تاجروں کے کام کی باتیں

تاجروں کے کام کی باتیں

a month ago.

کوئی چیز اس لئے خریدنا تاکہ اسے منافع پر بیچا جائے تجارت کہلاتا ہے۔ سرکارِ مدینہ قرار قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے، تجارت کرو کہ روزی کے 10حصے ہیں 9حصے فقط تجارت میں ہیں۔ تجارت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پیشے کو انبیائے کرام علیہم السلام سے برکتیں لینے کا شرف حاصل ہوا ہے جیسا کہ مشہور مفسر قرآن، حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت سیدنا ہود علیہ السلام اور حضرت سیدنا صالح علیہ السلام تجارت فرمایا کرتے تھے، ان نفوسِ قدسیہ کے علاوہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسے اپنی ذاتِ بابرکت سے نوازا ہے۔ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارت کی غرض سے ملک شام و بصریٰ اور یمن کا سفر فرمایا اور ایسی راست بازی اور امانت و دیانت کیساتھ تجارتی کاروبار کیا کہ آپ کے شرکائے کار اور تمام اہل بازار آپ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو امین کے لقب سے پکارنے لگے۔  

بدشگونی سے بچئے! 

بدشگونی سے بچئے! 

2 months ago.

حاملہ عورت کو میت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر برا اثر پڑیگا۔ جوانی میں بیوہ ہوجانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں، نیز یہ سمجھتے ہیں کہ خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے۔ کسی کا کنگھا اِستعمال کرنے سے دونوں میں جھگڑا ہوتا ہے۔ خالی برتن یا چمچ آپس میں ٹکرانے سے گھر میں لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے۔ جب بادلوں میں بجلی کڑک رہی ہو اورسب سے بڑا بچہ (پلوٹھا، پہلوٹھا) باہر نکلے تو بجلی اس پر گر جائیگی۔ بچے کے دانٹ اُلٹے نکلیں تو ننھیال (یعنی ماموں وغیرہ) پر بھاری ہوتے ہیں۔ دودھ پیتے بچے کے بالوں میں کنگھی کی جائے تو اسکے دانت ٹیڑھے نکلتے ہیں۔ چھوٹا بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے تو اسکا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ بچہ سویا ہو ا ہو اُسکے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے تو بچے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔ مغرب کے بعد دروازے میں نہیں بیٹھنا چاہئے کیونکہ بلائیں گزر رہی ہوتی ہیں۔ زلزلے کے وقت بھاگتے ہوئے جو زمین پر گر گیا وہ گونگا ہوجائیگا۔ رات کو آئینہ دیکھنے سے چہرے پر جھریاں پڑتی ہیں۔ انگلیاں چٹخانے سے نحوست آتی ہے۔ سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ یا پائوں کٹا یا چراہوا ہو گا۔ نومولود (یعنی بہت چھوٹے بچے) کے کپڑے دھو کر نچوڑے نہیں جاتے کہ اس سے بچے کے جسم میں درد ہو گا۔ کبھی نمبروں سے بدفالی لیتے ہیں (بالخصوص یورپی ممالک کے رہنے والے)، اسی لئے ان کی بڑی بڑی عمارتوں میں 13نمبر والی منزل نہیں ہوتی، (بارہویں منزل کے بعد والی منزل کو چودہویں منزل قرار دے لیتے ہیں)، اسی طرح ان کے ہسپتالوں میں 13نمبر والابستر یا کمرہ بھی نہیں پایا جاتا کیونکہ وہ اس نمبر کو منحوس سمجھتے ہیں۔ رات کے وقت کنگھی چوٹی کرنے یاناخن کاٹنے سے نحوست آتی ہے۔ گھرکی چھت یا دیوار پر اُلو بیٹھنے سے نحوست آتی ہے (جبکہ مغربی ممالک میں اُلو کو بابرکت سمجھا جاتا ہے)۔ مغرب کی اذان کے وقت تمام لائٹیں روشن کردینی چاہئیں ورنہ بلائیں اُترتی ہیں۔ مذکورہ بالا بدشگونیوں کے علاوہ بھی مختلف معاشروں، قوموں اور برادریوں میں مختلف بدشگونیاں پائی جاتی ہیں۔