بابری مسجد اور بھارتی سپریم ’’کمین‘‘ گاہ

بابری مسجد اور بھارتی سپریم ’’کمین‘‘ گاہ

8 days ago.

میرا دل تھا کہ میں اس موضوع پہ نہ لکھوں‘ لیکن کروں کیا جب سے بابری مسجدکے حق ملکیت کا فیصلہ سامنے آیا ہے کسی پل چین نہیں مل رہا‘ میرے لئے کالم لکھنا پروفیشن سے بڑھ کر عبادت ہے‘ اس لئے موضوعات کا گھنا جنگل سامنے ہونے کے باوجود کوئی موضوع سبھائی دے ہی نہیں رہا‘ ایسے لگتا ہے کہ جیسے دل اور آنکھیں ہی بابری مسجد کے لئے اشک آور نہیں بلکہ ’’قلم‘‘ بھی اشکبار ہے‘ میری پیاری شہید بابری مسجد کی زمین کو بھارتی سپریم کورٹ کے شدت پسند چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ہندوئوں کے حوالے کرکے بھارت کے امن کو ہمیشہ کے لئے نذر آتش کر ڈالا‘ عمران خان کے پاکستان کا وزیراعظم بننے‘ جہادی تنظیموں پر سفاک پابندیاں لگانے کے بعد وزیراعظم نریندر  مودی‘ آرمی چیف جنرل بپن راوت اور چیف جسٹس رنجن گوگوئی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے شدت پسندانہ نظریات کے تحت جو فیصلے دے رہے ہیں‘ اسے دیکھ کر لگ یوں رہا ہے کہ جیسے انہیں اب دور دور تک کسی مزاحمت کا کوئی خطرہ لاحق نظر نہیں آرہا۔  

امن و سلامتی کے سب سے عظیم پیغمبرﷺ

امن و سلامتی کے سب سے عظیم پیغمبرﷺ

19 days ago.

ربیع الاول کا برکتوں والا مہینہ شروع ہوچکا ہے...اس ماہ مبارک میں سوا چودہ سو سال قبل مکہ مکرمہ کی سرزمین پر حضرت سیدہ آمنہؓ کی جھولی میں حضرت عبداللہ کے دریتیم اور حضرت عبدالمطلب کے پوتے محمد رسول اللہﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی‘ آقا‘ مولیٰﷺ کو کرئہ ارض پر بسنے والے جن و انس‘ حیوانات‘ و جمادات‘ چرند‘ پرند‘ غرضيکہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا... نبی کریمﷺ ایسے جمال خلق اور کمال خلق  سے متصف تھے جو حیطئہ بیان سے باہر ہے۔ اس جمال و کمال کا اثر یہ تھا کہ دل آپﷺ کی تعظیم اور قدرومنزلت کے جذبات سے خود بخود لبریز ہو جاتے تھے۔ چنانچہ آپﷺ کی حفاظت اورجلال و تکریم میں لوگوں نے ایسی ایسی فدا کاری و جانثاری کا ثبوت دیا جس کی نظیر دنیا کی کسی اور شخصیت کے سلسلے میں پیش نہیں کی جاسکتی۔ آپﷺ کے رفقاء اور ہم نشین ورافتگی کی حد تک آپﷺ سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گوارا نہ تھا کہ آپﷺ کو خراش آجائے‘ خواہ اس کے لئے ان کی گردنیں ہی کیوں نہ کاٹ دی جائیں۔ اس طرح کی محبت کی وجہ یہی تھی کہ عادۃ جن کمالات پر جان چھڑ کی جاتی ہے‘ ان کمالات سے جس قدر حصہ و افر آپﷺ کو عطا ہوا تھا کسی اور انسان کو نہ ملا۔ ذیل میں ہم عاجزی و بے مائیگی کے اعتراف کے ساتھ ان روایات کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں جن کا تعلق آپﷺ کے جمال و کمال سے ہے۔

مولویوں کو اتنا مارو کہ نانی یاد آجائے؟

مولویوں کو اتنا مارو کہ نانی یاد آجائے؟

29 days ago.

ایک (ر)صاحب ایک ٹی وی پروگرام میں فرما رہے تھے کہ 1977ء میں جب تحریک نظام مصطفیٰ  چلی تو ان کی ڈیوٹی لاہور میں تھی۔ نیلا گنبد اور اس کے گردونواح کے علاقے میں  تحریک کا زور تھا۔ نبیﷺ کے نام پر لوگ گولی کھانے سے بھی دریغ نہیں کر رہے تھے فورسز کا جوان جب انہیں بندوق سے ڈرانے کی کوشش کرتا تو وہ سینہ تان کر گولی کھانے کیلئے تیار ہو جاتے۔ یہ صورتحال پریشان کن تھی۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ بندوق کی بجائے ان کی ٹانگوں پر لاٹھیوں سے اتنا مارو کہ ’’مولویوں‘‘ کو نانی یاد آجائے۔ ان (ر) صاحب کی یہ گفتگو سن کر  اینکر قہقہہ مار کر ان سے سوال کرتا ہے کہ کیا آپ حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں وہ آزادی مارچ والوں سے بھی  اسی طرح نمٹے، جواب  ملتا ہے کہ بالکل ان کا علاج ہی یہی ہے، سچی بات ہے کہ ان (ر) صاحب کی یہ گفتگو سن کر میں ہل کر رہ گیا، اپنے ہی عوام کے بارے میں اس قسم کی گفتگو کرنا سنگدلی کی انتہا نہیں تو پھر کیا ہے؟