بھارت سے اسی کی زبان میں بات کریں

بھارت سے اسی کی زبان میں بات کریں

3 months ago.

 پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کا عنصر پہلے روز سے ہی موجود رہا ہے،ان تعلقات میں کمی بیشی البتہ حالات اور وقت کے ساتھ آتی رہی،  دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے حالات کے مطابق دونوں ملکوں کی قیادت کوششیں  کرتی  رہیں مگر بد قسمتی سے یہ کوششیں کبھی بار آور ثابت نہ ہو پائیں ۔ اس ناکامی کی بنیادی وجہ بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی،کہہ مکرنی،اپنی بات پر اڑے رہنا رہی،بھارت نے ہر دور میں پاکستان کو عالمی برادری میں  نیچا دکھانے   کی منصوبہ بندی کی  ،یہ الگ بات کہ اسے ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی،اسلحہ کے انبار بھی اسی لئے   لگائے گئے،مگر یہ وقت کا ستم تھا کہ بھارت عالمی قوتوں سے اسلحہ خرید کر اپنی عوام کا معاشی بھرکس نکالتا رہا اور پاکستان نے چین کے تعاون سے اس شعبہ میں خود کفالت حاصل کر لی اور آج پاکستاں اسلحہ کیساتھ جنگی جہاز بھی برآمد کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہوتا ہے۔   بھارت کو  خارجہ  محاذ پر بھی  ہمیشہ   ہزیمت کا سامنا کرنا پڑاکہ بھارت کی ابتداٗ سے پہچان ایک شدت پسند  ہند و  ریاست کے طور پربن چکی تھی،گاندھی جیسا   لیڈر بھی اس تعصب سے پاک نہ تھا نہرو جیسا ترقی پسند رہنما  بھی سر سے پائوں تک اس غلاظت میں لتھڑا ہواء تھا،شاستری اس حوالے سے تمام حدیں عبور کر گیا،اندرا گاندھی کو اس کے زمانے کے لوگ جمہوریت پسند صلح جو اور جدید نظریات کی حامل سیاست دان سمجھتے رہے مگر بھارت کے اندر اور بیرونی دنیا میں ان کی دہری پالیسی زیادہ دیر تک راز نہ رہ سکی،اور ایک دن اندرا خود بھی اسی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔  

کشمیر اور عالمی امن

کشمیر اور عالمی امن

4 months ago.

         امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش مظلوم ،مقہور،مجبورستم زدہ کشمیریوں پر قیامت بن کرٹوٹی ہے،بھارتی فوج جو پہلے ہی نہتے کشمیریوں خواتین بچوں کو مشق ستم بنائے ہوئے تھی نے اپنے تمام ڈنگ باہر نکال لئے اورسب وشتم کا ایک نہ ختم ہونے والا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ستم یہ کہ اس درندگی میں بھارتی فوج کو بنیاد پرست مودی حکومت اور دہشت پسند،انتہا پرست جنونی ہندئوں کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ٹرمپ خود ایک انتہا   پسند ہیں ان کے شائد وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ افغانستان سے بحفاظت1 انخلاء اور جنوب ایشیاء کو جوہری جنگ سے بچانے کیلئے ان کی پیشکش پر بھارتی رد عمل اس انداز سے آئے گا۔امریکی صدر کی پیشکش کے بعد بھارتی حکومت اور فوج کی تلملاہٹ  اور  گھبراہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی،بھارت کو  کشمیر  بزور بندوق فتح کرنے کی اپنی  70سالہ کوششیں مٹی میں ملتی دکھائی دینے لگیں،اسی خدشے کے تحت بھارت نے جبر و ستم کے نئے نئے باب رقم کرنا شروع کر دئے،شہری آبادی پر کلسٹر بموں کی برسات کر دی جن کا آبادی پر استعمال جنیوا کنونشن کی قرارداد کے مطابق ممنوع ہے،لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا بار بار اعادہ کیا جانے لگا،نیلم وادی میں بھی کلسٹر بم پھینکے  گئے۔دوسری طرف کشمیریوں کی شہادتوں میں اضافہ کے باوجود ان کے عزم ، جذبے اور حوصلہ میں کمی نہیں آئی،مگر بھارتی جارحیت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔  

c

c

4 months ago.

ساڑھے تین سو کلومیٹر کی رفتار سے ہماری ریل کار  بیجنگ سے ہانگ زو  کی طرف جارہی تھی، میری سیٹ کےسامنے  لگی ہوئی ٹرے پر رکھا ہواکافی کا کپ بالکل  ایسے ساکن تھاجیسا زمین پر پڑی میز  پر ،اکثر مسافر کتاب پڑھ رہے تھےیا پھر اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرتے نظر آ رہے تھے۔ٹریک کےاطراف  خوبصورت اور لش گرین گھنے درخت  قطار اندر قطار  پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے۔ شام کاعجیب سہانامنظر تھا ، میں اس  میں کھویا ہوا تھا مجھے جنگل کی شہزادی اور اس کے شاعر جوش ملیح آبادی یاد آ رہے تھے۔پیوست ہے جو دل میں وہ تیر کھینچتاہوں اک ریل کےسفر کی تصویر کھینچتاہوں گاڑی میں گنگناتا مسرور جارہا تھااجمیر کی طرف سے جے پورجارہا تھاتیزی سےجنگلوں میں یوں ریل جا رہی تھی لیلیٰ ستاراپنا  گویا  بجا رہی تھی  میں نے دوسری سیٹ پر بیٹھے مظہر برلاس اور کومل سلیم کو دیکھا،آنکھیں بند کیں اور ایک بار پھر جنگل کی  شہزدی میں کھو گیا۔تھوڑی دیر بعد  آنکھ کھولی  اور ڈاکٹر صغریٰ صدف کومتوجہ کیااور انہیں حضرت جوش اور انکی جنگل کی شہزادی یاد کرائی،پلاک  کی روح رواں صغریٰ صدف خود بہت اچھی شاعر ہیں۔اسی اثنا میں اچانک میرے ساتھ بیٹھے ملک سلمان نے یہ کہ کرمیرے رومانس کا ستیا ناس کر دیا کہ گورایہ صاحب چینی ریلوے ہماری ریلوے سے بہت بہتر کیوں ہے؟ پاکستان ریلوے  کے ساتھ ہی میرے ذہن میں ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید  آگئے۔کہاں جوش ملیح آبادی،جنگل کی شہزادی اور کہاں شیخ رشید کا تصور،میں نےکہا جانےوالی نظروں سے ملک سلمان کو دیکھا ،پھر  میرے ذہن میں  پاکستان ریلوے کےنہایت اچھےسیکرٹری سلطان سکندر راجہ اور ڈائریکٹر منسٹر آفس علی نوازآگئے  اور میں نے پہلا خیال جھٹک کر دونوں ملکوں کی ریلوے کا موازنہ شروع کر دیا ۔  

دیوار چین اور صوفیانہ کلام

دیوار چین اور صوفیانہ کلام

4 months ago.

چین جائیں اور گریٹ وال نہ دیکھیں دورہ ادھوراسارہتا ہے،لگتاہےچینی  ترقی کا راز اس عظیم دیوار میں چن دیا گیاہے۔چینی آغاز آفرینش سے ہی مشکل پسند ہیں اور چین جانا کسی دور میں ایک ایڈونچر ہوا  کرتا تھا ،اسی لئے دو ہزار سال پہلے بھی عرب میں ضرب المثل تھی کہ’’علم حاصل کروخواہ تمہیں چین جانا پڑے‘‘  منجمند سمندر،برفیلی چوٹیوں میں گھرے چین کو جو زمینی راستہ منگولیا کی طرف سے دیگر دنیا سے ملاتا تھا وہ خطرات سے پرتھا۔منگول ہر وقت شب خون مارنے کو تیار رہتے تھے،لوٹ مار ان کا وطیرہ تھا،اس مستقل خطرے سے نبٹنے کیلئے حکمران خاندان منگ نےقریباْاڑھائی تین سو سال قبل مسیح اس دیوار کی تعمیر کا قصد کیا تاکہ منگولوں کےخطرہ سےمحفوظ رہا جا سکے۔یہ دیوار اپنی ساخت ،محل وقوع،بلندی،کشادگی اور مضبوطی کے حوالے سے فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے،اس دیوار کی لمبائی 6ہزار 4سو کلو میٹر یعنی 4ہزار میل کے برابر ہے، پتھریلے پہاڑوں کو کاٹ کر پتھر کی سلوں کی اس دیوار کی تعمیر میں کوئی مشینری استعمال نہیں کی گئی بلکہ یہ سرا سر انسانی ہاتھوں کا کمال ہے۔پی ٹی وی کی اینکر کومل سلیم کو دیوار چین دیکھنے کا اتنا شوق تھا کہ وہ سب سے پہلے تیار ہو کر محترمہ صغریٰ صدف کے ساتھ  ناشتہ کے بعد بس میں بیٹھ چکی تھی۔میں نےپہلے بھی یہ عجوبہ دیکھا ہوا ہے مگر دوبارہ دیکھنے کا شوق پہلے جیساہی ہے۔سلمان ملک آج کچھ زیادہ ہی چہک رہا ہے،آصف عفان اور میاں سیف الرحمان  بھی حسب حال موڈ بنا کربیٹھے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کی آواز سجاد جہانیہ بھی سنجیدگی کا گھونگٹ اتار چکے ہیں۔  بس میں  بیٹھنے  کے بعد  ہنستے ہوئے اپنی بیٹی کا میسج مجھے دکھا رہے تھے،بابا ہم نے آج دال چاول کھائے ہیں اور آپ نے کھائےہوں گے کیڑے مکوڑے اور چھپکلیاںــ،، میں سوچ رہا تھا  کہ دنیا کے سات عجوبوں میں شامل  دیوار چین  شائد  واحد عجوبہ ہے جو اپنی اصل حالت میں آج بھی سر اٹھائے دنیا کو محو حیرت کرتا ہے ورنہ اکثر عجوبے اپنا وجود ہی کھو چکے ہیں۔انقلابات زمانہ نے جنگوں کے طور طریقے بدل ڈالے،تہذیب و تمدن نے دوسرے ملکوں کو تاراج کرنے کی رسم بھی بدل ڈالی جس کے بعد اس دیوار کی جنگی اہمیت تو ختم ہو گئی مگر ایک عجوبہ روزگار اور انسانی ہاتھوں کی مہارت کے حوالے سے یہ دیوار اب بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔چینی ایک عظیم قوم ہے جو صدیوں قبل بھی تہذیب و ثقافت سے آشنا اور طاقت و فن کی دلدادہ تھی،دیوار چین بھی اس کی ایک مثال ہے،مختلف ادوار میں اس کی لمبائی مختلف بیان کی گئی ہے،اس کے باوجود آج بھی دنیا کی یہ سب سے طویل،بلند اور مضبوط دیوار ہے،اس دیوار کو دیکھ کر چینی قوم کے عزم و حوصلے کا بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے،ہزاروں سال قبل جس قوم کی قیادت نے ہزاروں میل لمبی یہ دیوار صرف انسانی ہاتھوں کی مدد سے تعمیر کر ڈالی آج کے ترقی یافتہ دور میں اس کا مقابلہ کیونکر کیا جا سکتا ہے۔یہ دیوار چونکہ جنگی نقطہ نظر سے بنائی گئی تھی لہذْا ایسے تمام انتظامات کو یقینی بنایا گیا جن کے تحت دشمن کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھی جا سکے اور کسی در اندازی کا موثرجواب بروقت دیا جا سکے،ان مناظر کودیکھنے کے بعد جو تصوراتی کیفیت ابھرتی ہے وہ اس یقین میں بدل جاتی ہے کہ کوئی طاقت اس عطیم قوم کو کیسے سر نگوں کرسکتی ہے،چین اور چینی قوم کی عظمت سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں مگر یہ دیوار وہ کتاب ہےجس کا ہر ورق چینیوں کی عظمت کی گواہی دے رہا ہے،صدیاں بیت گئی،انقلابات جنگوں قدرتی آفات نے ملکوں قوموں کو تہہ و بالا کر دیا کچھ کو تاریخ کا حصہ بنا دیا مگریہ دیوار آج بھی اپنی جگہ موجود ہے،یہ دیوار بہت سے پہاڑی سلسلوں کو ملاتی ہے،بلند چوٹیوں کی وجہ سے بلندی پر اس کی تعمیر بھی اپنی جگہ ایک ناقابل یقین بات ہے۔  

شہد سے میٹھی

شہد سے میٹھی

5 months ago.

آپ چین جانا پسند کریں گے،شعیب بن عزیز صاحب نے فون پر سلام دعا کے بعد کہا  جو سوال سے زیادہ برادرانہ حکم تھا،  جس سے انکار ممکن ہی نہ تھا ،جی بھائی جان ،اور کون کون جا رہا ہے،میں نے پوچھا ، مظہر برلاس اور میاں سیف الرحمان کے نام سن کر دل میں اطمینان ہوا کہ سفر اچھا رہے گا۔ ۔ڈاکٹر  ظفر صاحب ،چینی قونصلیٹ لاہور کے تعاون سے  ایک وفد لے کر چین جا رہے ہیں آپ اس کا حصہ ہوں گے۔اگلے چند روز میں چینی سفارت کاروں اور ڈاکٹر ظفر صاحب کے ساتھ ہائی ٹی ،دورے کی بریفنگ اور ویزے کے مراحل بآسانی طے ہو گئے ۔ڈاکٹر ظفر صاحب کے ساتھ پہلا انٹر ایکشن تھا،کمال کے آدمی ہیں ،پاک چین دوستی پروموٹ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔وفد کے ارکان کا خیال تھا کہ شائد ڈاکٹر صاحب کا چین اور پاکستان میں کوئی لمبا چوڑا بزنس ہے جو غلط ثابت ہوا ۔موصوف چینی زبان بولتے ،اہل زبان لگتے ہیں۔چین میں پاکستانی سفارت خانے میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں اور یہ کام اب بلا معاوضہ کرتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے پاک چین دوستی شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ہمارے وفد میں پلاک لاہور کی ڈائرکٹر جنرل محترمہ صغری صدف،روزنامہ دنیا کے سینئر صحافی اور کالم نویس آصف عفان،پیارے بھائی اور ملتان آرٹس کونسل کے ڈائرکٹر سجاد جہانیہ، مسلم لیگ (ن) کے محمد مہدی ، کالم نگاروں کی ایک تنظیم کے صدر  اور انتہائی متحرک  ملک سلمان ،سینئر فوٹو جرنلسٹ محمد عامر،پی ٹی وی کی کومل سلیم،اور فری لانسریاسر حبیب خان شامل تھے۔  دورے کی تیاری کرتے وقت مجھے یاد آ رہا تھا کہ پاک چین دوستی کی ابتدا21 مئی 1951ء سے ہوئی، پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا۔ اس سفارتی پیش قدمی کو چین نے کبھی نہ بھلایا۔ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دوطرفہ تعلقات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تمام موسموں اور حالات کے اتار چڑھائو کے باوجود قائم و دائم ہے۔ دراصل اس تعلق کو شروع ہی سے ایک دوسرے کی عزت اور ملکی مفادات کو محترم رکھنے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ لہٰذا دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں کی حمایت کی۔  

اک  چراغ  اور بجھا اور بڑھی تاریکی

اک  چراغ  اور بجھا اور بڑھی تاریکی

5 months ago.

 رازی صاحب پر اللہ کی رحمت  ہو ابھی کل کی بات ہے ،ایکسپریس میڈیا گروپ کے افطار ڈنر  میں کاظم اور میرے ساتھ انکی محبتوں بھری چھیڑ چھاڑ  چل رہی تھی۔ہم دونوں نے رازی صاحب سے پوچھے بغیر انکی طرف سے اگلے روز کی افطاری کا اعلان کر  کے دیسی مرغی کا مینو بھی جاری کر دیا  مگر  اعجاز الحق صاحب کی واپس کراچی روانگی کے سبب یہ  پروگرام کینسل کرنا پڑا۔ایسے بے شمار کام تھے جو ہم رازی صاحب سے پوچھے بغیر ان کے کھاتے میں ڈال دیتے تھے اور بڑا  ہونے کے ناطے وہ  انہیں قبول کر لیتے تھے۔مجھے اور ایاز خان صاحب کو لگتا تھا کہ ہمارے ساتھ نوائے وقت کے پرانے رشتے کے سبب ان کا پیار زیادہ ہےمگر انکی وفات کے بعد محسوس ہوا ،ہم دونوں کا  پیار تو کسی شمار میں ہی نہیںوہاں تو پیار کرنے والے سینکڑوں ہزاروں میں ہیں۔گزشتہ جمعہ کی رات گئے ،اوصاف کے آرٹ ایڈیٹر بابر کا  وائس میسج مجھے  موصول ہوا تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا ،میں نے رازی صاحب کے  

حکومت مخالف تحریک؟

حکومت مخالف تحریک؟

6 months ago.

بلاول بھٹوزرداری کی افطار پارٹی سے وابستہ، احتساب کے شکنجے میں کسے سیاستدانوں کی کوئی ایک امید بھی نہ بر آئی،خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن تو  مکمل طور پر مایوس دکھائی دئیے۔دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا کے مصداق  چلے تھے حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے مگر مقصد سے عاری یہ اپوزیشن اکٹھ خود ہی کسی بات پر متفق نہ ہو سکا،ملکی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست ایک دوسرے کی مخاصمت کی حد تک مخالفت کی بنیاد پر استوار رہی۔ماضی میں جھانکیں  تو  ضیاء الحق نے ن لیگ کی بنیاد ہی پیپلز پارٹی کو سیاسی میدان سے آئوٹ کرنے کیلے رکھی تھی،مگر اسلام کے نام پر ملک کو لسانی اور مذہبی گروہوں کے سپرد کرنے والے جرنیل کو بھی ہزیمت کا سامنا کرناپڑا اور پیپلز پارٹی کا وجود اور سیاسی کردار جرنیل کے وظیفہ خوار ختم نہ کرسکے۔ تاریخ شاہد ہے کہ عوام کو بیوقوف بناکر ووٹ لینے والی ان دونوں جماعتوں کی قیادت کو جب کبھی اپنی سیاست اور لوٹی دولت خطرے میں دکھائی دی دونوں جماعتوںکی قیادت اختلافات کو بھلا کر ایک ہو گئی اور جیسے ہی خطرہ ٹلا عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے ایک بار پھر باہمی  مخالفت پر کمر کس لی،ایوب خان اور ضیاء الحق کی باقیات یہ دونوں جماعتیں عرصہ دراز سے جمہوریت کے نام پر عوام کو الو بنا رہی ہیں،حالانکہ جمہوریت نام کا جانور خود انکی پارٹی میں بھی دکھائی نہیں دیتا،باپ کے بعد بیٹا،بھائی یا بیٹی ہی قیادت کے حقدار جانے گئے۔

 گوادرپورٹ

گوادرپورٹ

7 months ago.

پورے ملک کی نگاہیں گوادر  پر لگی ہوئی ہیں ، یہ صرف ایک بندر گاہ نہیں بلکہ صحیح معنوں میں ملکی معیشت کا گیم چینجر ہے۔بلوچستان کیلئے تو یہ کسی نعمت  سے کم نہیں مگر پاکستاں کی معیشت اور تجارت کیلئے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جنوب اور وسط ایشیاء میں واقع ممالک کیلئے بھی گوادر پورٹ معاشی حب کی حیثیت رکھتی ہے۔بلوچستان اگر چہ مملکت پاکستان کے کل رقبہ کے 44فیصد پر محیط ہے مگر زراعت،صنعت،تجارت نہ ہونے کے باعث صوبہ کی ترقی کی رفتار بہت سست رہی،نہری اور زمینی پانی کی کمی،زمین کا ہموار نہ ہونا،پہاڑی سلسلے،صحرائی اور پتھریلی زمین زراعت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے، ورنہ نصیر آباد اور قلات ،لورالائی، ژوب سمیت جن علاقوں میں فصل ہوتی ہے وہاں کی زمین بہت زرخیز ہے۔نصیر آباد واحد ضلع ہے جہاں نہری پانی دستیاب ہے،ستم یہ کہ ماضی کی کسی حکومت نے بلوچستان کی زرخیز زمین کو کار آمد بنانے کیلئے کوئی منصوبہ تشکیل دیا نہ اس حوالے سے کوئی ڈیٹا وضع کیا گیا،نتیجے میں آج بھی لاکھوں ایکڑ اراضی بے آب و گیاہ پڑی ہے،حالانکہ دنیا  کی بہترین کھجور پنجگور اور تربت کے علاقہ میں پیدا ہوتی ہے ،صرف ان کی پیداوار اور برآمد پر توجہ دی جائے تو بلوچستان کی معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے، صوبہ میں ہینڈی کرافٹ کی صنعت پرتوجہ دی جاتی تو صرف جانوروں کی اون سے تیار شدہ قالین کی تجارت سے ہی بھاری زر مبادلہ حاصل کیا جا سکتا تھا،مگر حکومتی سر پرستی نہ ہونے سے یہ شعبہ بھی جانکنی کے عالم میں ہے،ماہی پروری اور مویشی پال سکیموں کو بڑھاوادیا جائے تو صوبہ ہی نہیں پورے ملک کی، گوشت،دودھ کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے اور چمڑے کی صنعت کو ترقی  مل  سکتی ہے،مگر  کسی وفاقی ، صوبائی حکومت نے اس ہاتھ کی تجارت پر توجہ دی  نہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کی گئی،نتیجے میں بلوچستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔     معدنیات اس صوبہ کو قدرت کا تحفہ ہے مگر صرف کوئلہ،گیس اور تیل کے ذخائر پر توجہ ہے،تانبہ،نکل،بہترین ماربل جس کی عالمی منڈی میں بھی کھپت ہے،  لاوارث  پڑا ہے  ۔اگر ان پر کام کیا جاتا تو ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے اور برآمدات سے زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا تھا،کوئٹہ کے سوا پورے صوبہ میں صنعت نام کا کوئی جانور دستیاب نہیں،سبی کے قریب ہرنائی وولن ملز اپنے دور کی بہت بڑی صنعت تھی مگر قومیائے جانے کے بعد یہ مل عرصہ دراز سے بند پڑی ہے،اگر ماضی کی حکومتیں ہر بڑے شہر میں صنعتی زون قائم کرتیں اور جس طرح ماضی میں کے پی کے میں صنعتی زون قائم کئے تھے،ایسا ہوتا تو صوبہ آج ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتا۔ گوادر پہلا قومی نہیں بلکہ عالمی سطح کا منصوبہ ہے جو صوبہ کی ترقی کا ضامن بھی ہے،اگر چہ گوادر میں مقامی آبادی کا تناسب بہت کم ہے،آبادی کی اکثریت کا ذریعہ معاش سمندر سے مچھلیاں پکڑنا ہے،مگر مچھلی کو محفوظ بنانے اور اس کی بر آمد کیلئے کوئی حکومتی منصوبہ نہیں،جس کی  وجہ سے اس شعبہ پر بھی جمود طاری ہے۔ گوادر پورٹ کی تعمیر سے مچھلی کی صنعت کو بھی فروغ حاصل ہو گا،،مقامی آبادی کو روزگار بھی ملے گا،مقامی صنعت کو بھی پنپنے کا موقع ملے گا۔ شنید ہے کہ گوادر پورٹ کے کھلے سمندر میں ڈرلنگ کے بعد تیل کے ذخائر کی اطلاع ملی ہے،سعودی عرب گوادر میں آئل ریفائنری بھی لگا رہا ہے،جس کا معاہدہ طے پا چکا ہے،ریفائنری کی تنصیب کے بعد علاقہ میں نہ صرف روزگار بلکہ کاروبار

درویش صفت سراج الحق اور جماعت اسلامی

درویش صفت سراج الحق اور جماعت اسلامی

7 months ago.

جماعت کے پہلے امیر خود بانی جماعت سید مودودی تھے،ان کی علمی حیثیت کے، مخالفین بھی معترف ہیں۔تمام تر سیاسی ،علمی کارناموں کیساتھ ’’تفہیم القران‘‘ لکھنا ان جیسی عظیم المرتب اور صاحب    استقامت شخصیت ہی کا کام تھا ،جماعت اسلامی کو انہوں نے موروثی جماعت بھی نہیں بننے دیا،ان کی زندگی میں ہی ان کی اولاد جماعت کی سیاسی سرگرمیوںسے لا تعلق رہی،جبکہ اپنی موجودگی میں انہوں نے میاں طفیل محمد کو امیر جماعت کی ذمہ داری سونپی،بعد میں ارکان باقاعدہ ان کا انتخاب عمل میں لائے،میاں صاحب بھی علمی شخصیت کے طور پر اپنا ایک منفرد مقام رکھتے  تھے،ان کی علمی خدمات میں حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کی معرکۃالآرا تصنیف ’’کشف المحجوب ‘‘ کا اردو میں ترجمہ بھی شامل ہے،ان کے دور امارت میں سیاسی گر ما گرمی عروج پر رہی،اور میاں صاحب نے اس کی قیمت شاہی قلعہ میں بھٹو حکومت کے مظالم سہتے ادا کی،مگر زبان پر حرف شکائت نہ لائے،عزیمت کیساتھ اپنے موقف پر قائم رہے،مولانا مودودی نے اپنے سیکرٹری جنرل کو قائمقام امیر نامزد کیاتو میاں صاحب نے بھی اپنے سیکرٹری جنرل قاضی حسین احمد کو اپنی علالت طبع کے بعد قائم مقام امیر نامزد کیا ان کو بھی بعد میں ارکان جماعت نے باقاعدہ طور پر منتخب کر کے سند امارت عطا کی۔

تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں

تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں

8 months ago.

  تحریک انصاف کی حکومت اور پاکستانی قوم آج اس دوراہے پر کھڑی ہے  جہاں’’نا جائے ماندن،نا پائے رفتن‘‘کی سی کیفیت ہے۔عمران خان کی  حکومت کو ہوا   کا خوشگوار جھونکا سمجھا جا رہا تھا،الیکشن میں انہوں نے  قوم کے ایسے طبقے کو باہر نکالا جن کو کبھی سیاست اور حکومت سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی،عمران  خا ن  کے    وزیر اعظم بننے کے بعد امید جاگی کہ اب کرپشن،رشوت ،اقرباء پروری، سفارش ، ڈنگ ٹپائو پالیسیوں  کا گرم بازار ٹھنڈا ہو گا اور ملک صحیح معنوں میں حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا،مہنگائی،بیروزگاری،بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ،امن قائم،انصاف عام ہو گا،قانو ن کی بالادستی ہو گی،سرکاری عمال عوام کے آقا نہیں خاد م ہونگے،عام شہری بلا خوف و خطر سر اٹھا کر جی سکے گا،مگر یہ ساری امیدیں اب قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں ،اگر چہ امید کا دیا اب بھی ٹمٹا رہا ہے مگر بقول  مصطفیٰ زیدی امیدوبیم ،دست و  بازوئے قاتل میں رہتے ہیں تمہارے چاہنے والے بڑی مشکل میں رہتے ہیں  

 دل کا کیا کریں صاحب

 دل کا کیا کریں صاحب

8 months ago.

 نواز شریف کو عدلیہ سے علاج کیلئے ملنے والے  چھ ہفتے میں سے کچھ مدت ختم ہو گئی لیکن آج تک باقاعدگی سے علاج شروع ہو سکا نہ ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ شریف سٹی میڈیکل ہسپتال میں ان کے بعض ٹیسٹ کئے گئے اور باقی کا وقت سابق وزیر اعظم نے سیاسی سرگرمیوں میں گزارا ۔  وہ جو نواز شریف کی بیماری اور علاج کے بارے میں پریشان تھے اور لمبے چوڑے بیانات دے رہے تھے،اب شائد آرام  میں ہیں ، ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا   اگر نواز شریف کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق ہواء تو ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان ہونگے۔سابق وزیر اعظم کو علاج کی جو سہولت  ضمانت کے بعد  فراہم کی جا رہی ہے اس سے بہتر تو  پنجاب حکومت جیل میں مہیا کر رہی تھی،مگر اب قائد ن لیگ کی زندگی خطرہ سے باہر ہے،اس لئے کہ وہ جیل سے باہر ہیں اور اپنے محل میں  سکون کے شب و روز گزار رہے ہیں۔نواز شریف کا اصل اعتراض تھا کہ علاج ان ڈاکٹرز کے ذ ریعے کرایا جائے  جو ماضی میں لندن میں ان کا علاج کرتے رہے،لیکن اب تک ان کی طرف سے لندن کے ان  ڈاکٹروں سے رابطہ نہیں کیا گیا،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ علاج نہیں بلکہ علاج کی آڑ میں لندن جانا چاہتے تھے،مگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں انکے بیرون ملک جانے پر پابندی برقرار رکھی،جس وجہ سے وہ اب اندرون ملک ہی علاج کے نام پر ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔