یہ عدم اعتماد کیوں؟

یہ عدم اعتماد کیوں؟

22 days ago.

موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے پندرہ ماہ ہونے کو ہیں عمران خان کی بائیس سالہ جدوجہد کے بعد زمام حکومت سنبھالا ہے اگرچہ جدوجہد کی ابتداء تو اکتوبر 2013ء  سے شروع ہوئی جب مینار پاکستان  کے سائے میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جس میں نیا پاکستان   بنانے کا عزم کیا گیا پھر 2014ء میں اسلام آباد کے حساس ترین علاقے میں ایک طویل دھرنا ہوا اور دوران دھرنا کیا کچھ نہیں کیا گیا اور کیا کیا وعدے نہیں کئے گئے۔سول نافرمانی کی طرز پر کال بھی دی گئی۔  بجلی کے بل جلائے گئے‘ میڈیا‘ سول سوسائٹی اور مڈل کلاس نے بھرپور ساتھ دیا اس امید اور آس کے ساتھ کہ نئی اور مخلص لیڈر شپ ملک میں سماجی اور معاشی انصاف کو یقینی بنائے گی اور اجارہ داریاں ختم ہوں گی۔  لیکن ان پندرہ ماہ میں وہ وعدہ ایفا نہ ہوسکا کہ  دو نہیں ایک پاکستان۔  ہم سب کا پاکستان۔ کیونکہ  نہ اجارہ داریاں ختم ہوئیں نہ سماجی اور معاشی انصاف کی فراہمی کیلئے کچھ ہوا۔  خالی خزانے کو بھرنے کیلئے پھر وہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اور انہی اجارہ داریوں پر انحصار کرنا پڑا جن سے جان چھڑانے کے وعدے کئے گئے تھے۔ ماڈل ٹائون‘ بلدیہ ٹائون‘ کار ساز کے مقتولین ابھی منتظر انصاف تھے کہ پھر ساہیوال والے سانحے نے انہیں بیک برنر پر ڈال دیا۔ پھر اسی  طرح آئے روز بچیوں کے ساتھ زیادتی اور بہیمانہ قتل کے واقعات اور سانحے ریاست کے ماں جیسا ہونے کا یقین ڈگمگاتے رہے۔

آزادی مارچ 

آزادی مارچ 

a month ago.

بالآخر فضل الرحمان 27 اکتوبر کے احتجاج جسے وہ آزادی مارچ   کا نام دے رہے ہیں پی ایم ایل این اور پی پی پی کو بھی شامل ہونے پر رضامند کرنے میں  کامیاب ہو ہی گئے   اگرچہ دونوں جماعتوں   کو ابھی بھی اس مارچ  بارے تحفظات  ہیں مگر بظاہر وہ راضی  نظر آرہے ہیں لیکن اس مارچ  کو جو پہلے  دھرنا بھی کہا جار ہا تھا آزادی  مارچ کا نام کیوں دیا گیا ہے ۔ کس سے آزادی چاہ رہے ہیں۔ غربت سے  آزادی ، مہنگائی سے آزادی  ، بے روزگاری سے آزادی کا نعرہ لگاتے  تو شاید  اکثریت ان کا ساتھ دینے پر تیار ہو جاتی لیکن یہ آزادی کس سے چاہتے ہیں یہ ابھی تک سمجھ نہں آرہا ۔  البتہ ایک حقیقت جو بظاہر عمومی  طورپر اکثریت کی نظروں سے پوشیدہ ہے  یہ ہے کہ چونکہ حکومت  نے مدارس   کی رجسٹریشن  اور یکسا ں نصاب  کا سلسلہ کیا ہے  تاکہ دینی مدارس  سے فارغ التحصیل ہونے  والے بچے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس اور معاشرتی  علوم سے بھی بہرہ ور ہو سکیں ا ور معاشرے میں انہیں باعزت روزگار   بھی میسر آسکے ۔ لیکن ایسا سب  کچھ ہونے سے دینی جماعتوں کی مدارس پر  اجارہ داری  ختم ہو جائیگی اور تمام مدارس ایک سسٹم کے تحت  ریگولیٹ ہوں گے شاید جناب فضل الرحمن کو یہ سب گوارا نہیں  اسی لئے وہ آزادی  چاہتے  ہیں اس نئے مجوزہ سسٹم سے تاکہ مدارس  پر ان کا بھرپور  او رموثر کنٹرول  قائم رہ سکے اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں  ان مدارس کو استعمال کر سکیں۔ لیکن یہ فیصلہ بھی تو تین سال  قبل ہوا تھا  جب حکومت نے بیس  نکاتی پروگرام تمام  سیاسی جماعتوں  کی حمایت  سے منظور کیا  تھا مگر بوجوہ  اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔  

 خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں

 خوش فہمیاں اور غلط فہمیاں

2 months ago.

خوش فہمی اور غلط فہمی کہنے کو تو مختلف ہیں مگر اصل میں دونوں ایک ہی ہیں کیوں شروع میں خوش فہمی ہی ہوتی ہے کہ یہ تبدیلی ضرور آئے گی اور بہتری کے لئے آئیگی مگر جب تبدیلی آجاتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ یہ تو غلط فہمی تھی سب کچھ تو ویسے کا ویسا ہی ہے بلکہ کچھ حد تک پہلے سے بھی خراب ہو گیا ہے۔ ہر الیکشن سے پہلے ہر سیاسی جماعت سنہرے سپنے مارکیٹ میں لاتی ہے اور جتنا اچھا ساحر ہوتا ہے اتنا ہی وہ بہتر انداز میں لوگوں کو سحر میں مبتلا کر لیتا ہے اور اس عمل کے لئے سیاسی بڑوں نے لابنگ ٹیمیں رکھی ہوتی ہیں جس طرح کسی عامل بابے نے اپنے پروموٹرز رکھے ہوتے ہیں جو اس کے عمل اور کرامات کا چرچا کرتے ہیں اس کے لئے ان کے ساتھ عملی مثالیں بھی ہوتی ہیں جنہیں پیش کر کے وہ صاحب کرامات کی دھاک بٹھاتے ہیں اسی طرح سیاسی رہنمائوں نے بھی ’’فدائین‘‘ کا گروہ رکھا ہوتا ہے جو اپنے رہنما کو ’’دیوتا‘‘ بنا کر پیش کرتا ہے اور ہمارے لوگ خود خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے لئے آمادہ و تیار ہوتے ہیں اس لئے ان ’’فدائین‘‘ اور پروموٹرز کو کبھی ناکامی نہیں ہوئی۔ بعض اوقات تو ہمارے سیاسی رہنمائوں کے بارے ایسے ایسے روحانی خواب اور روحانی ہدایات مارکیٹ کی جاتی ہیں کہ انسان ان پر عمل پیرا نہ ہو کر گنہگار ہونے کا تصور  بھی نہیں کر سکتا۔ پھر اس میں کمال ہمارے بعض دینی اور مذہبی رہنمائوں کا ہے کہ وہ بھی اپنے کلائنٹ کو صاحب کمالات اور برگزیدہ انسان اور مقبول حکمران کے طور پر مارکیٹ کرنے میں ممد و معاون ہوتے ہیں۔ ہمارے قریباً سبھی سیاسی رہنما یہ کریڈٹ لیتے ہیں کہ ان کے لئے خانہ کعبہ کھولا گیا۔ کوئی خانہ کعبہ کی چھت پر جانے کا بھی دعویدار ہے۔ کوئی خانہ کعبہ میں رو رو کر نوافل ادا کرنے سے اپنے آپ کو برگزیدہ قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں لیکن اس بات کے باوجود ملک کے اندر کوئی بہتری نہ لا سکا۔ ہر کوئی خانہ کعبہ اور روضہ رسول ؐ پر رو رو کر ملک و قوم کے لئے دعائیں بھی کرتا رہا مگر ملک کے اندر محرومیاں بڑھتی رہیں۔ لوگ انصاف کو ترستے رہے جبکہ قاضی القضاء انصاف کے ترانے گاتے رہے۔  

 سیاست اور سیاسی کلچر۔II

 سیاست اور سیاسی کلچر۔II

3 months ago.

یوں تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیاست ایک پروفیشن ہے جو کہ یقینی طور پر ہے کیونکہ جس نے بھی اس  کار زار میں ایک بار قدم رکھا اس کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی اور یہ پیشہ اپنی اگلی نسلوں کو منتقل کرتے ہیں اور ہمارے وطن عزیز میں تو برسوں سے ایک ہی جماعت سے وابستہ سیاستدانوں سے یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ وہ حکمران خاندان کے بچوں کے اتالیق کے فرائض بھی انجام دیں تاکہ آنے والے وقتوں میں وہ عنان حکومت سنبھال سکیں۔ کسی بھی پروفیشن کی طرح سیاست میں بھی درجہ بندی ہوتی ہے اور یہ فیصلہ حکمران خاندان کو کرنا ہوتا ہے کہ کون کس جگہ کے لئے مناسب اور موزوں ہے اور ساتھ ہی ساتھ خاندان سے وابستگی اور وفاداری کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔  عوام کو جمہوریت کا سبق بار بار یاد کرایا جاتا ہے اور جمہوریت کے ثمرات بھی بتائے جاتے ہیں لیکن یہ  ثمرات کبھی جمہور تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ جمہور کو ہمیشہ جمہوریت کی بحالی‘ استحکام کیلئے قربانیاں دینے کیلئے تیار کیا جاتا ہے اور ایک طویل عرصے سے انہیں  یہی بتایا جارہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انگریز حکمران کا دیا ہوا نظام‘ بیوروکریسی اور فوج ہے۔ کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ آئین میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے الیکشن جب بھی ہوتے ہیں تو کبھی خلائی مخلوق اور کبھی نادیدہ ہاتھوں کا ذکر کرکے الیکشن کو متنازعہ بنا دیا جاتا ہے اور واویلا مچایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو آزاد خودمختار بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الیکشن کے قواعد و ضوابط بدلنے کی ضرورت  ہے لیکن یہ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ جناب! یہ سب کس نے کرنا ہے۔ اتنی بار اسمبلیاں منتخب ہو کر اپنی مدت بھی پوری کرچکیں تو معزز ایوان نے کیوں اس نظام کو بدلنے اور الیکشن کمیشن کو آزاد و خودمختار بنانے کیلئے کام نہیں کیا۔  

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں 

6 months ago.

محبت کے بارے بھی عجیب مٹی سے بنے ہوتے ہیں نہ انہیں روناآتا ہے اور نہ ہنسنے کا موقع ملتا ہے یوں اس کشمکش ميں انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کے ساتھ بیتی کیا ہے چہ جائیکہ وہ آئندہ بیتنے والی کا تصور بھی کر سکیں۔ وطن عزیز کے میرے ہم وطن ایک عرصے سے خوشحالی کا خواب آنکھوں میں سجائے منتظر تھے کسی ایک مسیحا کے جو ان کے لیے ستار ے توڑ کر لے آتا انکی سونی مانگ میں چاند سجاتا۔ انگریز بہادر تو چلا گیا ۔ لاچار اور بے بس رعایا نے سوچا شاید آزاد ہو گئے ہیں جبکہ ا نہیں تو ادراک ہی نہیں تھا کہ آزادی ہوتی کیا ہے آزادی کا مفہوم کیا ہے اس کے محاسن کیا ہوتے ہیںلیکن انہیں بتایا گیا کہ وہ آزاد ہو گئے ہین لیکن جب تھانے کچہری گئے تو پتہ چلا کہ آزاد تو تھانے کچہری والے ہوئے ہیں سائل تو مزید غلام ہو گئے ہیں۔ انگر یز بہادر تھانے کچہری میں بھی انصاف یقینی بناتا تھا مگر اب تو وڈیرہ اور جاگیردار انصاف کا ترازوپکڑے کہیںدور چھپا بیٹھا ہے ۔ لیکن آزادی کے متوالوں نے اس سے بھی کمپرو مائیز کرلیا ۔ حکومتیں بدلتی رہیں ۔ اسی رعایا کے نام پر عدالتیں اسمبلیاں اور کچہریاں بنتی بگڑتی رہیں ۔ انہیں بتایا جاتا رہا خوشحالی آگئی ہے وہ سن کر ہی خوش ہوتے رہے ان کی خوشحالی تنور کی روٹی اور پیاز کی چٹنی کے ساتھ چھاچھ تک محدود رہی پھر مزید خوشحالی آئی بڑے لوگوں نے سوچا ڈیری تو بڑا بزنس ہے اور اس سے مزید خوشحالی آئیگی اس طرح مزید خوشحالی آئی اور اس مزدور سے وہ چھاچھ بھی چھن گئی کہ گھر کی روٹی چلانے اور بھینس کا چارہ پورا کرنے کے لئے دودھ ڈیری والوں کو دینا پڑا۔ مگرجمہوریت پروان چڑھتی رہی ۔خوشحالی اور ترقی کے دس سال بھی گزر گئے پھر نئی جمہوریت آئی اور اس نئی جمہوریت نے کسان کا رات کادودھ کا پیالہ بھی واپس لے کر چائے کی پیالی تھما دی کہ بدن میں چستی لاتی ہے ۔  

تیری رتی او ڈھول میریا لنگی

تیری رتی او ڈھول میریا لنگی

6 months ago.

ایک زمانہ تھا، کوئی زیادہ پرانی بات بھی نہیں صرف چند دہائیاں پہلے کی بات ہے خوشحالی بھی نہیں تھی مگر غربت بھی نہیں تھی لوگ اپنے حال میں خوش رہنے کے عادی تھے۔ ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے میں میلے ہوا کرتے اور عام لوگ اس انتظار میں رہتے کہ آئندہ بیساکھی میلے پر فلاں تھیٹر آئے گا، فلاں سرکس آئے گی، میلے ٹھیلوں کا انتظار رہا کرتا تھا مگر ترقی اور خوشحالی کی خواہش نے عام آدمی کی زندگی سے امنگ ہی چھین لی۔ ترقی تو ہوئی اور ساتھ ساتھ خوشحالی بھی لائی مگر یہ ترقی اور خوشحالی پوری قوم کو طبقوں میں بانٹ گئی۔ وہ جو غریب ہو کر بھی خوشحال رہنے میں خوش رہا کرتے تھے ان میں احساس غربت کے ساتھ ساتھ احساس محرومی بڑھنے لگا اور پھر ستر کی دہائی میں جب جمہوریت نے اپنے آپ کو عوام سے روشناس کرانا شروع کیا تو پہلی بار عوام کو اپنے عام ہونے کا احساس ہوا اور چھوٹے بڑے شہروں میں بھی عام اور خاص کی تخصیص پیدا ہونا شروع ہوئی۔  

سیاست کی ریاست

سیاست کی ریاست

8 months ago.

یوں تو ریاست میں سیاست ہوا کرتی ہے اور سیاست ایک بااثر پروفیشن بھی ہے اور کچھ افراد اس پروفیشن میں ایک لمبے عرصے تک  رہیں تو سیاست وراثت بن جاتی ہے۔ اگرچہ جمہوریت میں اس طرح کی وراثت کا کوئی تصور نہیں ان جماعتوں سے وابستہ افراد اپنے اپنے مفادات کیلئے وراثت کو ہی مستحکم کرتے رہتے ہیں اور یوں سیاست کی ایک علیحدہ ریاست بننے لگتی ہے اور اس ریاست کی حکمرانی کا حق صرف انہی سیاست دانوں کو منتقل ہوجاتا ہے جن کے اپنے گروہ اپنے مفادات کے تحفظ اور فروغ کیلئے  ایک دیوتا بنا کر عوام کے سامنے لاتے ہیں اور انہیں نجات دہندہ مانا جانے لگتا ہے۔ ہمارے پڑوسی دیش میں بھی جمہوری وراثت ایک عرصے تک رہی اور اب بھی شاید وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کیلئے ایک نئے وارث کو سامنے لارہے ہیں۔ کچھ ان کا راستہ بھارت کی حالیہ حکمران جماعت نے بھی آسان کردیا ہے کہ انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا پڑوسیوں سے تعلقات خراب کئے‘ بھارت کے اندر غربت کو  بڑھاوا دیا۔ اب بھارتیوں کے پاس سوائے اپنے جمہوری شہزادے کو واپس اقتدار میں لانے کے اور کوئی راستہ نہیں دکھائی دے رہا اور پھر شہزادہ عقل و دانش سیاست اور ڈپلومیسی میں بھی یکتا ہے۔ حسین بھی ہے جوان بھی ہے آہستہ آہستہ وہ بھارتی نوجوانوں اور عورتوں کا آئیڈیل بنتا جارہا ہے۔ ابھی حالیہ ریاستی انتخابات میں تو اس نے میدان مارلیا ہے اب آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ سیاست کی ریاست میں وہ بڑی مہارت سے کھیلے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست کی سیاست میں  وہ کہاں تک کامیابی  پاتے ہیں۔  

عوام اور عوامی نمائندے

عوام اور عوامی نمائندے

8 months ago.

یہ خبریں محض چند روز کی ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا تو دن رات نت نئی خبریں دے رہا ہوتا ہے ۔ اور اخبارات میں بھی مختلف آرا سے عوام مستفید ہوتے رہتے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی نے حالیہ ٹرم کا واہد بل ہے جو مکمل اتفاق رائے سے محض دو تین دنوں میں منظور کیا ہے جبکہ عوامی مسائل سے متعلقہ درجنوں بل ابھی تک قائمہ کمیٹیوں کی نظر عنایت کے منتظر ہیں کہ کب ان پر گفتگو ہو۔ حالیہ منظور شدہ بل بھی محض چند روز کی تاخیر سے خاموشی کے ساتھ نافذ ہو جائیگا ۔اور اس پر شاید میڈیا میںبھی مزید گفتگو نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہ عوامی نمائندوں کے مفاد میں ہے ظاہر ہے اگر عوامی نمائندوں کی تشفی ہوگی تو عوام کی تشفی ہوگی یوں بھی مقننہ عوام کی خواہشات کی آئینہ دار ہوتی ہے سو یہ بھی عوام کی ہی خواہش تصور کی جانی چاہیئے کہ ان کے نمائندے مالی لحاظ سے بھی خوشحال رہیں ۔ شب وروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اچھی حکومت کو عوام کے نمائندوں کا خیال رکھنا چاہیئے ۔