ہے۔ جنت کا قیام دائمی ہو گا۔ دنیا میں انسان کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ ایک محدود وقت تک کے لئے ہوتی ہیں مگر آخرت میں ایسا نہ ہو گا۔ وہاں جو نعمتیں اور آسائشیں میسر آئیں گی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوں گی۔جنت کے ذکر کے بعد فرمایا کہ یہ ہے عظیم کامیابی ۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ آدمی آخرت کی زندگی میں کامیاب ہو جائے۔ نار جہنم سے بچاکرجنت میںداخل کر لیا جائے۔ دنیا میں آدمی دولت کے اعتبار سے خواہ قارون اور بل گیٹس کے مقام کو پہنچ جائے، اختیار و اقتدار کے معاملے میں فرعون بن جائے، مگرپھر بھی وہ ہر گز کامیاب نہیں ہے۔ حقیقی کامیابی صرف اور صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ ہے عظیم کامیابی! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اُخروی کامیابی عطا فرمائے، اور ہمارے ذہنوں میں یہ بات راسخ فرما دے کہ اصل کامیابی دنیا کی نہیں آخرت کی ہے۔اسلامی تحریک کے کارکنوں کی یہ بڑی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں دنیا میں اپنی کاوشوں کا پھل ملے اور اللہ کا دین غالب ہو۔یقیناًدنیا میں اسلام کا غالب ہونا کامیابی ہے مگر اہل ایمان کا مقصود آخرت کی کامیابی ہونا چاہیے۔

مومنین اورمنافقین میں مکالمہ سورۃالحدید کی  روشنی میں

مومنین اورمنافقین میں مکالمہ سورۃالحدید کی روشنی میں

2 months ago.

 سورۃالحدید کی آیات 7 تا 11میں مسلمانوں سے خطاب ہے اور انہیں جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ تمہارے اندر یقین کی کمی کیوں ہے۔ جب تم نے اللہ کو رب مان لیا تو ہرچہ باداباد۔ محمد رسول اللہ کو اللہ کا نمائندہ تسلیم کر لیا تو اب اللہ اور رسول اللہﷺ کی اطاعت سے گریز کیوں ہے۔ دیکھو! یقین والا ایمان لائو اور اللہ کے راستے میں جان و مال خرچ کرو۔ یہ مال جو تمہارے پاس ہے تمہارا نہیں ہے، اللہ کا ہے۔ یہ تمہارے پاس اس کی امانت ہے۔ اسی طرح یہ جان بھی تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اگر مومن ہو تو انہیں اللہ کے راستے میں کھپائو۔ آنحضورﷺ  کی  تربیت  ا ور  صحبت  کے  فیض  سے  صحابہ کرامؓ  کو یہ بات سمجھ میں آچکی تھی۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شہادت کامرتبہ کیا ہے۔ وہ یہ بھی حقیقت جان چکے تھے کہ دنیا امتحان گاہ ہے ۔ اصل گھر آخرت ہے۔ لہٰذا وہ ان آیات کا عملی نمونہ بنے بلکہ عمل کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ انہوں نے اللہ کے دین کے غلبہ کے لئے اپنا تن من دھن نچھاور کر دیا۔ اللہ کے رسولﷺ کا جہاں پسینہ گرا وہاں وہ اپنا خون بہانا سعادت سمجھتے تھے۔ وہ منتظر رہتے تھے کہ کب موقع آئے کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی گردن کٹادیں۔ انہیں یہ بات سمجھ آگئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا مشن غلبہ دین ِحق ہے، اور اللہ نے جہاد و قتال کا حکم اسی لئے دیا ہے، تا کہ فتنہ کا خاتمہ ہو اور دین کے اللہ کے لئے خالص ہو جائے۔ لہٰذا وہ ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہو گئے۔