کراچی سرکاری سکول اور سائیں سرکار

کراچی سرکاری سکول اور سائیں سرکار

4 days ago.

جن کا ماضی ’’الذوالفقار‘‘ اور عزیر بلوچ کے کھونٹے سے بندھا ہوا ہو … تعلیمی ادارے چلانا ان کے بس کی بات نہیں، کراچی کے علاقے گلشن حدید سے خبر آئی ہے کہ وہاں سرکاری سکول کی زیرتعمیر عمارت کو پھلوں کا گودام بنا دیا گیا، سوشل میڈیا پر وائر ل وڈیو کلپ میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ یو سی23 گلشن حدید فیز2 میں ایل ون مارکیٹ کے …عقب میں  سندھ سرکار نے 12سال قبل یعنی2008 ء میں جس سکول کی تعمیر شروع کی تھی …  جولائی2020 ء میں گورنمنٹ کا وہ سکول آج بھی زیرتعمیر ہی ہے … اس کی تعمیر مکمل ہونے میں اور کتنے سو سال درکار ہوں گے اس کا جواب سائیں سرکار ہی دے سکتی ہے … ہاں البتہ جب علاقے کی سماجی شخصیت اور معروف ماہر تعلیم عمیر شاہد نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ہمراہ اس سرکاری سکول پر چھاپہ مارا تو اندر نہ صرف پھلوں کا گودام بنا ہوا تھا بلکہ برآمدے میں ’’حجام‘‘ کا کاروبار بھی چل رہا تھا … سرکاری سکول کی بلڈنگ میں حجام کو گاہک کی شیو بناتے ہوئے دیکھ کر میں نے سوچا کہ آخر سائیں سرکار کب تک کراچی اور سندھ کے عوام کو ’’ماموں‘‘ بناتی رہے گی؟ عمیر شاہد نے جیسے ہی سرکاری سکول کی بلڈنگ میں جاری سندھ سرکار کی تعلیمی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنا شروع کیا …تو بن قاسم ٹائون انتظامیہ  میں کھلبلی مچ گئی، اسسٹنٹ مختیار کار بن قاسم،  تھانہ اسٹیل ٹائون کی پولیس کے ہمراہ وہاں پہنچے … جنہیں دیکھ کر سرکاری سکول کی بلڈنگ کو پھلوں کے گودام میں تبدیل کرنے والا تو فرار ہوگیا البتہ دیگر چند افراد پولیس کے ہتھے ضرور چڑھ گئے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تعمیر بیت اللہ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تعمیر بیت اللہ 

9 days ago.

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے جلیل القدر فرزند حضر ت اسماعیل علیہ السلام کی معیت میں اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر فرمایا۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کو بڑے عجیب اور بڑے والہانہ انداز میں بیان فرمایا اور پوری امت کیلئے قیامت تک اس کو اپنی مقرب کتاب کا حصہ بنا کر پوری امت مسلمہ کیلئے ہمیشہ محفوظ فرمادیا۔ اس دعا کی تھوڑی سی تفصیل جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کرتے وقت مانگی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ سورۃ بقرہ میں ذکر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا ۔ اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم علیہ السلام  بیت اللہ کی دیواروں کو بلند فرما رہے تھے   اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی (ان کے ساتھ شامل تھے) ۔ اس آیت میں ا س بات کی طرف اشارہ فرمادیا کہ بیت اللہ اگرچہ پہلے سے موجود تھا اس کی بنیادیں موجود تھیںحضرت آدم علیہ السلام  کے وقت سے یہ دنیا کے اندر چلا آتا تھا لیکن مرور ایام اسکی عمارت موجود نہ رہی تھی‘بنیادیں باقی تھیں۔

مولانا عزیز الرحمن  ؒ ‘ باکمال زندگی بے مثال رخصتی

مولانا عزیز الرحمن  ؒ ‘ باکمال زندگی بے مثال رخصتی

17 days ago.

رمضان المبارک میرا کراچی میں گزرا‘ ان کا ہر دن یا دوسرے دن شفقت بھرا فون آتا‘کورونا وائرس اور لاک ڈائون کی وجہ سے غربت کے ہاتھوں پسے ہوئے انسانوں کی مدد کے لئے انہوں نے خوداپنے آپ کو‘ اپنی اولاد‘ مساجد‘ خانقاہوں ٹرسٹ اور مریدوں کو وقف کر رکھا تھا...رمضان المبارک کی آمد سے قبل ان کی زیرپرستی ایک ہزار خاندانوں تک راشن پہنچایا گیا‘ وہ مجھے بتایا کرتے تھے کہ ہم نے  زکریا ٹرسٹ کی معرفت رمضان پیکج بھی مستحقین تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے... غالباً یہ 15 رمضان المبارک کا دن تھا کہ جب ان کا فون آیا فرمایا کہ میں نے اپنے بچوں کو بلا کر کہہ دیا ہے کہ اس مرتبہ میرا عید کا نیا سوٹ نہیں بنے گا...بلکہ سوٹ کی قیمت کسی غریب انسان کے گھر کے راشن کیلئے جمع کروا دو‘ یہ سن کر میرے بیٹوں‘ ان کے بیوی‘ بچوں‘ میرے بھائیوں غرضیکہ خاندان کے سارے چھوٹے بڑوں‘ عورتوں‘ مردوں نے عید کے نئے سوٹ خریدنے کی بجائے...سوٹ کے برابر رقم راشن فنڈ میں جمع کروا دی...

دل کے 4لاکھ آپریشن اور سائنس کی شکست؟

دل کے 4لاکھ آپریشن اور سائنس کی شکست؟

19 days ago.

23 سال ہوگئے دل کا آپریشن کرتے ہوئے۔ ان 23سالوں میں تقریباً چار لاکھ سے زائد دل کے آپریشن کر چکا ہوں۔ ان چار لاکھ دل کے مریضوں میں صرف آزادکشمیر ہی نہیں بلکہ گلگت بلتستان‘ کے پی کے‘ پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان کے علاوہ دنیا کے کئی دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مریض بھی شامل ہیں‘ خیر کا یہ سارا کام اللہ کے فضل و کرم سے ہی ممکن ہوا؟ میں تو اللہ کا ایک عاجز بندہ ہوں... میری کیا اوقات کہ میں قسم‘ قسم کے دعوے کرتا پھروں؟ لیکن اللہ کی طاقت سے تو سب کچھ ممکن ہے‘ یہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں... دل کے مریضوں کا یہ سارا علاج اللہ کے فضل سے ہی ممکن ہوسکا۔ یہ خاکسار اپنے ساتھیوں مولانا شمس الحق‘ عبیداللہ طارق اور مولانا نصیرگل کے ہمراہ ’’دل‘‘ کے آپریشن میں عالمی شہرت حاصل کرنے والے حکیم محمد جاوید خان کے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے انہیں کی زبانی یہ گفتگو سن رہا تھا۔ حکیم سائیں جاوید طبیعت کے انتہائی سادہ‘ منکسرالمزاج پابند صوم و صلوٰۃ لالچ اور دولت کمانے کی حرص سے کوسوں میل دور اور انسانیت کی خدمت کے جذبے سے بھرپور شخصیت کے مالک ہیں...

پنجاب اسمبلی کا کارنامہ...پرویز الٰہی کیلئے خصوصی دعائیں

پنجاب اسمبلی کا کارنامہ...پرویز الٰہی کیلئے خصوصی دعائیں

25 days ago.

12جون کا جمعتہ المبارک اس خاکسار نے راولپنڈی کی ایک بڑی مسجد میں ادا کیا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد امام صاحب نے جو دعا کروائی اس میں خاص طور پر سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا بھی ذکر تھا...دعا کے الفاظ کچھ یوں تھے ’’اے اللہ چوہدری پرویز الٰہی کی کوششوں سے حضرت محمد کریمﷺ‘ امہات المومنینؓ اور صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی روکنے کا جو بل منظور ہوا ہے اس پر چوہدری صاحب اور پنجاب اسمبلی کے بل کے حامی تمام اراکین کی بخشش فرما‘ امام صاحب کی مانگی ہوئی اس دعا پر میرے سمیت مسجد میں موجود سینکڑوں نمازیوں نے پورے صمیم  قلب سے امین کہا‘ مسجد سے نکلتے ہوئے میں نے سوچا کہ واقعی نیکی کبھی مرتی نہیں ہے‘ تقریباً چھیالیس سال قبل ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قومی اسمبلی نے منکرین ختم نبوتؐ یعنی قادیانی‘ لاہوری گروہ کو کافر قرار دے کر خاتم النبیینﷺ  سے جس محبت کا ثبوت دیا تھا۔ پھر اسی کا نتیجہ ہے کہ تختہ دار پر لٹکنے کے واقعہ کو چار دہائیاں بیت گئیں...مگر پاکستان کی سیاسی  تاریخ میں ’’بھٹو‘‘ کا نام آج بھی گونج رہا ہے‘ کوئی مت سمجھے کہ بھٹو مرحوم کے نام کو  زرداری یا بلاول نے زندہ رکھا ہوا ہے...ہرگز نہیں پھانسی کی چار دہائیوں بعد بھی  بھٹو کا نام اگر زندہ ہے تو اسے اس ’’نیکی‘‘  نے زندہ رکھا ہوا ہے جو دشمنان ختم نبوت قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی صورت میں کی گئی تھی‘ پنجاب اسمبلی نے تاریخی قانون سازی کرتے ہوئے پنجاب کریکوکم اینڈ ٹیکسٹ بورڈ کے ترمیمی بل کی مشترکہ طور پر جو منظوری دی ہے۔ اس کے تحت پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ تمام دینی کتب اور مذہبی مواد پہلے متحدہ علماء بورڈ سے تصدیق کرائے گا۔ اس بل کی منظوری کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئے روز دین کے خلاف جو سازشیں ہوتی ہیں...بالخصوص سکولوں میں ہمارے بچوں اور بچیوں کو جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ ان کے معصوم ذہنوں میں دین اسلام‘ خلفائے راشدینؓ ‘ اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کے خلاف نفرت انگیزی اور مشکوک و شبہات پیدا کئے جاتے ہیں ...اب وقت آگیا ہے کہ ان شاء اللہ اس شر کے دروازے کو ہمیشہ کیلئے بند کر دیں۔

کپتان کی طاقت‘ مولانا کے سامنے شکست خوردہ

کپتان کی طاقت‘ مولانا کے سامنے شکست خوردہ

26 days ago.

ایک دن میں دو نمازیں یعنی عصر اور مغرب ’’مولانا‘‘ کی اقتداء میں  پڑھنے کے بعد‘ میں نے لمحے بھر کے لئے ان لوگوں کی سنگدلی کے بارے میں سوچا کہ جو لوگ عمران خان یا کسی اور سیاسی لیڈر کی محبت میں مولانا فضل الرحمن کو منہ بھر‘ بھر کر گالیاں بکتے ہیں۔ یا سوشل میڈیا پر ان پر جھوٹے الزامات عائد کرتے ہیں۔ کیا ایسے لوگوں نے مرنا نہیں ہے؟ اختلاف کیجئے...ممکن ہے کہ مجھے بھی مولانا کی سیاست کے بعض پہلوئوں سے اختلاف ہو‘ لیکن گالیاں‘ بہتان تراشیاں اور جھوٹے الزامات تو عمران خان پربھی نہیں لگانے چاہئیں‘  چہ جائیکہ مولانا فضل الرحمن جیسے صاحب علم و فضل پر کہ ملک کے لاکھوں علماء جن کو اپنا امیر مانتے ہوں‘ ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر سوچئیے کہ اس وقت ملک میں حقیقی اپوزیشن کا کردار کون ادا کر رہا ہے؟ کیا کوئی صاحب بصیرت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو حقیقی اپوزیشن تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے‘ ہرگز نہیں‘ بلکہ ڈرائینگ روم سے لے کر تھڑے پہ بیٹھے ہوئے ایک عام شخص تک‘ ان لیگ اور زرداری پارٹی کو ’’ڈیل پارٹیاں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر آزادی مارچ کے دوران یہ دونوں بڑی پارٹیاں صاف نیت اور صاف دل کے ساتھ اسلام  آباد دھرنے میں بھی ’’مولانا‘‘ کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے اپنے کارکنوں کو اسلام آباد لے آتیں تو آج ملک کا سیاسی نقشہ یقینا کچھ اور ہوتا۔

پاک فوج کے خلاف عالمی مہم

پاک فوج کے خلاف عالمی مہم

28 days ago.

نہ جانے منظور پشتین‘ محسن داوڑ‘ علی وزیر اور پی ٹی ایم کے دیگر رہنمائوں کو یہ بات کس حکیم نے سمجھائی ہے کہ پاکستان اور پاک فوج مخالف مہم چلانے سے ہی پشتونوں کے حقوق کے تحفظ مل سکتا ہے؟ غلط‘ بالکل غلط‘ انہیں جان لینا چاہیے کہ پاکستان اور پاک فوج کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلانے سے امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت تو ان سے خوش ہوسکتے ہیں مگر کوئی بھی محب وطن پاکستانی  ان سے کبھی بھی خوش نہیں ہوگا۔ اوصاف میں چھیننے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف منافرت آمیز اور اشتعال انگیز مہم چلانے کے لئے  پی ٹی ایم کے متعدد ہمنوا گروپس تشکیل پاچکے ہیں۔ جن میں پشتون کونسل امریکہ‘ پشتون کونسل برطانیہ‘ پشتون کونسل جرمنی‘ پشتون کونسل بلجیئم اور پشتون کونسل کینیڈا کے نام شامل ہیں۔ یکم مئی 2020ء کو جنوبی وزیرستان میں قتل ہونے والے عارف وزیر کے قتل کے بعد ’’پشتون کونسل امریکہ‘‘ نے انٹرنیشنل  میڈیا کے نام  جو اعلامیہ جاری کیا۔ اس اعلامیے میں پاک فوج کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے۔  

ملحدانہ قوم پرستی اور پی ٹی ایم

ملحدانہ قوم پرستی اور پی ٹی ایم

30 days ago.

بعض دوست پوچھ رہے ہیں کہ ’’سنتھیارچی‘‘ نے پیپلزپارٹی کے بعض رہنمائوں پر جو شرمناک الزامات عائد کئے‘ میں نے ابھی تک اس حوالے سے کالم کیوں نہیں لکھا؟ اس خاکسار نے انہیں جواب دیا کہ ’’گند‘‘ میں پتھر پھینکنے سے بدبو بھی بڑھتی ہے اور چھینٹے بھی اڑتے ہیں۔ کیونکہ الزام لگانے والی اور جن پر الزام لگایا گیا ان سب کا شمار ’’غلامان امریکہ‘‘ میں ہوتا ہے‘ اس لئے اس موضوع پر مٹی ڈال کر‘ پی ٹی ایم کے موضوع کی جانب بڑھتے ہیں...ملحدانہ قوم پرستی بھی بدترین عذاب ہی کی  ایک شکل ہے‘ شائد اسی لئے حضرت محمد کریمﷺ نے قوم پرستی  کے نعرے کو بدبودار نعرہ قرار دیا تھا ... یہ بات مجھے اس لئے یاد آئی کہ سوشل میڈیا پر ایک پی ٹی ایم ایکٹوسٹ نے ایک ایسی جاہلانہ اور شیطنیت بھری پوسٹ شیئر کی... کہ جس کے الفاظ  کے ’’کفر‘‘ کا  یہ کالم متحمل نہیں ہوسکتا‘ اگر منظور پشتین  میں واقعی ’’سنجیدگی‘‘ کا عنصر موجود ہے تو میری ان سے اپیل ہے کہ وہ اگر پی ٹی ایم کے کارکنوں کے دل و دماغ سے ملحدانہ شدت پسندی نکال نہیں سکتے تو کم از کم اس میں کمی لانے کی کوشش ضرور کریں... ورنہ سوشل میڈیا پر موجود اگر پی ٹی ایم کا کوئی کارکن منظور پشتین کی حمایت میں نعوذ باللہ‘ نعوذ باللہ‘ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی گستاخی کرنے کی کوشش کرے گا تو مجھے یقین ہے کہ  وہ بدمعاش‘ غیرت مند پختونوں کے عتاب کا ہی نشانہ بنے گا۔  

دینی مدارس اور عصری اداروں کا مقدمہ

دینی مدارس اور عصری اداروں کا مقدمہ

a month ago.

علماء کرام کا مطالبہ ہے کہ مدارس کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی جائے‘ گزشتہ روز اس حوالے سے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے وفد نے شیخ الحدیث قاری محمد حنیف جالندھری کی قیادت میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے لاہور میں ملاقات کی۔ خبروں کے مطابق مدارس کی تنظیمات کے وفد کی جانب سے مدارس کھولنے پر اصرار کیا گیا۔ تاہم وفاقی وزیر تعلیم نے مدارس کھولنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ غالباً مولانا محمد حنیف جالندھری نے وفاقی وزیر تعلیم سے سوال کیا کہ اگر باقی سرگرمیاں شروع کی جاسکتی ہیں تو دینی مدارس کیوں نہیں کھولے جاسکتے؟ مدارس کو طے شدہ ایس او پیز کے مطابق کھولنے کی اجازت دی جائے‘ وفاقی وزیر تعلیم نے موقف اختیار کیا کہ مدارس کھولنے کی اجازت دی تو سکولز اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی کھولنا پڑیں گے۔ اس وقت کورونا کی صورتحال بگڑ رہی ہے... مدارس کھولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ خبر قوم کے لئے بڑی پرمسرت ہے کہ دینی مدارس کے اکابرین قوم کے 30لاکھ دینی طلباء و طالبات کی تعلیم کے معاملے پر نہ صرف یہ کہ متفکر ہیں بلکہ انہوں نے اس حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات بھی کرکے انہوں نے دینی مدارس کو کھلوانے کی کوشش بھی کر ڈالی ہے۔