الوداع ماہِ رمضان

الوداع ماہِ رمضان

2 months ago.

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمدیار خان رحمۃ اللہ علیہ حدیث پاک کے اس حصے ’’رمضان کا مہینہ آ گیا ہے جوکہ نہایت ہی بابرکت ہے‘‘ کے تحت ’’مراۃ‘‘ جلد3 صفحہ 137 پر فرماتے ہیں: ’’برکت کے معنی ہیں بیٹھ جانا، جم جانا، اسی لئے اونٹ کے طویلے کو مُبارَکُ الْاِبِل کہا جاتا ہے کہ وہاں اُونٹ بیٹھتے بندھے ہیں۔ اب وہ زیادتی خیر (یعنی بھلائی کا بڑھنا) جو آ کر نہ جائے برکت کہلاتی ہے، چونکہ ماہِ رمضان میں حسی (یعنی محسوس کی جا سکنے والی) برکتیں بھی ہیں اور غیبی برکتیں بھی اسلئے اس مہینے کا نام ’’ماہِ مبارک‘‘ بھی ہے۔ رمضان میں قدرتی طور پر مومنوں کے رزق میں برکت ہوتی ہے اور ہر نیکی کا ثواب 70 گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان المبارک کی آمد (یعنی آنے) پر خوش ہونا، ایک دوسرے کو مبارکباد دینا سنت (سے ثابت) ہے اور جس کی آمد (یعنی آنے) پر خوشی ہونی چاہئے اسکے جانے پر غم بھی ہونا چاہئے۔ دیکھو! نکاح ختم ہونے پر عورت کو شرعاً غم لازم ہے اسی لئے اکثر مسلمان جمعۃ الوداع کو مغموم اور چشم پرنم ہوتے ہیں اور خطباء اس دن میں کچھ وداعیہ کلمات کہتے ہیں تاکہ مسلمان باقی (بچی ہوئی) گھڑیوں کو غنیمت جان کر نیکیوں میں اور زیادہ کوشش کریں۔