فیس بک کا ٹپکتا تعصب اور مہنگائی ہی مہنگائی

فیس بک کا ٹپکتا تعصب اور مہنگائی ہی مہنگائی

2 days ago.

نوبل انعام یافتہ صحافی ماریا دیسا نے کہا ہے کہ فیس بک جمہوریت کے لئے خطرہ اور تعصب کا شکارہے،فیس بک نفرت انگیزی اورغلط معلومات کے پھیلائو کو روکنے میں ناکام رہی ہے،فلپائنی صحافی کے مطابق فیس بک حقائق کے حوالے سے تعصب سے کام لیتی ہے۔ جمہوریت کے بارے میں توپتہ نہیں لیکن فیس بک اورمارک ذکربرگ کی اسلام دشمنی تو کسی بھی باشعورانسان سے ڈھکی چھپی نہیں، قرآن پاک میں موجود اللہ رب العزت کے حکم جہاد، عقیدہ ختم نبوتؐ،افغان طالبان،کشمیری مجاہدین ،فلسطین کےمظلوم مسلمانوں،مولاناخادم رضوی مرحوم،ملا محمدعمر مجاہد مرحوم اور ان جیسے دیگرمسلمان راہنمائوں کے ناموں سے تو ’’فیس بک‘‘ کی لگی ’’دوڑیں‘‘ دیکھ کرتو ایسے محسوس ہوتاہے کہ جیسے مارک ذکر برگ کے پیٹ میں مروڑاٹھ رہے ہوں،تعصب زدہ چہرے دنیا میں بہت سے ہیں،لیکن’’فیس بک‘‘کا اسلام اور مسلمانوں سے انتہائی متعصبانہ امتیازی سلوک دیکھ کر یہ بات بڑی احتیاط کے ساتھ لکھی جاسکتی ہے اس کا مقابلہ دنیا میں شائد ہی کوئی دوسرا گورا یا کالا کافر کرسکتا ہو؟ ویسے تو یروشلم سے لے کر فرانس تک،یہودی اور گورے اسلام فوبیا کی بیماری میں مبتلا ہیں،تاہم مارک زکر برگ کی فیس بکی حرکتیں دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ فیس بک،واٹس ایپ،انسٹا گرام وہ دجالی ہتھیار ہیں کہ جن کے ذریعے دین اسلام اوراسلامی تعلیمات،اسلامی شخصیات پربڑھ چڑھ کر حملے کئےجاتے ہیں۔

امریکی نائب وزیر خارجہ اور امریکی پٹاری کے راتب خور

امریکی نائب وزیر خارجہ اور امریکی پٹاری کے راتب خور

9 days ago.

امریکہ کی نائب وزیر خارجہ ونیڈی شرمین کہتی ہیں کہ ’’ہم پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مضبوط شراکت چاہتے ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پاکستان بغیر کسی فرق کے تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے گا‘‘ یاد رہے  کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان اس وقت آیا ہے کہ جب پاکستان ٹی ٹی پی سمیت دیگر عسکریت پسند گروپوں سے مفاہمت کی کوششیں کررہا ہے، امریکی نائب وزیرخارجہ کا یہ بیان ، پاکستان کے حوالے سے امریکہ کے حکمرانوں کی بدنیتی کو واضح کر رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ اپنے دشمن افغان طالبان سے مفاہمت کرسکتا ہے، اگر امریکہ افغان طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغانستان سے جان چھڑا کر فرار ہوسکتا ہےتو وہ ’’پاکستان‘‘ کو یہ حق دینے کے لئے کیوں تیار نہیں ہے کہ پاکستان بھی ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کو ممکن بنانے کے لئے ٹی ٹی پی کے جنگجوئوں سے مذاکرات کرسکے؟

مہنگائی کا جن اور عوام کی چیخیں

مہنگائی کا جن اور عوام کی چیخیں

11 days ago.

یہ خاکسار ’’مہنگائی‘‘ کے حوالے سے اس لئے بار بار کالم لکھ رہا ہے … کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کو بے حال کر رکھا ہے، بدلتی ہوئی عالمی صورت حال اپنی جگہ پر لیکن پاکستانی عوام کو مہنگائی کے ڈنڈے سے جس طرح سے ہانکنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، خبر یہ ہے کہ ڈالر کی بلند پرواز اور پٹرولیم مصنوعات میں خوفناک حد تک اضافے کے باعث تمام اشیائے خوردونوش چینی، آٹا، دالیں، گھی ، کوکنگ آئل، چکن، انڈے، سبزیاں اور پھلوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں، صرف یہی نہیں بلکہ جمعہ، ہفتہ ، اتوار بازاروں سمیت  یوٹیلٹی سٹورز اور سہولت بازاروں میں بھی مہنگائی کا جیسے طوفان آیا  ہوا ہے، اوپن مارکیٹ میں آلو 70روپے کلو، پیاز80 روپے کلو، ادرک 400 روپے کلو ،لہسن300  روپے کلو، ٹماٹر120 روپے کلو، کریلا100روپے کلو، ٹینڈے130 روپے کلو، انگور سندرخانی400 روپے کلو، چھوٹا گوشت1300 روپے کلو،بڑا گوشت700 روپے جبکہ مرغی کا گوشت450 روپے کلو، دودھ130 روپے کلو، خالص دودھ 150 روپے کلو، دہی200 روپے کلو، چینی100 روپے اور آٹا چکی80 روپے کلو، یہ تو چند کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں لکھی ہیں …

میڈیا کو زنجیریں پہنائو یا پھانسیاں دو، ’’مہنگائی‘‘ پر تو قابو پائو؟

میڈیا کو زنجیریں پہنائو یا پھانسیاں دو، ’’مہنگائی‘‘ پر تو قابو پائو؟

17 days ago.

اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ ڈالی ہے، چیزوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کہاں پہ جاکے رکیں گی؟ یہ بات حکمران بھی نہیں  جانتے، ادویات ہوں، پٹرولیم مصنوعات ہوں یا اشیاء خوردونوش ان کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ دوسری طرف آئی ایم ایف نے پاکستان سے آٹے، چینی، گھی، دالوں اور چاول کے ساتھ ساتھ گیس اور بجلی پر فراہم کی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، بتایا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ صرف احساس پروگرام میں شامل افراد کو ہی ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے، اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب بنانے کے لئے ممکن ہے کہ گیس اور بجلی کی قیمتیں ایک دفعہ پھر بڑھانے کا اعلان کر دے، بہرحال کوئی بھی عقلمند انسان اگر غور کرے تو اسے دور دور تک مہنگائی ختم ہونا تو درکنار اس کی شدت میں کمی ہوتی ہوئی نظر بھی نہیں آرہی، سوال مگر یہ ہے کہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگیاں گزارنے والے کروڑوں پاکستانی مہنگائی کے اس سونامی کے ہوتے ہوئے کدھر جائیں گے،حکومتی وزراء بڑھتی ہوئی مہنگائی کا خود اعتراف کرتے ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان بھی فرما چکے ہیں کہ ملک میں بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

معاملہ لال مسجد پرجھنڈا لہرانے کا؟

معاملہ لال مسجد پرجھنڈا لہرانے کا؟

24 days ago.

معاملات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں اگر ان کا جائزہ حقائق کی روشنی میں لیا جائے تو ’’حل‘‘ بھی تلاش کر لئے جاتے ہیں، ایک نجی چینل کے پروگرام میں اینکرنی وفاقی وزیر داخلہ سے سوال کرتی ہیں کہ ’’افغانستان کی ایمبیسی پر جھنڈا لگا ہوا ہے افغانستان کا ’’لال مسجد‘‘ پہ جھنڈا لگا ہے ’’اسلامی امارات‘‘ کا کہ جو کل آپ نے اتارا ہے، کیا ایسے لوگوں کو آپ ڈسکرج کریں گے کہ جو ٹی ٹی پی کے نام پر پولیس والوں کو دھمکا بھی رہے ہیں اور ریاست کی رٹ کو چیلنج بھی کر رہے ہیں‘‘؟ ’’اینکرنی‘‘ کے اس سوال کا وزیر داخلہ نے جو جواب دیا اس پہ تو بعد میں آتے ہیں پہلے ’’بیڈ میڈیا‘‘ کی تازہ باریک واردات کی نشاندہی ضروری ہے، زمینی حقائق کے مطابق اتوار کے روز فجر کی نماز کے بعد جامعہ حفصہ کی بلڈنگ پر امارت اسلامیہ کا سفید پرچم کہ جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا لہرا دیا گیا، اسلام آبادانتظامیہ کے افسران نے کامیاب مذاکرات کے بعد وہ جھنڈے اتروا دئیے،اس دوران کسی پولیس آفیسر سے مولانا عبدالعزیز کی تلخ کلامی بھی ہوئی کسی شرپسند اور شرارتی نے مولانا عبدالعزیز کی اس تلخ گفتگو کی مختصر سی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پرجاری کردی،غیر ملکی ’’گدھ‘‘ میڈیا نے تو لال مسجد کے کسی ’’شکیل غازی‘‘ نام کے خودساختہ ترجمان سے منسوب بیانات بھی جاری کرنے شروع کر دیئے۔

ایک بار پھر خود ساختہ ماہرین تعلیم کے حوالے سے

ایک بار پھر خود ساختہ ماہرین تعلیم کے حوالے سے

25 days ago.

انہوں نے مجھے فون پر پوچھا کہ کیا آپ فلاں ہوٹل میں  چائے پر آسکتے ہیں؟ میں نے حامی بھرلی اور پھر مقررہ ٹائم پر کراچی کے ایک بڑے ہوٹل میں پہنچ گیا، وہ میرے منتظر تھے، مجھ سے بڑی شفقت سے بغل گیر ہوئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر کونے میں رکھی ہوئی ٹیبل کے گرد قرینے سے پڑی ہوئی  آرام دہ کرسیوں پر آن بیٹھے، کافی کا آرڈر دیا اور دھیرے سے بولے کہ ’’میں نے آپ کا 20 ستمبر کے دن چھپنے والا کالم بعنوان ’’ہائے اللہ یہ تعلیمی ماہرین‘‘ بہت غور سے پڑھا، آپ نے مسٹر پرویز ھود، ڈاکٹر عائشہ رزاق وغیرہ کے حوالے سے بالکل درست سوالات اٹھائے، ان لبرل اور ملحد تعلیمی ماہرین کی مختلف ٹی وی چینلز پر گفتگو سن کر ایسے لگتا ہے کہ  جیسے ’’تعلیم‘‘ ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی، محب وطن عوام یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ جیسے سیکولر، ملحد شدت پسندوں کے گروہ نے میڈیا کے ذریعے قرآن و حدیث اور اسلامی احکامات کے خلاف باقاعدہ کوئی جنگ چھیڑ رکھی ہو، حکومت اگر مسلمان بچوں کو ناظرہ قرآن پاک اور اس کا ترجمہ پڑھانے کا کہہ رہی ہے  یہ تو نہایت خوش آئند ہے، اگر مسلمانوں کے بچے ناظرہ قرآن اور اس کا ترجمہ نہیں پڑھیں گے تو کیا انہیں بائبل یا زبور پڑھانے کا فیصلہ کرنا چاہیے؟ پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے، یہاں سے قرآن و حدیث کی تعلیمات کو مٹانے یا انہیں انتہائی محدود کرنے کی کوششوں میں عالمی صیہونی ایجنٹ پاگل ہوئے پڑے ہیں اور میڈیا میں گھسے ہوئے شدت پسند اینکر اور اینکرنیاں بھی ایسے ملحد اور اسلام مخالف خواتین و حضرات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے ٹاک شوز میں اسلام مخالف پروپیگنڈے کا موقع فراہم کرتے ہیں، سیکولر شدت پسند، اینکرز، اینکرنیوں اور اسلام مخالف ان نام نہاد تعلیمی ماہرین کی ان حرکتوں کی وجہ سے قوم میں تقسیم کی لکیریں گہری ہوتی چلی جارہی ہیں، حالانکہ ملک میں بسنے والے عیسائی ہوں، ہندو ہوں یا دیگر اقلیتیں، انہیں مسلمان طلباء و طالبات کو ناظرہ قرآن، اس کا ترجمہ یا دعائیں  پڑھانے  پر نہ کوئی اعتراض ہے اور نہ غصہ، لیکن شعبہ تعلیم میں گھسے ہوئے ’’پرویز ھودوں‘‘ کو نجانے مسلمان طلباء و طالبات کو سکولوں میں قرآن پاک پڑھنے اور پڑھانے پر اعتراض کیوں ہے؟

’’سپر پاور‘‘ اعزاز ، امریکی پٹاری کے خرکاروں کی بوکھلاہٹ؟

’’سپر پاور‘‘ اعزاز ، امریکی پٹاری کے خرکاروں کی بوکھلاہٹ؟

26 days ago.

افغانستان میں طالبان مجاہدین کی حکومت نے نیا آئینی سیاسی ڈھانچہ جاری کر دیا ہے،40 نکات پر مشتمل اساسی و قانونی ڈھانچے کے مطابق، افغانستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا، خارجہ پالیسی کا محور اسلامی شریعت پر ہوگا، عوام کو بنیادی انسانی حقوق  اور انصاف یکساں طور پر حاصل ہوگا … تمام پڑوسیوں کے ساتھ حل طلب مسائل پرامن طریقے اور ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے، اساسی و قانونی ڈھانچے کے مطابق ، دیگر مذاہب کے پیروکار اسلامی شریعت کے احکامات کے تحت اپنے مذہبی عقائد انجام دینے میں آزاد ہیں، افغانستان کا کوئی بھی حصہ بیرونی حکومتوں کے تابع نہیں ہوگا، یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ افغانستان کے طالبان مجاہدین انتہائی دور اندیشی اور پرامن طریقے سے قدم، بقدم اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں، طالبان مجاہدین کے اب تک کے بصیرت پر مبنی فیصلوں نے ساری دنیا میں اپنی دھاک بٹھا رکھی ہے، اب یہ بات بھی تقریباً طے ہوچکی ہے کہ افغان طالبان سے عبرتناک شکست کھاکر ذلت آمیز انداز میں افغانستان سے نکلنے  کے بعد امریکہ اب ’’سپر پاور‘‘کے اعزاز سے بھی محروم ہوچکا ہے، اور تو اور  اس بات کا اعتراف برطانوی وزیر دفاع نے گزشتہ ہفتے لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا ہے…

میڈیا اور مرید؟

میڈیا اور مرید؟

30 days ago.

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے فرمایا ہے کہ ’’صحافیوں کے دو گروپوں کے درمیان لڑائی کا خدشہ تھا اس لئے احتیاط کے طور پرپریس گیلری بند کی‘‘ کوئی ان سے پوچھے کہ ’’سرجی‘‘ قومی اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے درمیان آئے روز گالم گلوچ،دھینگا مشتی حتیٰ کہ مارا ماری بھی ہوتی ہے لیکن آپ نے ’’احتیاط کے طور‘‘ پر کبھی قومی اسمبلی کے ایوان کو تو بند نہیں کیا، نہ ہی ایوان کے دروازوں پر تالے ڈالے، لیکن قومی اسمبلی کی پریس گیلری کو بند کرکے صدر مملکت کی  پارلیمنٹ کے مشترکہ ایوان سے تقریر کروانے کی جو نئی تاریخ رقم کی گئی کیا اب بھی اسے جمہوریت کی خدمت ہی سمجھا جائے؟ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے بالکل درست فرمایا کہ ’’دنیا عمران خان کی شاگردی اور مریدی اختیار کرے‘‘ عمران خان کی شاگردی اور مریدی اختیار کرنے کی یہ دعوت اگر امریکی صدر جوبائیڈن،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، اسرائیلی،برطانوی `ملائیشین وزراء اعظم سمیت اگر کوئی  بھی قبول نہیں کرتا تو صدر مملکت کو چاہیے کہ وہ عمران خان کا شاگرد اور مرید بنانے کی اس دعوت کو پاکستان تک ہی محدود کریں، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، بلاول زرداری، اسفند یار ولی، محمود اچکزئی وغیرہ کو دعوت دے کر دیکھیں، ممکن ہے کہ وہ عمران خان کی شاگردی اور مریدی اختیار کرنے کی دعوت قبول کرکے اپنی آخرت سنوارنے میں کامیاب ہو جائیں۔