اسلامی معاشرے کے خد و خال

اسلامی معاشرے کے خد و خال

6 months ago.

محترم قارئین ! سورۃ بنی اسرائیل کا تیسرا رکوع آج ہمارے زیر مطالعہ ہے۔اس رکوع میںاسلام کی معاشرتی تعلیمات کا خلاصہ بیان ہوا ہے اوریہ مضمون دو رکوعوں پر پھیلا ہوا ہے۔اس سے پہلے ہم نے سورۃ المومنون کی ابتدائی گیارہ آیات کا مطالعہ کیا تھا جن میں ایک بندہ ٔمومن کے بنیادی اوصاف کا تذکرہ تھا۔ اس کے بعد سورۃ الفرقان کے آخری رکوع کا مطالعہ کیاجس میں عبادالرحمن کے اوصاف بیان ہوئے تھے۔ یہ تمام اوصاف انفرادی سطح پر ایک فرد کی ذاتی زندگی کے سدھار ، درجات کی بلندی ، رب کی رضامندی اور نصرت کا ذریعہ ہیں ۔فرد کے بعد معاشرہ آتا ہے اور اسلام معاشرے کا معیار بلند کرنے کے لیے بھی مکمل راہنمائی دیتا ہے۔ اسلام کا معاشرتی نظام کیا ہے؟سوشل structures کیا ہیں؟سوشل ویلیوز کیا ہیں ؟کن ویلیوز کو promote کرنا ہے اور کن کو discourage کرنا ہے یا جڑ سے اکھاڑنا ہے؟اس حوالے سے بھی قرآن نے ایک پورا معاشرتی سسٹم دیا ہے۔ خاص طور پر مدنی سورتوںمیں زیادہ تر معاشرتی موضوعات ہی زیر بحث آئے ہیں۔جیسے طلاق کے مسائل ،رضاعت کے مسائل، شادی بیاہ ،نکاح کے مسائل وغیرہ اور کیا چیزیں حلال ہیں؟کیاحرام ہیں؟ یہ ساری تفصیلات سورۃ البقرہ، النساء، المائدہ،آل عمران وغیرہ میں موجو دہیں۔لیکن اس کا خلاصہ سورۃ بنی اسرائیل میں بھی ہے۔سورۃ بنی اسرائیل اگرچہ مکی سورت ہے لیکن آنحضورﷺ کے قیام مکہ کے آخری دنوں میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ایک ہے جب مدینہ میںمہاجرین  اور انصار صحابہ ؓ کے طفیل ایک مسلم معاشرہ تشکیل پا رہا تھا۔گویا اب  معاشرتی تعلیمات کی ضرورت تھی ۔لہٰذا اس ضرورت کو پورا کرنے کے  ہجرت سے متصلاً قبل یہ سورت نازل ہوئی ہے جس کے دو رکوعوں میں پورے معاشرتی نظام کے بنیادی خدوخال بیان ہوئے ہیں۔  

اسلامی نظام اخلاقی تربیت کا ضامن

اسلامی نظام اخلاقی تربیت کا ضامن

6 months ago.

 آج ہم ان شاء اللہ سورۃ الماعون کا مطالعہ کریں گے۔اس میں قریش کے احوال بیان ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ان پر خاص احسانات تھے۔ پورے عرب میں انہیں ایک مقام ،مرتبہ اور ہر طرح کا امن حاصل تھا۔ کعبہ کا متولی ہونے کی وجہ سے لوگ ان کا احترام کرتے تھے اور ان کے تجارتی قافلے سارا سال بلاخوف و خطر رواں دواں رہتے تھے۔ لوگ اللہ کے گھر کا طواف،حج اور عمرہ کرنے آتے تھے تو اس سے بھی انہیں کئی معاشی اور سیاسی فوائد حاصل تھے اور ان کی سرزمین کو امن کی سرزمین قرار دیا گیا تھا۔ یہ سب فوائد انہیں اللہ کے گھر کی وجہ سے حاصل تھے تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اسی گھر کے مالک کی عبادت کرتے اور اسی رب کو اپنا داتا، مشکل کشا اور حاجت روا مانتے مگر اس کی بجائے انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک مقرر کر رکھے تھے حالانکہ جب ابرہہ نے بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے مکہ پر چڑھائی کی تو اسی اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت کرکے قریش کو یہ باور کرادیا کہ اُسے کسی شریک کی ضرورت نہیں ہے۔قریش کی جو اخلاقی حالت تھی اس کا تذکرہ سورۃالماعون میں کیا گیا ہے۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کے کتنے مظاہر تھے جو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھےلیکن جب شرک میں پڑ گئے تو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ کہنے لگے کہ اول تو آخرت ہے ہی نہیں اور اگر ہوئی بھی تو ہمارے یہ سفارشی (360بت)جو ہم نے خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے ہیں،یہ ہمیں بچا لیں گے،لیکن جب نبی اکرم ﷺ نے ان تک قرآن کی یہ دعوت پہنچائی کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائو، وہاں کوئی کسی کو نہیں بچا سکے گا، سب کو اپنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا تو یہ سب آپ ﷺ کے مخالف ہوگئے۔ اس وقت ان کی جو اخلاقی کیفیت تھی اس کا پول قرآن نے سورۃ الماعون میں کھولا ہے۔

کیا انتخابی سیاست اسلامی انقلاب کیلئے ناگزیر ہے؟

کیا انتخابی سیاست اسلامی انقلاب کیلئے ناگزیر ہے؟

7 months ago.

 (گزشتہ سے پیوستہ) یہ متفقہ دستوری خاکہ ’’31 علماء کے 22 نکات‘‘ کے نام سے مشہور ہوا اور اس میں تمام مسالک اور مکاتب فکر کے چوٹی کے علماء کے دستخط موجود ہیں۔فیصل آباد کے بزرگ دینی رہنما مولانا مجاہد الحسینی نے حال ہی میں اس کاغذ کی ایک فوٹو کاپی مجھے دی ہے جس پر ان علماء کے دستخط ثبت تھے اور وہ میرے پاس محفوظ ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک بہت بڑا سنگ میل تھا جو عبور کیا گیا‘لیکن واضح رہے کہ یہ نیک کام ایک ’’ردِ عمل‘‘ کے طور پر وقوع پذیر ہوا تھا۔ نفاذِ اسلام کے حوالے سے کوئی مثبت احیائی جذبہ اس کی پشت پر کارفرما نظر نہیں آتا۔ چنانچہ اس کے بعد ملک میں دین کے غلبے اور نفاذِ شریعت کے لیے دینی طبقات کو جو لازمی اقدام اٹھانے چاہئیں تھے‘ کم سے کم میرے محدود مطالعے کی حد تک نظر نہیں آتے۔یعنی ان22 نکات کی بنیاد پر نفاذِ اسلام کے لیے کوئی اجتماعی کوشش اور اسے اپنے اہداف میں کوئی نمایاں مقام دینے کا معاملہ دکھائی نہیں دیتا۔ 

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

7 months ago.

 سورۃ العلق وہ سورت ہے جس کی پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی کے طور پر آپ ﷺ پر نازل ہوئیں ۔ ان پہلی پانچ آیات میں ایک مضمون ہے ۔ پھر تین آیات میں ایک اور مضمون بیان ہوا ہے اور اس کے بعد کی آیات میں مشرکین میں سے ایک اہم کردار ابو جہل کا تذکرہ ہے۔ پہلی پانچ آیات کے حوالے سے تمام مفسرین متفق ہیں کہ یہ آیات غاز حرا میں نازل ہوئی ہیں ۔اس کا پس منظر سب کو معلوم ہے کہ نبی ایک اعتبار سے پیدائشی نبی ہوتا ہے اور اس کے ضمن میں اللہ کا قانون ہے کہ نبی معصوم عن الخطاء ہوتا ہے ۔وہ کبھی کسی بت کے آگے سجدہ ریز نہیں ہوتا اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو حاجت روا یا مشکل کشا سمجھتا ہے ۔یعنی نبی پہلے دن سے ہی اپنی اصل فطرت یعنی فطرت توحید پرقائم ہوتا ہے ۔ لیکن نبوت کا ظہور ایک خاص وقت میں ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے : ’’یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری قوت کو پہنچتا ہے اور چالیس برس کا ہو جاتا ہے‘‘(الاحقاف۔۱۵)  

دنیوی زندگی۔متاع غرور

دنیوی زندگی۔متاع غرور

8 months ago.

(گزشتہ سےپیوستہ) ’’(بندو) لپکواپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی (طرف)، جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ اور جو اُن لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے کہ دنیا، جو دھوکے کا سامان ہے، اِس کے چکر میں نہ آئو۔ تمہاری اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اُس کو سنوارنے کے لئے محنت کرو۔ تم دنیا میں مقابلہ کی بجائے آخرت بنانے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرو۔ اللہ سے مغفرت کے حصول اور اُس جنت کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، جس کا عرض آسمان اور زمین جیسا ہے___ آج ہر طرف دنیا پر ستی کی آگ بھڑک رہی ہیں۔ اِس بات کی تلقین کی جا رہی ہے کہ تمہاری زندگی یہی زندگی ہے، اِس کو بہتر بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائو، اِس کو پُر آسائش بنانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں لگا دو، (معاذ اللہ) جائز و ناجائز، حلال و حرام کے تصورات سے پیچھا چھڑائو۔ تمہارا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ تم بڑے رقبے اور جائیداد کے مالک بن جائو۔ کئی کئی کنال رقبے پر محیط تمہاری شاہانہ رہائش ہونی چاہیے، تاکہ ایلیٹ کلاس میں شامل ہو سکو۔آپ پوری دنیا میں چلے جائیے، یہی رحجانات آپ کو ہر جگہ ملیں گے۔ ان رحجانات کو کنٹرول کرنے کا ذریعہ ایمان حقیقی ہے۔ اگر ان رحجانات کو لگام نہ دی جائے تو پھر دنیا کی زندگی یہی کچھ رہ جائے گی کہ بقول اکبر ا لہٰ آبادی