اُمت پہ تری  آکے عجب وقت پڑا ہے !

اُمت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے !

7 days ago.

 امتیوں نے راحتِ قلب و جاں رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفی ﷺ کا یوم ولادت دنیا کے کونے کونے میں منایا۔ اپنے اپنے ذوق کے مطابق سیرت کانفرنسز اور محافل میلاد کا اہتمام کیا ۔ خاتم النبیینﷺ کی مدحت میں نعتیں پڑھی گئیں ۔ درود وسلام کے نذرانے پیش کئے۔ نذر و نیاز کی صورت غرباء و مساکین کی دستگیری اور احباب کی ضیافتیں کی گئیں ۔ سرکار مدینہ ﷺ کا اُمتی ہونے کا شرف ہے ہی اتنا اعلیٰ کہ جتنا اظہارِ تشکر کیا جائے اُتنا ہی کم ہے ۔ عشاق نے تمام عالم میں اپنی عقیدتوں کے پھول نچھاور کئے۔ امریکہ ، یورپ ، برطانیہ اور اسکینڈے نیوین ممالک میں بسنے والے مسلمانوں نے نہایت ذوق و شوق سے حبیب کبریا ﷺ کے ذکر و مدحت کا اہتمام کیا ۔ کہیں شیخ سعدیؒ کی شہرہ آفاق رباعی بلغ العلیٰ بکمالہ کانوں میں رس گھول رہی ہے تو کہیں امام شرف الدین بوصیریؒ کا مقبول عام قصیدہ مولیٰ یا صلی وسلم دائماً ابداً پڑھ کر تجدید محبت کی جارہی ہے۔ گلی گلی امام احمد رضا خانؒ کا مشہورِ عالم کلام مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام گونج رہا ہے تو کہیں اہل ذوق مفتی تقی عثمانی صاحب اور حضرت حکیم اختر ؒ کے نعتیہ کلام سے دلوں کی تسکین کا اہتمام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سرکار مدینہ ﷺ کے ادب ، احترام اور عشق کے معاملے میں مجھے تو مختلف مکاتب فکر میں کوئی خاص تفریق دکھائی نہیں دکھائی دی۔ ہر مکتبہ فکر اپنے ذوق و فہم کے مطابق ایک دوسرے پر سبقت لے جاتا محسوس ہوتا ہے ۔ بچپن میں حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کا سنا یہ نعتیہ کلام آج بھی ذہن میں محفوظ ہے! 

 نظر ثانی کی گذارش

 نظر ثانی کی گذارش

26 days ago.

  دھرنا خبروں میں چھایا ہوا ہے! بعض احباب مُصر ہیں کہ دھرنے پر قلم اُٹھایا جائے۔ راقم کی طبیعت اس جانب مائل نہیں ہو پارہی۔ احباب سے یہ کہہ کر جان چھڑوانے کی کوشش کرتا ہوں کہ چند روز کی تو بات ہے۔ جب اکتیس اکتوبر آئے گی تو  دھرنے کا  پتا چل ہی جائے گا ۔ بیشتر معاملات میں  حکومت کی ناکامی اور عمومی نا اہلی عوام کے لیے باعثِ تشویش ضرور ہے لیکن اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سابقہ حکمرانوں اور حزبِ اختلاف کے بزر جمہروں کی نااہلیوں اور بد عنوانیوں کو نظرانداز کر دیا جائے۔ ماضی کے نکھٹو اور نکمے آج پارلیمان میں بطور حزب اختلاف بھی نکمے اور نکھٹو ہی ثابت ہو رہے ہیں۔  موجودہ حکمراں جس طرح ناقص کارکردگی کی بنیاد پر آج  عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہیں بالکل اسی طرح حزب اختلاف کی صفوں میں پائے جانے والے ہر برانڈ کے راہنمائوں کے ماضی کے کر توت بھی عوام سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ دھرنے میں امامت کا فریضہ انجام دینے والی مذہبی سیاسی جماعت کا ایک مخصوص ماضی ہے۔ یہ ماضی بعض  تضادات اور ناخوشگوار حوالوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔  سیاسی ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر عوام اور میڈیا بآسانی ایک رائے قائم کر سکتے ہیں ۔ سیاسی مخالفین جب ماضی کھنگالتے ہیں تو بات طرفین کے اکابرین تک جا پہنچتی ہے۔ دھرنے کے لیے پی پی پی اور نون لیگ سے معاونت کی تمنا کی جا رہی ہے ۔ مشاورت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کو نااہل قرار دے کر استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والی جماعت جب ماضی کے نااہل اور بد عنوان حکمرانوں سے دست تعاون طلب کرتی ہے تو عوام کی نگاہوں میں اُس کا موقف کمزور بھی ہوتا ہے اور مشکوک بھی! گذشتہ ڈیڑھ دو عشروں میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے اپنی مبہم اور ناقص پالیسیوں کی بدولت عوام میں اپنی ساکھ مجروح کر وائی ہے ۔ اس کمزور پہلو کو بنیاد بنا کے غیر ملکی اشاروں پر ناچنے والے سیکیولر لبرل حلقے تمام دینی طبقوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں ۔ ماضی میں تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ کا حصہ رہنے والی سیاسی جماعتیں آج مذہبی کارڈ کا بے بنیاد طعنہ دے کر دینی جماعتوں کو قصوروار بنانے کی کوشش کرتی ہیں ۔ قومی اتحاد کی تحریک نظام مصطفیﷺ اور اسلامی جمہوری اتحاد کے تجربے نے واضح کیا کہ دینی جماعتوں کی افرادی قوت اور نظم و ضبط کو استعمال کرنے والی سیکیولر طرز فکر کی حامل جماعتیں اپنا سیاسی اُلو سیدھا کر کے ایک جانب ہو جاتی ہیں ۔ طعنے اور جھوٹے الزامات کا سامنا محض مذہبی جماعتوں کو کرنا پڑتا ہے۔ سیاسی مقاصد کے لیے مذہبی جنون کو بھڑکانا اور بات ہے اور مذہب کو جائز سیاسی جدوجہد کے لیے استعمال کرنا بالکل مختلف بات ہے۔ مسلمانان بر صغیر کے سیاسی و سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے جب قائد اعظم ؒ نے پاکستا ن کا مطلب کیا ؟ لا الہ الااﷲ کا نعرہ اختیار کیا تو یہ عوام کے جذبات بھڑکا کے سیاسی کا میابی حاصل کرنے کے لیے رچایا گیا کوئی ڈرامہ نہیں تھا بلکہ اس نعرے کے پیچھے ایک پختہ نظریہ کار فرما تھا ۔ البتہ اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کی صفوں میں بھی منافقانہ سوچ کے حامل مفاد پرست عناصر مقدس کلمے کو استعمال کر کے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے شامل ہوگئے تھے ۔ خود قائدِ اعظم نے یہ کہا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ بدنیتی سے مذہب کارڈ استعمال کرنے والے اپنے عمل کی بنیاد پر بے نقاب ہو کے رہتے ہیں ۔ تحریک نظام مصطفیٰﷺ کا حصہ رہنے والی جماعتیں بالآخر ضیائی مارشل لاء کی کابینہ میں جا بیٹھیں ۔ صرف ایئر مارشل اصغرخان کی تحریک استقلال اور علامہ شاہ احمد نورانی کی زیر قیادت جے یو پی اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے مارشل لاء اور آمر کے خلاف سیاسی جدوجہد کرتے رہے۔ آج مورخ  فیصلہ کر سکتا ہے کہ نورانی میاں جیسے مذہبی راہنماء  اور اصغر خان جیسے سیکیولر سوچ کے حامل سیاستدان نے مذہبی کارڈ استعمال نہیں کیا بلکہ اصولوں پر مبنی سیاست کی۔ جبکہ قومی اتحاد کی دیگر مذہبی جماعتوں کا سیاسی کردار اس حوالے سے داغدار ہو گیا ۔

   ناریل  اور لیموں کی شکتی  والا  جنگی  طیارہ  

   ناریل  اور لیموں کی شکتی  والا  جنگی  طیارہ  

29 days ago.

 سوشل میڈیا نہ ہوا کوئی چاق و چوبند جاسوس ہوا جو ہر وقت اپنے ہدف کی تاک میں لگا رہتا ہے۔ ہر حرکت پر نگاہ جمائے بیٹھا ہے ۔ ادھر ذرا بھول چوک ہوئی اُدھر سوشل میڈیا پر بھد اُڑنی شروع ہو گئی۔ بھارتی رکشھا منتری شری راج ناتھ سنگھ نے رافیل طیارے وصول کرتے ہوئے فرانس میں جو پوجا پاٹ کی وہ سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیو کلپ کی صورت نہایت سرعت سے پھیلتی چلی گئی۔پہلے تو یہ جان لیں کہ رکھشا منتری کا مطلب ہے وزیر دفاع! بعض احباب ہندی لفظ رکھشا کو دو چشمی ھ کے بغیر پڑھتے یا ادا کرتے ہیں تو صوتی اعتبار سے یہ لفظ رکشا بن جاتا ہے۔ بندے کا دھیان چنگ چی یا آٹو رکشا کی طرف چلا جاتا ہے اور یہ محسوس ہونے لگتا ہے گویا شری راج ناتھ سنگھ بھارت میں آٹو رکشا سے متعلق امور کے وزیر ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔دراصل شری راج ناتھ سنگھ وہ مہاشے ہیں جو مہان دیش بھارت کی رکھشا یعنی حفاظت پر مامور ہیں۔اس ناطے بھارت کی تمام سینائیں یعنی مسلح افواج منتری جی کی عملداری میں ہیں۔منتری جی خود بھی آر ایس ایس راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کے سپاہی یعنی رنگروٹ رہ چکے ہیں ۔

 ثالثی کے پس پردہ عزائم 

 ثالثی کے پس پردہ عزائم 

a month ago.

  ہمارے وزیراعظم ایران کے دورے پر گئے اور یہ خبر درست ثابت ہوئی کہ پاکستان ثالثی کے لیے متحرک ہے۔ اس امر میں دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کہ ایران سعودیہ کشیدگی خطے میں وسیع تر بربادی کا باعث بنے گی ۔ بلا شبہ پاکستان بھی اس ممکنہ بربادی سے بری طرح متاثر ہوگا ۔ موجودہ حالات میں ایران جیسے پڑوسی کا سعودی عرب جیسے اہم دوست ملک کے ساتھ جنگ میں ملوث ہونا پاکستان کو علاقائی سطح پر سفارتی اور تذویراتی پیچیدگیوں میں مبتلا کرے گا ۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ پاکستان ثالثی نہیں بلکہ سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ ثالثی نما سہولت کاری کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں ، پاکستان کے متعلق مثبت تاثر نمایاں ہوا ہے۔ خطے میں امن کی بحالی کے لیے دو اہم محاذوں پر پاکستان متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ طالبان، امریکہ مذاکرات میں پاکستان یہی کوشش کر رہا ہے کہ معاملات پر امن ذرائع سے حل ہوں ۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے اسباب پیچیدہ بھی ہیں اور قدیم بھی۔ بعض سادہ لوح احباب اس کشیدگی کو صرف مسلکی تناظر میں دیکھنے کے عادی ہیں ۔ اس روایتی کشیدگی کے پیچھے عرب اور فارس کا قدیم تہذیبی تفاخر بھی کارفرما رہا ہے ۔ عہدِ حاضر میں اس کشیدگی کو بھڑکانے میں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری رسہ کشی نے بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 

ممکنہ دھرنا:  ہزاروں خواہشیں  ایسی! 

ممکنہ دھرنا:  ہزاروں خواہشیں  ایسی! 

a month ago.

 یارِ خاص تبریز میاں اسلام آباد میں مذہبی سیاسی جماعت کی جانب سے اعلان کردہ ممکنہ دھرنے میں بے حد دلچسپی لے رہے ہیں۔ اُن کی شدید خواہش ہے کہ راقم دھرنے کے متعلق کھل کر رائے کا اظہار کرے ۔  ممکنہ دھرنے کا تجزیہ ہمارے لیے فی الحال ممکن نہیں ۔ اگر کھل کر تجزیہ کیا تو دھرنے کے حامی اور مخالف حلقے ہاتھ دھو کر ہمارے پیچھے بھی پڑ سکتے ہیں‘ چنانچہ تبریز میاں کو ہم نے یہی مشورہ دیا کہ وہ دھرنے کا اعلان کرنے والی جماعت کے قائدین کے گرما گرم بیانات سے اصل عزائم جاننے کی کوشش کریں ۔ دوسری جانب دھرنے کی مخالفت کرنے والے سرکاری و نیم سرکاری ترجمانوں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے آل رائونڈر اینکرپرسنز کے دماغ کا دہی کر دینے والے تجزیوں سے بھی استفادہ فرما ئیں لیکن وہ تبریز میاں ہی کیا جو آسانی سے ٹل جائیں؟ یار خاص کا اصرار ہے کہ دھرنے کے بارے چونکا دینے والی پیش گوئیاں کئے بنا ہماری جان چھوٹنا مشکل ہے ۔   

اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر اور پاکستانی معیشت

اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر اور پاکستانی معیشت

2 months ago.

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27اگست کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریر ہر لحاظ سے قومی وقار اور افکار کی جھلک لئے ہوئی تھی اس تقریر میں جذبات سے زیادہ دلائل اور منطق پر مبنی باتیں کی گئی تھیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت اور بھارتی فوج کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں اور ظلم کو بے نقاب کر کے انہوں نے کشمیریوں کے دل جیت لئے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو یہ پختہ احساس ہوا کہ وہ ظلم اور مصیبت کی اس المناک گھڑی میں تنہا نہیں ہیں بلکہ پاکستانی عوام اور حکومت ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔گزشتہ 30سالوں سے بھارتی فوج کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کئے جانے والی بربریت اور تشدد کو عالمی سطح پر بے نقاب کر کے عمران خان نے جنرل اسمبلی میں موجود عالمی رہنمائوں کو یہ باور کرایا ہے کہ بھارتی حکومت اس خطے کی ایک بڑی دہشت گرد حکومت ہے جو نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہے بلکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم حرکتیں کر رہا ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر ایک جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔  

 پاکستان پر رحم فرمائیں

 پاکستان پر رحم فرمائیں

2 months ago.

 گزشتہ دنوں ہم پاکستانیوں کی توجہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہی اجلاس پر مرکوز رہی ۔ مقبوضہ کشمیر کی تشویش ناک صورتحال یہی تقاضا کرتی تھی کہ پاکستانی قیادت اور سفارتی ذرائع پوری قوت سے عالمی برادری کا خمار زدہ ضمیر جھنجھوڑیں ۔ یہ مرحلہ بخیر و خوبی طے ہوا۔ وزیر اعظم کی تقریر نے بھارت کی ریاستی شدت پسندی کو بھر پور انداز میںبے نقاب کر ڈالا ہے۔ گو کہ تقریر کا مرکزی نکتہ کشمیر ہی تھا لیکن اسلامو فوبیا اور منی لانڈرنگ جیسے اہم مسائل کے حوالے سے بھی  اس تقریر کی گونج تادیر سنائی دیتی رہے گی ۔ عین ممکن ہے کہ اس خطاب کی بنیاد پر غرب اور اسلامی دنیا میں سنجیدہ فکری مکالمے کا آغاز ہو ‘ تاہم اس بھاری پتھر کو اٹھانے کے لیے رجال کار کو آگے آنا ہو گا ۔  اپنے مداحین کے حلقوں میں خطابت کے جوہر دکھانے والے شعلہ بیاں مقررین کی کمی نہیں البتہ مخالفین سے سنجیدہ علمی مکالمہ کر نے والے دانشوروں کا قحط ہے۔