مقبوضہ کشمیر میں ناجائز ڈومیسائل 

مقبوضہ کشمیر میں ناجائز ڈومیسائل 

11 days ago.

پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموںو کشمیر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی باشندوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجراء کو مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے لاکر باہر کے لوگوں کی آباد کاری کا کوئی حق نہیں ہے۔ بین الاقوامی قوانین بھی ایسی سرگرمیوں کو روکتے ہیں۔ ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق بھارت نے مبینہ طور پر 25 ہزار بھارتی باشندوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بوگس ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں جن کو پاکستان اور کشمیریوں نے مسترد کر دیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں تین لاکھ ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر کی شہریت دی جارہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں 4 لاکھ ہندوئوں کو شہرت دی جائے گئی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہود و ہنود نے دنیا کے کئی خطوں میں مسلمانوں کے خلاف سیاسی و معاشی گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ بھارت و اسرائیل کا سازشی یارانہ کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ بھارت وہی ظالمانہ و شاطرانہ چالیں چل رہا ہے جو اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسا کر فلسطینیوں و دیس نکالا دیا تھا۔ عالمی برادری اس ظلم کو رکوائے، حکومت پاکستان بھی اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھائے تاکہ فوری اجلاس بلاکر مسئلہ کو زیربحث لایا جاسکے۔ استنبول یونیورسٹی کی ادبیات فیکلٹی میں 29 جون سے دو روزہ آن لائن کشمیر کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے۔

قدم قدم بے نقاب ہوتا بھارت اور ’’را‘‘

قدم قدم بے نقاب ہوتا بھارت اور ’’را‘‘

18 days ago.

سفیدفام امریکہ اور ہندوتوا بھارت کے حوالے سے حکمت و تدابیر الٰہی‘ امر ربی‘ مواقع النجوم (سورۃ الواقعہ) قدم قدم پر ظہور پذیر ہیں۔ پاکستان میں ایم کیو ایم کو استعمال کرنا اور بھارت کا ایم کیو ایم کو مال و دولت دینا بہت پرانی حقیقت ہے۔ یہ موجودہ ہندوتوا بھارت کا نہیں بلکہ کانگرسی بھارت اور فوجی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا طویل ترین کھیل تھا۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے حوالے سے برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کا بھی منفی کردار واضح رہا ہے۔ حال ہی میں لندن میں مقیم الطاف حسین کے دست راست محمد انور نے ہوش ربا انکشافات کر دئیے ہیں۔ مزید کیا لکھوں؟ مگر سوال کرسکتا ہوں کہ الطاف حسین کو لیڈر کس نے بنایا تھا؟ جنرل ضیاء الحق عہد کو یاد کیجئے۔ جماعت اسلامی اور نورانی میاں کی جمعیت العلمائے پاکستان کو کراچی میں نیست و نابود کر دیا گیا اور ان کی جگہ کم ظرف‘ حریص‘ لالچی‘ غدار کو لیڈر بنا کر کراچی کو بھارت‘ برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کا اثاثہ بننے کا موقع دیا گیا۔ کیا اس عمل سے سندھ کے قوم پرستوں کا علاج ہوسکا؟ سندھ کے قوم پرست ہوں یا پشتون قوم پرست سیاست ہو‘ یہ سب مالی طور پر بھارت سے وابستہ رہے ہیں۔ ڈاکٹر جمعہ خان کی شائع شدہ کتاب باچہ خان خاندان اور ولی خان کے بھارت سے پیسے لینے‘ روس سے معاونت حاصل کرنے پر شہادت کامل ہے۔ اب محمدانور کا بیان بھی شہادت کامل ہے۔ ایم کیو ایم کے چند افراد کو عمران فاروق قتل کے حوالے سے سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا ہوچکی ۔

مظلوم مقبوضہ کشمیر کا دلیرانہ ردعمل چین و نیپال کی طرف سے

مظلوم مقبوضہ کشمیر کا دلیرانہ ردعمل چین و نیپال کی طرف سے

20 days ago.

1947ء میں تقسیم برصغیر کے ذریعے جو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ وہ قائداعظمؒ  نے خلوص نیت سے قبول کیا تھا۔ کینیڈا اور امریکہ کے مابین خوشگوار پڑوسیوں کے تجربے کو سامنے رکھنے کا موقف پیش کیا تھا مگر نہرو چالاک و مکار تھا اس نے مائونٹ بیٹن کے ذریعے کشمیر کا جموں اور سری نگر ہتھیا لیا اور پہلے دن سے ہی پاکستان کو نیست  و نابود کرنے کا آغاز کردیا۔ دوسری طرف چین کے ساتھ‘ جو 1949ء میں چیئرمین مائوکیونسٹ چین بن چکا تھا۔ ان کے ساتھ تبت معاملات بھی خراب نیت سے ساتھ شروع کئے۔ وزیراعظم چواین لائی نے بہت کوشش کی کہ تبت کے معاملا اور دلائی لامہ پر سی آئی اے کے 1950ء کے اینٹی چائنا منصوبے میں نہرو کا بھارت شریک نہ ہو۔ مگر نہرو مخلص اور دوست بننے والا پڑوسی نہیں تھا۔ لہٰذا1962ء میں سکم کے بارڈر تک تبتی علاقے میں بھارت چین جنگ ہوئی۔ چواین لائی نے صدر ایوب کو اشارہ کیا کہ خالی پڑے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں فوج داخل کرکے اسے لے لو۔ مگر پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وہ اول روز سے امریکی غلامی میں جانے پر مجبور ہوا۔ الحمدللہ شائد آج کچھ حالات بدلے ہوئے ہیں۔ آج ہم کچھ آزاد پالیسی  رکھتے ہیں۔  

چین و بھارت فوجی لداخ کشمکش کی اہمیت

چین و بھارت فوجی لداخ کشمکش کی اہمیت

22 days ago.

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے عملاً باقی لداخ بھی بھارت سے حاصل کر لیا ہے۔ واشنگٹن سے ندیم سلہری کی خبر ہے کہ بھارتی ہاتھ سے آدھا لداخ تو پہلے چلا گیا تھا، اب چین باقی حصہ بھی بھارت سے زبردستی حاصل کرلے گا۔ چین کمانڈو ایکشن کے ذریعے بھارت کو سرپرائز دے گا۔ ڈاکٹر مائیکل کا کہنا ہے کہ بھارت کو گمان تھا کہ لداخ، ایشو پر امریکہ مودی حکومت کی طرفداری میں بیان دے گا۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا پروفیسر ہوزے راویرنے کہا کہ پاکستان اس ساری صورتحال سے انجوائے کر رہا ہے۔ عمران حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی نے ہی تو اس خطے میں ایک نیا محاذ کھولنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پروفیسر جانسن جونز نے کہا بھارت کے ہمسایہ ممالک سےخراب تعلقات کی وجہ سے نیپال اس کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ میرے وجدان و تجزیہ کے مطابق یہ سب بھارتی حماقتیں اور چینی جرات و دلیری ’’امر ربی‘‘ کے سبب ظہور پذیر ہو کر کشمیری مظلوموں کی الوھی مدد ہے جو رب کائنات اپنے خاموش کائناتی لشکروں کے ذریعے مظلوموں کی کرنے کی سنت اللہ رکھتے ہیں۔ بھارتی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے اور چین پر الزمات لگا رہا ہے۔ بھارت اس مایوسی کو ختم کرنے کے لئے ماہرین کے نزدیک پاکستان پر یلغار کر سکتا ہے سرحدی جھڑپیں جولائی میں ہو سکتی ہیں جو طویل جنگ کا بھی آغاز ہوگا۔  

متفرقات مگر دلچسپ و معلوماتی

متفرقات مگر دلچسپ و معلوماتی

25 days ago.

تجزیہ کار ہارون الرشید نے 14جون کی شام نواز شریف کو کشمیریوں کا قصور وار قرار دیا ہے اور میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ نواز شریف خاندان کی نفسیاتی کیفیت کچھ یوں ہے کہ وہ قیام پاکستان سے بہت پہلے امرتسر سے روٹی روزی کمانے کے لئے اور لاہور میں آکر اپنے آبائی ذریعہ لوہاری کے ذریعے کسب معاش کے لئے آئے تھے۔یہ وہ نفسیاتی کیفیت ہے کہ نواز شریف کے بی جے پی کے واجپائی سے تعلقات میں ذاتی قرب رہا پھر ہندو توا والے‘ گجرات کے مسلمانوں کے قاتل اور قصائی کا نام پانے والے مودی سے بھی واجپائی جیسی ہی ذاتی محبت اور ذاتی گھریلو تعلقات قائم رہے جبکہ وزیراعظم مودی نے حاصل شدہ نواز شریف کی ذاتی محبت کو دل کھول کر ہندوتوا بھارتی مفادات کے لئے استعمال کیا۔ مسلمانوں کا بھارت میں سانس بند کرنے‘ مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 370کے خاتمے‘ کشمیریوں کو یرغمال بنانے‘ اقلیتوں کو بھارت میں غلام اور کمی کمین بنانے میں بھی مودی وزیراعظم نے نہایت ذہانت سے جہاں دولت مند نواز شریف خاندان کے مرکز اور پنجاب اقتدار کو (وزیراعلیٰ شہباز شریف کی موجودگی میں استعمال کیا) ایسی طرح مالدار ترین مسلمانوں سمیت سعودی عرب‘ بحرین‘ امارات کے شاہی خاندانی کی ذاتی مہربانیوں کو بھی استعمال کیا۔  بھارتی نامور دانشور و مصنفہ ارون دھتی رائے نے حال ہی میں ہندوتوا حکومت کی طرف سے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی کی حقیقت بیان کی ہے۔

بھارت‘ نیپال ‘چین اور سکم کی ممکنہ آزادی

بھارت‘ نیپال ‘چین اور سکم کی ممکنہ آزادی

29 days ago.

11جون کو شائع ہونے والے کالم میں لکھا تھا کہ بھارت  و امریکہ ٹوٹنے کا سال 2022ء سے 2023ء تک شدید تر ہے۔ علمائے نجوم و روحانیات کا مطالعہ ہے۔ تصحیح سال کرلیں۔ جبکہ 2025ء میں اس کی تکمیل ہو جائے گی انشاء اللہ جبکہ پاکستانی عروج 2025ء سے شروع ہوگا‘ انشاء اللہ  میں نے اسی کالم میں بھارتی دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا ذکر کیا تھا۔ اس نے مزید کہا ہے کہ بھارت نے چین میں  دفاعی سرنڈر کیا ہے۔ بھارت نے لداخ سے خود فوجیں ہٹائیں جبکہ بھارتی حکومت نے بھارتی میڈیا پر دبائوڈالا ہے کہ وہ لداخ میں چین کی فوجی آمد پر تبصرے نہ کریں۔ جبکہ فوجی و عسکری چین سے بھارت کو ملی اور سیاسی و اخلاقی شکست فاش اپنے ہی کمزور‘ یرغمال شدہ‘ نیپال سے ملی ہے مگر جنگی دھمکی وہ پاکستان کو دے رہا ہے چلتے چلتے بتاتا چلوں کہ جغرافیائی طور پر نیپال بھوٹان کیمونسٹ اور بدھ مت مذہب رکھتے ہیں۔ دونوں کا جغرافیائی قرب چین سے ہے۔ 1947ء کے بعد جب آزاد ریاستوں کو وزیرداخلہ و سرحدی امور سردار پٹیل نے جبراً بھارت میں ضم کیا تو کچھ عرصہ بعد جبراً اور فوجی دبائو کے ذریعے ’’گوا‘‘ اور ’’سکم‘‘ کی ملحق کمزور ریاستوں پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ آج کی صورتحال میں بنگلہ دیش اور میانمار بھی بھارت سے ناراض ہیں اور اگر وہ عملاً نیپال کی طرح بھارت سے دور ہو جائیں تو وہ خود بخود چین نواز پڑوسی بن جائیں گے۔ جب یہ پیش رفت ہوگی تو نیپال کی طرح بنگلہ دیش کے تعلقات کیمونسٹ بلاک سے ہو جائیں گے۔ امرربی کے سبب اس طرح سکم کی 27کلو میٹر چوڑی مگر طویل پٹی بھارت کے ہاتھ سے نکلنے کے اسباب پیدا ہو جائیں گے۔ یوں چین‘ نیپال و بھوٹان کی سیاسی‘ اخلاقی‘ فوجی مدد سے سکم آزاد ہو جائے گا۔ انشاء اللہ۔  

جنوبی انڈیا میں آزادی کی جدوجہد اور خالصتان

جنوبی انڈیا میں آزادی کی جدوجہد اور خالصتان

a month ago.

میں نے گزشتہ ایک کالم میں مواقع النجوم‘ مظاہر قدرت الٰہی‘ شمس و قمر و نجوم اور زمین آسمانوں میں موجود اللہ تعالیٰ کی مخفی پراسرار قوتوں اور لشکروں کا ذکر کیا تھا۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی اسلام دشمنی‘ مسلمان دشمنی‘ کالوں سے دشمنی‘ سفید فام برتر‘ متعصب‘ تنگ نظری کا انجام گزشتہ دس بارہ دنوں سے صدر ٹرمپ کے امریکہ میں ظہور پذیر ہوچکا ہے۔ امریکہ کے سابق وزیر دفاع صدر ٹرمپ کو آئین کے لئے خطرہ‘ وفاق امریکہ کے لئے دشمن‘ تقسیم امریکہ کی سیاست کرنے والا کہہ چکے ہیں۔ ہیلری کلنٹن‘ صدر اوبامہ اور ڈیموکریٹ بھی کھل کر سیاہ فاموں کے احتجاج مظاہروں کو آزادی کے لئے‘ ’’نئے امریکہ‘‘ کی تعمیر کے لئے گئے مواقع قرار دے رہے ہیں۔ اسی سیاسی انقلاب کا نام ’’مواقع النجوم‘‘ مظاہر قدرت الٰہی‘ اللہ تعالیٰ کے شمس و قمر اور زمین و آسمانوں میں موجود پراسرار طاقتوں و لشکروں کی موجودگی اور ان کا امر ربی کے طور پر استعمال ہی تو اللہ تعالیٰ کی ہمہ گیر تبدیلیوں کے وقوع پذیر ہونے کا  نام‘ موسم‘ فضا ہے‘ کیا نومبر کے متوقع انتخاب میں صدر ٹرمپ کی جیت کو امریکی عوام درست تسلیم کرلیں گے؟ ناممکن لہٰذا امریکہ اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ 2023ء میں مزید ٹوٹے گا ۔ 2025ء تک امریکہ کا عالمی سپرپاور اور تسلط مکمل زمین بوس ہوچکا ہوگا جس طرح برطانیہ عظمیٰ کے ہمہ گیر ایمپائر کا خاتمہ دوسری جنگ عظیم سے شروع ہو کر اب تک ہوچکا ہے۔ وہ یورپی یونین سے الگ ہو کر مزید کمزور اور مختصر ہوچکا ہے۔ پاکستان کا عہد ابتلا اگرچہ موجود ہے مگر یہ عہد ابتلاء ظالم امریکہ و بھارت کے لئے زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا۔  

حکام نماز چاند گرہن و سورج گرہن ادا کریں

حکام نماز چاند گرہن و سورج گرہن ادا کریں

a month ago.

میں نہایت سنجیدگی سے چین ‘ نیپال ‘بوٹان و بنگلہ دیش کے بھارت کے حوالے سے نئے طلوع شدہ زمینی مواقع‘ مظاہر قدرت الٰہی کا مطالعہ پیش کر رہا ہوں۔ مگر چند روز پہلے بزرگ ماہر نجوم پروفیسر غنی جاوید نے متوجہ کیا کہ 5جون کو چاند گرہن ہوگا اور 21جون کو سورج گرہن  ہوگا۔ سورج و چاند گرہن ہر سال ہوتے ہیں۔ سائنس دان اور ماہرین اور کائنات اسے نظام فطرت کا طے شدہ پروگرام قرار دیا کرتے ہیں۔ مگر میں جس طرح ماضی میں اکثر سورج اور چاند گرہن کے ہونے کو مطالعہ قرآن و سنت اور سیرت نبی مکرمؐ کی روشنی میں زیادہ دیکھنے کا عادی ہوں۔ رسول اکرمﷺ کے اپنی مصری شاہی خاندان سے تعلق رکھتی بیوی ماریہ قبطیہؓ سے تولد ہونے والے بیٹے ابراہیم کی المناک موت کا واقعہ جب پیش آیا تو مدینہ منورہ میں چہ میگوئیوں کا کہنا تھا کہ سورج گرہن کے سبب یا ابراہیم کی موت کے سبب سورج گرہن ہوا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس عوامی  سوچ کو مسترد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ چاند اور سورج گرہن کسی کی موت کے سبب نہیں ہوتے نہ ان کی وجہ سے کسی کی موت ہوتی۔ البتہ رسول اللہﷺ نے زندگی بھر جب بھی چاند یا سورج گرہن ہوا نہایت خوفزدگی کی حالت میں خشوع و خضوع کے ساتھ‘ صدقہ و خیرات کیا اور دو رکعت نماز سورج یا چاند گرہین ادا کی ۔