ڈھونگی قوم پرست 

 ڈھونگی قوم پرست 

14 days ago.

 سیاسی منظرنامے پر کچھ ہلچل سی مچی ہے! حکومتی حلیف بی این پی مینگل نے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے چھ نکاتی معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ بھی فرمایا ہے اور بلوچستان کے حقوق کا نعرہ بھی بلند کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں بی این پی مینگل کی چار نشستیں گو بہت زیادہ نہیں لیکن حکومت کے لیے موجودہ حالات میں اس چھوٹی سی عددی حمایت سے محرومی بھی ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی ٹیم روٹھے ہوئے مینگل صاحب کے آگے پیچھے پھر کر انہیں منانے کی کوششیں کر رہی ہے جو کہ تا حال ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ گو ناراض اتحادی نے بلوچستان کی محرومی کو اتحاد کے خاتمے کی اصل وجہ قرار دیا ہے لیکن مروجہ سیاست کی شدھ بدھ رکھنے والے دکھائوے کے نعروں اور مطالبات کی حقیقت سے آگاہ ہیں ۔ بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کے بنیادی اسباب کیا ہیں؟ اول، بے حس مفاد پرست حکمران جن کا تعلق عوام سے نہیں بلکہ استحصال کرنے والے جابر و متکبر جاگیردار طبقے سے رہا ہے۔ دوم، کرپٹ اور نکمی نوکر شاہی جو کہ کسی بھی عوامی فلاحی منصوبے کے ثمرات عوام تک پہنچنے ہی نہیں دیتی۔ سوم، نام نہاد قوم پرست جن کی وفاداریاں نان و نفقہ فراہم کرنے والے غیرملکی آقائوں سے ہیں۔   

 لارنس آف پاکستان 

 لارنس آف پاکستان 

17 days ago.

 ایک ہی دن میں سندھ رینجرز پر چار دہشت گرد جان لیوا حملے کیا پیغام دے رہے ہیں؟ یہ پیغام کس کا ہے ؟ پیغام کس کے ہاتھوں بھیجا گیا ہے؟ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ مہلک پیغام کس قوت کی طرف سے بھیجا گیا ہے؟ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل راولپنڈی صدر بازار میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا تھا۔ تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی تفتیش کا لب لباب یہ تھا کہ اس دھماکے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا دارلحکومت ہے اور جہاں دھماکہ ہوا وہ مقام ہماری پارلیمان ، ایوان صدر، وزیر اعظم ہائوس ، سپریم کورٹ اور وفاقی سیکریٹریٹ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دشمن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابی کے دعوے کو چیلنج کیا ہے۔ سندھ میں رینجرز پر حملوں کا پیغام بھی یہی ہے۔ دشمن نے عملی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ وفاقی دارلحکومت ، اندرون سندھ کے علاقے اور ملک کا معاشی مرکز کراچی یکساں طور پر اُس کی پہنچ میں ہیں ۔ گو ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ دہشت گرد گروہوں کی جڑیں مکمل طور پر کٹ چکی ہیں۔ 

  قوم پرستی اور غیر ملکی مداخلت کا زہر 

  قوم پرستی اور غیر ملکی مداخلت کا زہر 

19 days ago.

افغانستان میں آگ اور خون کا کھیل رک نہیں پا رہا۔ کوئی شک نہیں رہا کہ بھارت کی را اور افغان این ڈی ایس میں اُس کے پروردہ عناصر ہر قیمت پر امن عمل کو سبوتاژ کرنے پر تلے ہیں۔پہلے روس اور اب امریکہ کے زیرِ عتاب رہنے والے افغانستان کے بد نصیب شہری کیا چاہتے ہیں ؟ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد کے دونوں جانب بسنے والے قبائلی صدیوں پرانے تہذیبی رشتوں سے بندھے ہونے کے ساتھ مقامی سماجی روایات کے بھی امین ہیں ۔ اِس دیرینہ تعلق میں بیرونی عنا صر کی کوئی گنجائش بنتی نہیں ! اِس خطے میں روس اور امریکہ کی مداخلت کا نتیجہ خوں ریزی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں نکلا ! عالمی طاقتوں کا پرانا وطیرہ ہے کہ اپنے مفادات کی جنگ دوسر ے ملکوں کی زمین پہ لڑی جائے ۔ اپنے دست ِ نگر کمزور ملک کو حریفوں کے خلاف استعمال کیا جائے۔ تقسیم ِ ہند کے فوراً بعد سے پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے افغانستان میں یہ فریضہ حسبِ توفیق پنڈت نہرو کے زیرِ قیادت بھارت سرکار بھی انجام دیتی رہی ۔ کبھی ڈیورنڈ لائن کا شوشہ کھڑا کیا گیا ! کبھی زر خرید کٹھ پُتلیوں سے ا ٹک کے پُل تک افغانیہ ریاست کے نعرے لگوائے گئے ! وہ کون سی گالی ہے جو پختون قوم پرستوں نے پاکستان اور بانیانِ پاکستان کو نہ دی ۔   

ہے کوئی ایسا ؟ 

ہے کوئی ایسا ؟ 

23 days ago.

 حساس مسائل پر قومی ترجیحات طے کرنے میں پارلیمان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ پارلیمان میں جو سیاسی جماعتیں عوام کی نمائندگی کی دعویدار ہیں ان کی کار کردگی جانچنے کا کوئی پیمانہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ مروجہ دستور یہی ہے کہ ہر جماعت کے درجن بھر ترجمان نیوز چینلز اور پریس بریفنگز میں شعلہ بیانی کے جوہر تو بلاناغہ دکھاتے ہیں تاہم میدانِ عمل میں ان جماعتوں کا کھاتہ خالی ہی رہتا ہے۔ تازہ مثال بجٹ کی ہے۔ گو حزب اختلاف نے بجٹ پیش ہوجانے کے بعد سے بیانات کی حد تک تو آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے لیکن ایسی قابل عمل تجویز سامنے نہیں لا سکی کہ جن کو بجٹ میں شامل کر کے عوام کے لیے کچھ سہولت یا معیشت کے لیے کچھ بہتری کی سبیل پیدا کی جاسکے۔ قائدحزب اختلاف نے ، جو کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد قرنطینہ میں ہیں ،  سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا روایتی مطالبہ تو پیش کیا ہے لیکن موجودہ معاشی ابتری میں بہتری کے لیے نون لیگ کوئی قابل عمل تجویز سامنے نہیں لا سکی۔ پی پی پی کے چیئر مین کے متعلق یہ تاثر مزید گہرا ہوتا جارہا ہے کہ وہ موقع بے موقع کسی کے لکھے ہوئے بیانات یا تقاریر من و عن پڑھ دیتے ہیں۔ 

 الزامات کے چھینٹے 

 الزامات کے چھینٹے 

a month ago.

 رب العالمین عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ عدل معاشرے میں امن کا ضامن ہے۔ جہاں عدل نہیں وہاں امن نہیں! مشہور مقولہ ہے کہ عدل میں تاخیر درحقیقت عدل کی نفی ہے۔ مقتول انصاف کے لیے گریہ و زاری نہیں کیا کرتے یہ تو زندہ انسانوں کا فریضہ ہے کہ ظالم کو تختہ دار پر پہنچا کر معاشرے میں امن کی بنیادیں مستحکم کریں ۔ مکان یا دکان میں ڈاکہ ڈالنے والے گروہ اکثر گرفتار ہو جاتے ہیں لیکن قانون ساز ایوانوں اور حکمران جماعتوں کی گود میں بیٹھ کر معاشرے میں اجتماعی ڈاکے  ڈالنے والے  تاحال احتساب سے بچے ہوئے ہیں ۔ چشم بد دور ! ہمارے پاس احتساب کے لیے ایک قومی ادارہ موجود ہے۔ مقدمے درج کرنے میں نہایت برق رفتار لیکن تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے میں انتہائی سست! اصحابِ نون، قاف و پی پی پی کا بس چلے تو اس ادارے کو بیک جنبشِ قلم ختم کر ڈالیں۔ خود صاحبانِ اقتدار بھی دل ہی دل میں تلملاتے رہتے ہیں کہ جو سیاسی مخالف گرفتار ہوتا ہے وہ کچھ دنوں بعد ضمانت پر رہا ہو کر منہ چڑاتا ہوا گھر روانہ ہو جاتا ہے۔ ملزمان دھڑلے سے پریس کانفرنس منعقد کرتے ہیں ! احتساب کے ذمہ دار ادارے کے لتے لیتے ہیں ، تفتیش کے معیار کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور یہ سنگین الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ حکومت کے اشارے پر احتسابی ادارہ سیاسی مخالفین کے پیچ کسنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ وطن عزیز میں الزامات کی برکھا چھما چھم برس رہی ہے۔  

قدیم نسل پرستانہ سوچ 

قدیم نسل پرستانہ سوچ 

a month ago.

 آقا و مولیٰ حضوراکرم ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں سنہرا اصول بیان کیا ۔ کسی کالے کو گورے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں! انسانی مساوات کا یہ بہترین اصول رہتی دنیا تک مشعل راہ بنا رہے گا۔ سرکار دو عالم ﷺ نے اس اصول کو عملی طور پر نافذ کر کے دکھایا۔ ذات پات اور رنگ و نسل کی عصبیت میں لتھڑے عرب سماج کو انسانی حرمت اور قدر سکھانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ آقائے کریم ﷺ نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ حبشہ کے سیاہ فام غلام کو سرخ و سفید رنگت والے عرب سردار نے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا یا۔ تپتے ریگزار پر ننگی پیٹھ کے بل لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ کر پیاس سے تڑپتے بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر درے برسائے۔ اس بدترین نسلی تشدد، لسانی تعصب اور مذہبی جنونیت کو اسلام نے عملی طور پر مٹایا۔ سرکار مدینہﷺ نے فصیح و بلیغ قادرالکلام مہاجر و انصار اصحاب کے ہوتے ہوئے حبشہ کے عجمی کو موذن مقرر کیا ۔ فتح مکہ کے تاریخی موقعے پر کسی قریشی یا عربی نے نہیں بلکہ حبشہ کے عجمی باشندے نے کعبے کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دی۔آج عالم اسلام انہیں موذن رسول سیدنا بلال حبشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نام سے یاد رکھے ہوئے ہے۔ ابولہب کے ساتھ عربی ، مکی یا قریشی النسل ہونے کی وجہ سے کوئی رو رعایت نہ برتی گئی ۔   

 سرحدوں پر منڈلاتے خطرات 

 سرحدوں پر منڈلاتے خطرات 

a month ago.

 یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ہمارے  وزیر اعظم بار بار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ پڑوسی ملک بھارت کسی بھی وقت جنگی شرانگیزی کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا ء کا اہم ملک ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں عالمی قوتوں کے درمیان جاری تذویراتی کشمکش کا اہم کردار بھی ہے۔  امریکہ جیسی متکبر عالمی قوت افغانستان کی دلدل سے نکلنے کے لیے پاکستان سے دست تعاون کی طالب ہے۔ چین سے پاکستان کے باہمی اعتماد پر مبنی  تعلقات کوئی راز نہیں! تجزیہ کار اس امر پر متفق ہیں کہ جنوبی ایشیا ء میں روس ، چین اور پاکستان پر مشتمل ایک نئی تزویراتی مثلث تشکیل پا چکی ہے۔ عالمی وبا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں یہ تاثر جڑ پکڑ رہا ہے کہ عالمی سپر پاور کا منصب بتدریج امریکہ سے  چین کو منتقل ہوتا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں دو جمع دو چار جیسی  حتمی رائے قائم کرنا آسان نہیں ۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ چین عالمی وباء  کے تناظر میں امریکا کے مقابل ایک ذمہ دار ، متحمل مزاج اور متوازن طرز عمل کی حامل قوت کے طورپر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ چین کی ترقی اور عالمی سطح پر رفتہ رفتہ پھیلتا اثر و رسوخ امریکہ کے لیے باعث تشویش ہے۔ 

 انتشارکی آندھی! 

 انتشارکی آندھی! 

a month ago.

 اس امر میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا بنا کر انتشار کے تمام امکانات کو ختم کیا جائے۔ قسمت کی کرنی کچھ ایسی ہے کہ پاکستان اپنے قیام سے آج تک بدخواہ پڑوس کو بھگت رہا ہے۔ دشمنوں کی ہر پل کوشش ہوتی ہے کہ انتشار کی آگ سلگا کر اس نشمین کو خاکستر کر دیں کہ جو برصغیر میں دو قومی نظرئیے کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ازلی دشمن بھارت کا درد با آسانی سمجھا جا سکتا ہے ! لگ بھگ چوہتر برس قبل پاکستان کے قیام کی صورت ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہوا تھا ۔ ہندوستان کے ٹوٹنے کا دکھ ایسا شدید ہے کہ آج تک بھارت نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ نومولود ریاست کی کمزوریوں اور حکمراں طبقے کی غلطیوں کو استعمال کر کے بھارت نے بنگلہ دیش بنوا کر اپنے تئیں برصغیر کی تقسیم کا بدلہ تو لے لیا لیکن حقیقت یہی ہے کہ اب یہ خطہ تین ممالک پر مشتمل ہے۔ بنگلہ دیش میں بنگالی قومیت کا پرچار کرنے اور حسینہ واجد جیسی متعصب حکمراں کے ذریعے مسلم قومیت پر یقین رکھنے والے طبقات پر مظالم کا پہاڑ تڑوانے کے باوجود بھارت بنگالی النسل مسلمانوں کی مذہبی شناخت مٹا نہیں پایا۔ آر ایس ایس کے ہندوتوا نظرئیے کی کوکھ سے جنم لینے والی اکھنڈ بھارت کی خواہش پوری کرنے کا بہترین موقع شدت پسندوں کو بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد حاصل ہوا ہے۔ قدرت کے فیصلے بھی کمال ہیں! جو بی جے پی مسلمانوں کی شناخت مٹانے کے درپے تھی اُسی کی نفرت انگیز مہم کی بدولت ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان متحد و بیدار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔