نیا سیاسی بیانیہ اور میاں شہباز شریف !

نیا سیاسی بیانیہ اور میاں شہباز شریف !

15 days ago.

شکوک و شبہات کی کشمکش میں بہتا سیاسی دھارا اپنا متعین رُخ بتا نہیں رہا،سول اسٹیبلشمنٹ اور آرمی اسٹیبلشمنٹ دونوں کے تیور بدلے سے تو لگتے ہیں ،مگر ابھی خفا نہیں لگتے ،مدعا دہلیز پر مل جائے تو پیش رفتگی کی عجلت نہیں ہوتی۔ بڑوں کی ضد چھوٹوں کے قدم روکے ہوئے ہے ،وگرنہ کیا کچھ نہیں ہوسکتا ،اختر مینگل کا حکومتی اتحاد سے نکل جانا ایک علامت ہے ،مگر اس کے حقیقت بننے میں کوئی بڑی رکاوٹ بھی نہیں ہے۔جنوبی پنجاب صوبہ محاذ گروپ پر وسیب کا دبائو ضرور ہے مگراسے کون خاطر میں لاتا ہے۔سرائیکی صوبہ تحریک کا وزن افتادگان خاک ہی نے اب تک اٹھایا ہوا ہے ،انہیں کون اہمیت دیتا ہے ،سرائیکی وسیب کے ایک پنجابی ایم این اے جو ق لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے،انہوں نے ایک صحافی پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی ،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ،کس نے نوٹس لیا!عدل وانصاف کے ایوانوں میں بھی اس کی گونج ضرور سنی گئی ہوگی،اسے غیر ضروری سمجھ کر نظرانداز کر دیا گیا۔یہ سب روز مرہ کے ناروا رویئے ہیں جن کی عادت سرائیکی سیاسی جماعتوں والوں کو بھی اچھے سےہوگئی ہے ۔  

مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ کا صائب موقف!

مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ کا صائب موقف!

2 months ago.

   مفتی تقی عثمانی صاحب ایک معتدل مزاج عالم دین اور بین الاقوامی شہرت کے حامل معیشت دان ہیں ،دنیا بھر کی سٹاک ایکس چینجز ان کے مشوروں کو فالو کرتی ہیں ،یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ دنیا کی کسی بھی زبان میں معیشت پر شائع ہونے والی کتاب سب سے پہلے ان کی میز کی زینت بنتی ہے ،دنیوی امور کے بھی اتنے ہی ماہر ہیں جتنے کہ دینی امور کے ،مفتی ہونے کے ناتے ان کی رائے کو مقدم گردانا جاتا ہے ،یوں بھی معروضی شعور کے حوالے سے فی زمانہ ان کا مدمقابل شائدہی کوئی ہو ۔اپنے علم میں یکتا ہیں اور عملی زندگی میں شریعت کے سبھی تقاضوں پر پورا اترتے ہیں ۔حکومتی حلقوں میں  ان کا نام نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے اور ان کا ذاتی کمال یہ ہے کہ اکابر کی سنت کی پاسداری کرتے ہوئے سرکاری ،درباری مجالس سے کنارہ کش رہتے ہیں ،کسی اہم مسئلے پر حکومت وقت کو ان کی رہنمائی کی احتیاج ہو تو صائب مشورہ جو حق سچ پر مشتمل ہو بلا تامل دیتے ہیں ،اس بارے کسی قسم کے فوٹو سیشن کا حصہ بننے سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں ،کسی قسم کا میڈیا ان کے لئے کوئی کشش نہیں رکھتا ،نا ہی مذہبی سیاسی جماعتوں کی سیاست میں کبھی آلودہ رہے ہیں بلکہ سیاسی اجتماعات میں بھی خال خال دکھائی دیتے ہیں ۔یہاں تک کہ عام میل ملاقات میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے ۔

کرونا وائرس اور ہمارے قومی رویئے!

کرونا وائرس اور ہمارے قومی رویئے!

2 months ago.

کرونا وائرس نے پوری دنیا کی زندگی کے رنگ و بو چھین لئے ہیں ،سائنس جو ترقی کے بام عروج پر خود کو کھڑا پاتی تھی ،اس ننھے سے خوردبینوں سے بمشکل دکھائی دینے والے وائرس کے سامنے سرنگوں ہے ،غم حیات کی مثل انسانی جسم و جاںسے لپٹے اس آزار نے انسان کو گھر کے درودیوار میں مقید کر دیا ،ہاں مگر جو اس روگ میں مبتلا ہیں وہ حکومتی ہسپتالوں کے رحم وکرم پر ہیں ،ایسا رحم وکرم جو اِن روگیوں تو کیا ان کے مسیحائوں تک کی حیات کے در پے آزار ہے اور یہ مسیحا بھی کیالوگ ہیں کہ زندگی ہتھیلوں پررکھے رات دن ایک جنون میں مبتلا ہیں ایسا جنون جسے ’’رقصِ جنوں ‘‘کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ،وہ جواں عمر ڈاکٹر جن کی جوانی بام عروج پر تھی کہ آسودہ خاک ہوئے ان کے پیاروں سے کوئی پوچھے کہ ان پر کیا بیتی ،حکومت نے ان کے ورثا ء کے زخموں پر کون سے پھاہے رکھے ؟کس امید کے دلاسے پر انہیں جینے کا حوصلہ دیا؟دیا بھی یا نہیں ،کہ ہمارے قومی رویوں میں بے اعتنائی کا عارضہ بھی ایک وائرس کی طرح ہے جس کے اندر بے رحمی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔