مقبوضہ کشمیر، یوم سیاہ اور آزادی مارچ!

مقبوضہ کشمیر، یوم سیاہ اور آزادی مارچ!

25 days ago.

٭آج بہت اہم دن ہے۔ کشمیر کے بھارت کے الحاق کے خلاف مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔ یہ ’یوم سیاہ‘ ہر سال منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں ایک آدھ جلسہ ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں کے حکمران اب تک اپنے بیانات میں تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ بھارت کی مذمت کی بجائے ’’حضور ذرا احتیاط کیجئے‘‘ کا رویہ، بھارت کے دورے ، حکمرانوں کی حلف وفاداری کی تقریب میں شرکت، ایک دوسرے کو ساڑھیوں اور شالوں کے تحفے، ذاتی گھروں میں استقبالئے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و استبداد میں اضافہ! یہ سب کچھ برسوں سے ہو رہا ہے، اس بار صورت حال بالکل مختلف ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا نقشہ ہی بدل ڈالا ہے۔ اس کے ٹکڑے کر دیئے ہیں اور بھارت کا وزیر اور آرمی چیف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر قبضہ کے لئے فوجی حملے کے اعلانات کر رہے ہیں۔ 85 دنوں سے مقبوضہ کشمیر پر کرفیو نافذ ہے، سرحدوں پر مسلسل فائرنگ ہو رہی ہے، دونوں طرف بھاری جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے! بات مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایسے عالم میں یوم سیاہ کی نوعیت بہت سنجیدہ اور سنگین ہو گئی ہے۔دریں اثنا نواز شریف کی بیماری کئی بیماریوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ دل کی تکلیف تو پرانی بات ہے۔ لندن میں آپریشن بھی ہوا تھا۔ بلڈ پریشر بہت اونچا اور بہت نیچے چلا جاتا ہے، گردے کمزور ہو گئے، ان میں پتھری موجود ہے، شوگر کی وجہ سے جسم کا ضعف اور نقاہت بڑھ رہی ہے۔خون کے صحت مندانہ خلیے چار لاکھ تک ہونے چاہئیں، مسلسل ٹیکے لگانے سے چھ ہزار سے بڑھ کر بمشکل 30 ہزار ہوئے ہیں، یہ بھی خطرناک پوزیشن ہے۔ اس قسم کے تقریباً 72 مزید ٹیکے لگنے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدائت پر نوازشریف کے پاس بیٹی مریم نواز کو بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ ان بیماریوں کو ڈاکٹروں نے تشویشناک قرار دیا تو لاہور ہائی کورٹ نے ایک ایک کروڑ کے ضمانت ناموں پر چودھری ملز کے کیس میں ضمانت منظور کر لی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں منگل کے روز العزیزیہ کیس کی سماعت ہو گی۔ شدید علالت کی بنا پر وہاں سے بھی ضمانت ہو گئی تو نوازشریف جیل کی بجائے لاہور میں اپنے گھر جاتی عمرا میں چلے جائیں گے۔  

ساہیوال کیس، عدل ایسا بھی ہوتا ہے!

ساہیوال کیس، عدل ایسا بھی ہوتا ہے!

26 days ago.

٭انصاف! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چار افراد کا کھلے عام قتل، پولیس کے ملازم تمام ملزم صاف بری! اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون! ذہن سُن ہے! یہ کیا ہو رہا ہے! 49 گواہوں کے بیانات، چشم دید گواہیاں، سب منحرف! 9 ماہ بعد شناخت پریڈ، خاندان کے مزید افراد قتل کرنے کی دھمکیاں، خاندان نے جان بچانے کے لئے ہاتھ جوڑ دیئے۔9 ماہ بعد ہونے والی شناخت پریڈ میں ملزم کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ عدل کے نظام میں بچوں کی گواہی کو بالکل صحیح تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کیس میں بچوں نے چشم دید گواہیاں دیں، ملزموں کو پہچان لیا۔ فائرنگ پولیس کی، استغاثہ پولیس کا، گواہیاں، تفتیش پولیس کی، دبائو اور دھمکیاں پولیس کی اور انصاف ہوگیا!49 نے ملزم کی فائرنگ کی چشم دید تصدیق کی۔ بچوں نے اپنے ماں باپ اور بہن کے قاتلوںکے حلیے بتا دیئے! بچوں کو اپنے نیچے لے کر بچانے والی ماں قتل ہو گئی۔ پولیس نے ہلاک ہو جانے والے مقتولین پر بھی گولیاںبرساتی رہی! تفتیش کے نام پر نام نہاد کارروائی، جِس بندوق سے فائرنگ کی، اسے فرانزک لیبارٹری میں نہیں جانے دیا! شور مچا تو دوسری بندوق بھیج دی، لیبارٹری رپورٹ آ گئی کہ کوئی فائرنگ نہیں ہوئی۔ ملک بھر میں شدید ردعمل ہوا۔ وزیراعظم عمران خان نے سخت صدمہ کا اظہار کیا، اعلان ہوا کہ قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ بیرونی دورے سے آ کر خود نگرانی کروں گا۔ وزیراعظم واپس آئے تو ’نگرانی‘ خاموش ہو گئی۔ جے آئی ٹی کی ایک رسمی تفتیشی کمیٹی بنائی گئی۔ اس کی آج تک رپورٹ سامنے نہ آئی۔ مقتول خلیل کے بھائی نے مقدمہ درج کرایا۔ اسے خوفناک دھمکیاں ملنے لگیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے یتیم بچوں کے گھر پر انصاف کا یقین دلایا۔ پھر وزیراعلیٰ کی زبان بھی خاموش ہو گئی۔ اور پھر کہیں بہت اوپر سے آنے والی خوفناک دھمکیوں سے مقتولین کا خاندان لرز گیا۔ مزید قربانیوں سے بچنے کے لئے ہاتھ جوڑ دیئے۔ لمبی بات ہے۔ مدعی جلیل کا تازہ بیان کہ 9 ماہ سے مقدمہ لڑ رہا ہوں، بے پناہ اخراجات ہوئے ہیں، اب مزید سکت نہیں رہی کیس مزید نہیں چلا سکتے۔

نوازشریف کی بیماری، وزارت خارجہ کی چوتھی منزل

نوازشریف کی بیماری، وزارت خارجہ کی چوتھی منزل

27 days ago.

٭اپوزیشن اور حکومتی مذاکرات سے اسلام آباد میں آزادی مارچ کی کشیدگی کم ہو رہی ہے مگر اس وقت نوازشریف کی بیماری کی اچانک تشویشناک صورت کی خبریں دوسری خبروں پرحاوی ہو گئی ہیں۔ نوازشریف لاہور کی جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔ دو روز پہلے اچانک ان کا بلڈ پریشر اتنا کم ہو گیا کہ غشی طاری ہونے لگی۔ معائنہ سے تشویش ناک انکشاف ہوا کہ ان کے خون میں سفید ذرات (پلیٹ لیٹس) انتہائی کم ہو گئے ہیں۔ عام تندرست انسان میں ان ذرات کی مقدار ڈیڑھ سے چار لاکھ تک ہوتی ہے۔ نوازشریف میں ان ذرات کی تعداد صرف سات ہزار رہ گئی۔ یہ صورت حال ڈینگی یا ہیپاٹائٹس سے پیدا ہوتی ہے۔ سفید ذرات خون میں مختلف جراثیموں کی مدافعت کرتے ہیں اور خون کو پتلا نہیں ہونے دیتے۔ یہ ذرات خطرناک حد تک کم ہو جائیں تو خون پتلا ہو جاتا ہے اور جسم کے کسی بھی حصے سے بہنے لگتا ہے۔ اسے روکا نہیں جا سکتا، یہ عمل مہلک ثابت ہوتا ہے۔ جیل میں اچانک نوازشریف کی حالت خراب ہوئی تو فوری طور پر سروسز ہسپتال میں پہنچایا گیا، وہاں پروفیسر کی سطح کے 27 سپیشلسٹ ڈاکٹروںکے تین بورڈ بنے۔ یہ بات سامنے آ گئی کہ نوازشریف کچھ عرصے سے اپنے ذاتی معالج، ڈاکٹر عدنان، کے زیر علاج تھے۔ اس نے نوازشریف کا بلڈ پریشر کم رکھنے کے لئے ضرورت سے زیادہ ’’لوپرن‘‘ دوا استعمال کرا دی، اس سے بلڈ پریشر خطرناک حد تک نیچے چلا گیا۔ سروسز ہسپتال میں مصنوعی طور پر سفید ذرات بڑھانے کی کوشش کی گئی، جو 29 ہزار تک پہنچ گئے مگر یہ علاج ہٹتے ہی پھر سات ہزار پر آ گئے۔ ہر طرح کی کوشش کے باوجود ڈاکٹروں کو اس کی وجہ سمجھ میںنہیں آ رہی تھی۔ پھر کراچی سے ہڈیوں کے کینسر کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کو بلایا گیا۔ اس نے جو تشخیص کی اس کے مطابق علاج شروع کرایا گیا۔ اس کالم کی اشاعت تک تازہ صورتِ حال سامنے آ چکی ہو گی۔