آن لائن قربانی 

آن لائن قربانی 

3 months ago.

ہمارے ہاں کچھ عرصے سے الحاد ولادینی کو رواج دینے کی کوشش ہورہی ہے اور مختلف حیلے بہانوں سے شعائر دین کی بے حرمتی اور ضروریات دین سے فرار کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔خاص طورپر گزشتہ چند برسوں کے دوران عید قربان کے موقع پر یہ بات بہت تواتر اور تسلسل سے کہی جانے لگی ہے کہ قربانی کرنے کی بجائے اتنی رقم صدقہ دے دی جائے بدقسمتی سے یہ بات وہی لوگ کہتے ہیں جو نہ قربانی کرتے ہیں اور نہ ہی صدقہ دیتے ہیں جب کہ اللہ رب العزت کے وہ خوش نصیب بندے جنہیں قربانی کی توفیق ملتی ہے وہ صدقہ بھی دیتے ہیں اور ضرورت مندوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے اور رفاہی وفلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں دراصل یہ قربانی اور فرض زکوٰۃ کا حکم اللہ کے راستے میں خرچ کرنے اور لوگوں کو دوسرے انسانوں کا احساس دلانے اور ان کی غمی خوشی میں شرکت دلانے کی ترغیب مقصود ہوتی ہے ۔لیکن وہ عناصر جو اس قسم کی بات کرتے ہیں دراصل وہ دینی احکام سے فرار کے متلاشی ہوتے ہیں اور دین بیزاری کا مختلف حیلے بہانوں سے اظہار کرتے ہیں ۔اس سال کرونا وائرس کی وجہ سے ایسے عناصر کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کا ایک موقع مل گیا تو انہوں نے کرونا کی آڑ میں زیادہ شدومد سے آن لائن قربانی اور دیگر مختلف عنوانات سے قربانی کے سلسلے کو ختم یا محدود کرنے کی مہم چلائی جس پر الحمد للہ ہماری طرف سے بروقت جواب دیا گیا ۔خاص طور پر سرکاری فورمز پر جہاں جہاں اس حوالے سے بات کی گئی اللہ رب العزت کی توفیق سے راقم الحروف نے مدلل اور مفصل انداز سے اس کا نہ صرف یہ کہ رد کیا بلکہ تمام پالیسی سازوں کو اپنے فیصلوں اور پالیسیوں پر نظر ثانی پر بھی مجبور کیا بعد ازاں اس اہم معاملے پر تمام مکاتب فکر کے ممتاز علماء کرام کو اعتماد میں لے کر نہ صرف یہ کہ یکساں موقف کا اظہارکیابلکہ ماہر ڈاکٹر حضرات کی مشاورت سے احتیاطی تدابیر بھی مرتب کر کے پیش کیں۔زیر نظر مضمون میں اسی صورت حال کا پیش منظر اور پس منظربیان کرنا مقصود ہے۔  

موجودہ صورتحال کے حوالے سے اکابر علماء کرام کا متفقہ موقف

موجودہ صورتحال کے حوالے سے اکابر علماء کرام کا متفقہ موقف

4 months ago.

جب سے کرونا وائرس کا معاملہ شروع ہوا اس وقت سے ہم نے جس قدر ہو سکا حکومت کا تعاون کیا،قومی یکجہتی پیدا کرنے کی کوشش کی،پوری قوم کو ایک پیج پر لانے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کو جمع کیا ۔جتنی چیزیں قابل عمل نظر آئیں ان پر عملدر آمد کیا گیا،بلکہ بعض چیزیں بظاہر بہت مشکل تھیں لیکن علماء کرام نے قربانی دی… امتحانات ملتوی کیے… مدارس بند کیے…ختم بخاری کے اجتماعات محدود کیے…تعلیمی سرگرمیاں معطل کیں…پھر مساجد کا معاملہ آیا تو ایک طویل جدوجہد کے بعد الحمدللہ دنیا کے باقی خطوں کی طرح یہاں مساجد بند نہیں ہونے دیں-یہ اس وقت کی بات ہے جب کرونا کا قضیہ ابھی شروع ہوا تھا-اس موقع پر پوری طرح منظر نامہ واضح نہ تھا-دنیا کے مختلف ممالک سے لوگوں کی بڑی تعداد کے کرونا کا شکار ہونے اور اس کے نتیجے میں دنیا سے چلے جانے کی گنتی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی تھی ایسے میں پاکستان کے علماء کرام نے انسانی جانوں کے تحفظ کو مقدم رکھا…لوگوں کو حکومتی ہدایات تسلیم کرنے پر آمادہ کیا…اپنوں کے طعنے سنے…لوگوں کی تنقید کے نشتر سہے… لیکن جس بات کو دیانۃً درست سمجھا ویسے ہی کیا لیکن ایک بات پر مسلسل زور دیا کہ رجوع الی اللہ کا اہتمام کیا جائے…مساجد کو آباد کیا جائے…لوگوں کو اللہ رب العزت کی بندگی سے نہ روکا جائے… الحمدللہ ہم اپنے اس موقف میں بھی سچے ٹھہرے اور اس مقصد میں کامیاب رہے لیکن سرکاری اہلکاروں اوربعض حکومتی ذمہ داران نے جو طرز عمل اپنایا وہ تاریخ کا حصہ ہے-

قومی نصاب تعلیم ۔۔۔ تاثرات وتجاویز

قومی نصاب تعلیم ۔۔۔ تاثرات وتجاویز

12 months ago.

موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد مختلف شعبوں میں اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ اصلاحات کے اس عمل میں کتنی کامیابی ہوئی اور کتنی نا کامی اور اصلاحات کا یہ طریقہ کس قدر مفید،موثر اور نتیجہ خیز رہا یہ ایک الگ بحث ہے۔ان اصلاحات کے لیے ٹاسک فورسز تشکیل دی گئیں ان میں سے ایک ٹاسک فورس برائے تعلیم بھی بنائی گئی۔اس ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کی تشکیل اور نفاذ بتایا گیا۔اس حوالے سے بڑی دلچسپ صورتحال پیش آئی۔ابتداًء یہ سمجھا جارہاتھا کہ شاید دینی مدارس کی طرف سے یکساں نصاب تعلیم کی مخالفت کی جائے گی لیکن دینی مدارس نے یکساں نصاب تعلیم کا خیرم مقدم کیا۔ اسے قومی وحدت کے لیے ضروری قرار دیا جبکہ بعض پرائیویٹ اداروں کی جانب سے ابتداًء یکساں قومی نصاب کی تشکیل کی سخت مزاحمت کی گئی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تو وہ نصاب کی تشکیل کے اس عمل میں کود پڑے اور عملی طور پر اس کا حصہ بن گئے۔