سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ ، اقراء کے قتل کا نوٹس لیں

  سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ ، اقراء کے قتل کا نوٹس لیں

8 days ago.

آزاد جموں و کشمیر میں جنگ بندی لائن کے پار سے بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔بھارت شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ روز ضلع پونچھ کے بٹل سیکٹر میں کمسن بچی شہید اور اس کی بڑی بہن، بھائی،نانا اور ایک شہری زخمی ہوگیا۔یہ گولہ باری تائی گائوں پر کی گئی۔بھارت کی جانب سے اتوار کے روز لگاتار دوسرے دن بھی گولہ باری جاری رہی۔زخمیوں کی شناخت 26 سالہ نعیم اختر، 24 سالہ ظہین اختر اور 16 سالہ محمد ارباز کے نام سے ہوئی۔زخمیوں میں سے اقراء کی حالت تشویشناک ہونے کے سبب انہیں راولپنڈی کے سی ایم ایچ بھیج دیا گیا مگر وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاکر شہید ہو گئیں۔ہفتے کے روز بھارتی گولہ باری کی وجہ سے اسی سیکٹر میں دو عام شہری زخمی ہوئے تھے۔ان کی شناخت تائی گاؤں کے 45 سالہ محمد لطیف اور ناتر گاؤں کے 55 سالہ نثار شاہ کے نام سے ہوئی تھی۔علاوہ ازیں ہفتہ  کے روز بھارت کی گولہ باری سے بھمبر ضلع کے علاقے بندالا میں 27 سالہ امبرین کوثر زخمی ہوگئی تھیں۔

پاک بھارت مذاکرات

پاک بھارت مذاکرات

12 days ago.

جب بھی پاک بھارت وزرائے خارجہ یا وزرائے اعظم کسی عالمی یا علاقائی پلیٹ فارم پر ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں تو پاک بھارت سیاست  میں دلچسپی رکھنے والے ان کے درمیان کسی ملاقات یا بات چیت یا ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے بارے میں چہ میگوئیاں کرنے لگتے ہیں۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے جمعرات کو منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے 2 روزہ سرکاری دورے پر ماسکومیں ہیں۔بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر منگل سے ماسکو میں موجود ہیں۔پاکستان اور بھارت 2017ء میں اس فورم کے رکن بنے ہیں۔8ممالک کے اس فورم میں روس اور چین سمیت وسط ایشیا کے چار ممالک تاجکستان،قزاقستان،کرغزستان اور ازبکستان بھی شامل ہیں۔وزرائے خارجہ ایس سی او کے سربراہ اجلاس کی تیاریوں اور ایجنڈہ کو حتمی شکل دیتے ہیں۔ یہ سربراہ اجلاس رواں سال 30نومبر کو بھارت میں ہو رہا ہے تاہم بھارت میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے اس اجلاس کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کیوں کہ ممبر ممالک دہلی کے مجوزہ اجلاس پر خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔روس میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان، وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری ظہور احمداور وزارت خارجہ کے دیگر حکام انہیں ایس سی او سے متعلق بریف کر رہے ہیں۔

گپکار ڈیکلریشن اورشاہ محمود قریشی

گپکار ڈیکلریشن اورشاہ محمود قریشی

19 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) گپکار میں دفعہ 370اور 35اے کے تحفظ کا عہد کیا گیا۔ جن سیاسی جماعتوں نے اس اجلاس میں حصہ لیا،وہ اس سے کہیں زیادہ چاہتی اور مانگتی تھیںاور اسے چھوڑ کر دفعہ 370پر آنا ہی ان کا اعلان شکست ہے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کے بعد بھی 1947ء کی پوزیشن کا موقف رکھتی تھی۔وہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان سارے قدرتی راستے کھولنے کی بھی بات کرتی تھی۔ آزاد تجارت کی وکالت بھی کرتی تھی اور ایک مشترکہ پارلیمنٹ کا بھی خیال پیش کرتی تھی جبکہ نیشنل کانفرنس 1953ء سے پہلے کی پوزیشن کا مطالبہ کرتی تھی۔اسے وہ دفعہ 370منظور نہیں تھا جسے کانگریس نے اندر ہی اندر کھوکھلا کردیا تھا۔پیپلز کانفرنس کا موقف ’’قابل حصول قومیت‘‘(achievable nationhood)کی بنیاد پر کھڑا تھا۔ان کلیدی جماعتوں نے گپکار ڈکلریشن پر آکر اپنے موقفوں کو لپیٹ لیا۔نیشنل کانفرنس 53ء سے 4اگست2019ء پر آگئی۔ پی ڈی پی بھی 4اگست پر ہی پہنچ گئی اور پیپلز کانفرنس بھی۔شاہ محمود قریشی بھی۔کشمیر ی گپکار ڈیکلریشن کو غیر اہم قرار دیتے ہیں کیونکہ بھارت نواز اپنی ساکھ بحال کرنے کی دوبارہ کوشش کرنے لگے ہیں۔بھارتی  وزیراعظم مودی نے کہہ دیا ہے کہ یونین ٹریٹری بنانے کا فیصلہ وقت آنے پر واپس لیا جائے گا جس کا ذکر  15 اگست کی تقریر میں دہرایا گیا۔بھارت نواز کشمیری پہلے آزادی کا مطالبہ کرتے تھے، پھر اندرونی خود مختاری، پھر سیلف رول اور اب ریاست کی بحالی۔ فاروق عبداللہ اور دوسرے لیڈربھارتی دھارے سے نکل کر حریت کا موقف اختیارنہیں کر رہے اور نہ ہی بھارت کے خلاف متحد ہوکر مزاحمتی مہم شروع کریں گے۔بلکہ ان لیڈروں نے اس بات کی مسلسل تصدیق کر دی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ سمجھ کر انتخابی عمل پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ بھارتی حکومت انتخابات کرانے کا اشارہ دے چکی ہے۔

گپکار ڈیکلریشن اورشاہ محمود قریشی

گپکار ڈیکلریشن اورشاہ محمود قریشی

21 days ago.

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے کشمیر پر ایک حالیہ بیان پر بعض حلقوں میں زوردار بحث چھڑ گئی  ہے  کہ کیاقریشی صاحب کو کشمیر تنازعے کا تاریخی علم نہیں یا پھر پاکستان کی پالیسی تبدیل ہوگئی ہے ۔سوالات وزیر خارجہ کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں گپکار ڈیکلریشن کی حمایت کے بیان کے بعد پوچھے جا رہے ہیں۔ گپکار ، سرینگر میں جھیل ڈل کے قریب دریائے جہلم کے کنارے پر ایک اہم علاقہ ہے جو حضرت سلیمان ؑ کے نام سے موسوم پہاڑ،سلیمان ٹینگ جسے تخت سلیمان بھی کہا جاتا ہے،کے عقب میں واقع ہے۔ کہتے ہیں کہ یہاں حضرت سلیمان ؑ کا تخت تھا۔ بیت المقدس کی طرز پر تعمیر کردہ اس تخت سے تاریخ کے کئی راز جڑے ہیں۔  ڈوگرہ حکمرانوں نے تخت سلیمان کا نام تبدیل کر کے اسے ہندو مندر ’’شنکر آچاریہ‘‘کا نام دے دیا۔گپکار میں شیخ محمد عبد اللہ کی فیملی کی رہائش گاہ ہے۔ سونہ وار کے اس علاقہ میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا گرمائی ہیڈ کوارٹرز بھی ہے۔ جو اسی گپکار روڈ پر ہے۔

نشان پاکستان،سید علی شاہ گیلانی کی خدمات وقربانیوں کیلئے اعزاز

نشان پاکستان،سید علی شاہ گیلانی کی خدمات وقربانیوں کیلئے اعزاز

23 days ago.

 (گزشتہ سے پیوستہ)  سید علی شاہ گیلانی کو پاکستان نے ان حالات میں ملک کے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازا جو کہ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا منفرد انداز ہے۔یہ ایوارڈ ایسے موقع پر دیا گیا جب سید علی شاہ گیلانی کے 29جون کو حریت کانفرنس(گیلانی) سے 17 سال بعد مستعفی ہونے کے اچانک اور غیر متوقع اعلان پر دنیا بھر میں کشمیر سے دلچسپی رکھنے والوں میں بحث و مباحثے اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں پر حاوی قومی سوچ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات وسانحات، بے مثال قربانیاں، بے پناہ تباہیاں اور ان کے نتائج سید علی گیلانی کی ذات سے منسوب ہیں۔ انہوں نے آدھی صدی پر چھائے ہوئے قومی ہیرو شیخ محمد عبداللہ، جنھوں نے فیلڈ مارشل ایوب  خان کے دور میں جواہر لال نہرو کے نمائندہ کے طور پر لیاقت باغ راولپنڈی میں وزیر مہمانداری ذوالفقار علی بھٹو شہید کی موجودگی میں لاکھوں کے مجمع سے خطاب کیا اور جو کبھی کشمیریوں کے لئے’’ شیر کشمیر‘‘ بھی تھے اور’’ ایشیاء کا بلند ستارہ ‘‘بھی،مگر گیلانی صاحب نے ان کی عوامی مقبولیت، محبت، عقیدت اور عظمت، اس کے سیکولر نظر یات، اعتدال پسند مذہبی خیالات،ترقی پسند سیاسی عقائد اور پرامن سیاسی حکمت عملی سمیت دلوں سے کھرچ کر نظام مصطفیٰ ؐکا نفاذ، کفر و ایمان کے عقائد، الحاق پاکستان کی سیاست اور بندوق کی حکمت عملی دلوں اور ذہنو ں پر قائم کرکے آزادی کا سنہرا خواب قوم کی آنکھوں میں سجایا اور رہبر انقلاب کا لقب حاصل کرلیا۔انہوں نے سارا ماضی لپیٹ کر اپنی نئی سوچ کا جھنڈا بلند کردیا۔انہوں نے جو کہا، اس پر آمناً و صدقناً کہا گیا اور انہوں نے جو بھی چاہا وہی ہوا۔گو کہ ان کے سیاسی عروج کے پیچھے کئی دوسرے عوامل کا بھی عمل دخل تھا ،لیکن انہیں شہرت، مقبولیت اور محبت کے اعلیٰ مقام تک پہنچانے والی ان کی جو ادا تھی،وہ یہ تھی کہ وہ سیاست کے اسرار و رموز کی گہرائیوں میں اترنا نہیں جانتے تھے۔وہ نتائج و عواقب کی پرواہ کئے بغیر بھارت کو للکارتے تھے۔ اُسے غاصب قرار دیکر کشمیر چھوڑنے کا مشورہ دیتے تھے۔اس کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو پائے حقارت سے ٹھکراتے تھے۔ اس کے صف اول کے قائدین کے لئے اپنا دروازہ بند کردیتے تھے۔اس جرات رندانہ نے ان کا سیاسی قد شیخ محمد عبداللہ سے کافی بلند کردیا جو اس سے پہلے جرات، ہمت اور عزم کی علامت تھے۔

نشان پاکستان،سید علی شاہ گیلانی کی خدمات وقربانیوں کیلئے اعزاز

نشان پاکستان،سید علی شاہ گیلانی کی خدمات وقربانیوں کیلئے اعزاز

26 days ago.

پاکستان نے تحریک آزادی کے تئیں اپنی عقیدت اور عزم کے اظہارکے طور پر 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پربزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کو ملک کے سب سے بڑے اور معتبر سول ایوارڈ نشان پاکستان سے نوازا۔سید علی گیلانی پہلے اور واحد کشمیری ہیں جنہیں ملک کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا گیا۔ جو کہ بھارت کے جبری اور غاصبانہ قبضے کے خلاف بر سرپیکار کشمیریوں کے لئے باعث اعزاز ہے اور پاکستان کے اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ وہ کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور ان کی حق خو ارادیت کی جدوجہد کی کامیابی تک  اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس سے پہلے نشان پاکستان نیلسن منڈیلا، ملکہ الزبتھ دوم، شاہ عبد اللہ، مہاتیر محمد، عبد اللہ گل، حماد بن خلیفہ الثانی، فیڈرل کاسترو، رجب طیب ایردوان، لی پینگ اور مرارجی ڈیسائی سمیت دنیا کے دو درجن کے قریب سربراہان حکومت و مملکت کو دیا گیا ہے۔ سید گیلانی کی جانب سے ایوان صدر میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے یہ ایوارڈ وصول کیا۔جناب گیلانی 29 ستمبر 1929 ء کو شمالی کشمیر کے ایپل ٹائون سوپورمیں پیدا ہوئے ۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے ایک سخت گیر وکیل بن کر وہ مقبوضہ ریاست میں بھارتی ظلم اور ناانصافی کے خلاف سینہ تان کر کھڑے رہے۔1993 میں کشمیر میں آزادی پسند مختلف گروپوں کی ایک چھتری تنظیم حریت کانفرنس قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 2003 میں گیلانی صاحب نے حریت کانفرنس کو خیرآباد کہہ کر پاکستان نواز آزادی پسندجماعتوں پر مشتمل اتحاد حریت کانفرنس (گیلانی)کے نام سے قائم کیا۔انہیں اس گروپ کا تاحیات چیئرمین منتخب کیا گیا، جس میں 24 تحریک پسند جماعتیں شامل ہیں۔

یو این سلامتی کونسل میں کشمیر پر بحث

یو این سلامتی کونسل میں کشمیر پر بحث

2 months ago.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے بدھ کے روز مسئلہ کشمیرپر بند کمرے میں ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کیا۔’’کوئی بھی دیگر بزنس‘‘ کے تحت منعقدہ یہ اجلاس پاکستان کی درخواست اور چین کی حمایت سے اپنی نوعیت کا تیسرا اجلاس تھا، جو 5اگست2019کے بعد سے منعقد ہوا ، جب بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور نیم خود مختاری ختم کر دی اور  اسے اپنے دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کر دیا۔یوں لداخ کو کشمیر سے کاٹ دیا گیا۔بھارت پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ کشمیر اس کا اپنا معاملہ ہے اور کبھی یہ کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسئلہ ہے جسے دونوں ممالک بات چیت سے حل کریں گے۔بھارت ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بند کر دیتا ہے۔ اجلاس کے بعد پاکستان کے یو این مشن نے  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان تقسیم کیا جس میں دنیا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی اخلاقی،قانونی اور سیاسی اتھارٹی کو بروئے کار لاتے ہوئے بھارت پر دبائو ڈالے تاکہ وہ کشمیر سے متعلق اپنے 31جولائی 2019کے بعد کئے گئے یک طرفہ فیصلے واپس لے۔ بھارت انسانی حقوق کی پامالی بند کرے، سیز فائر کی خلاف ورزیاں نہ کرے، مواصلاتی ، نقل و حمل اور پر امن احتجاج پر پابندیاں ختم کرے ، کشمیری قائدین کو فوری رہا کرے۔ 

بھارت کی آئینی جارحیت کا ایک سال

بھارت کی آئینی جارحیت کا ایک سال

2 months ago.

 (گزشتہ سے پیوستہ) کشمیری حریت پسند محمد افضل گورو کو اسی فیصلے کی روشنی میں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی آئینی پوزیشن کو کھوکھلا کر نے کی بد نیتی سے بھارت نے اس میں اتنی ترامیم کی ہیںکہ آئین ہند کا آرٹیکل 370 ایک مذاق بن کر رہ گیاتھا۔ سب سے پہلے غلام محمد صادق حکومت میں مقبوضہ کشمیر سے وزیر اعظم اور صدر ریاست کے عہدے چھین لئے گئے،اس سے پہلے مقبوضہ ریاست میں وزیراعلیٰ کے بجائے وزیراعظم اور گورنر کی جگہ صدر کے عہدے تھے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے آئین کو بے بال وپر بنانے کے لئے کم و پیش 350 بھارتی ایکٹ ریاست پر لاگو کئے گئے۔ اس آرٹیکل کو 14 مئی 1954ء کوبھارت کے  ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے دفعہ 370 کی بنیاد پر آئین ہند میں شامل کیا گیا۔ 35A کے تحت جموں کشمیر کی ریاست کے پشتینی باشندوں کو خصوصی مراعات اور حقوق فراہم کرنے کا آئینی و قانونی سہارا دیا۔ آئین ہند کے آرٹیکل   35A  کی وجہ سے کوئی بھی غیر ریاستی غیر کشمیری باشندہ ریاست جموں و کشمیر میں جائیداد خرید نہیں سکتا تھا، ریاستی حکومت کے تحت چلنے والے پروفیشنل کا لجوں میں داخلہ نہیں حاصل کر سکتاتھا، غیر ریاستی فرد سکالر شپ حاصل کرنے کا حق دار نہیں تھا، سرکاری ملازمت نہیں کرسکتاتھا،مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی اور پنچایتی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتاتھا۔اگر کوئی ریاستی خاتون کسی غیر ریاستی شہری سے شادی رچائے تو وہ پشتینی باشندہ حقوق سے محروم ہو جاتی تھی۔اسی بنا پر بھارتی سپریم کورٹ میں ایک ایسی ہی کشمیری خاتون نے اس قانون کو چیلنج کیا جس کی شادی غیر ریاستی سے ہوئی۔

بھارت کی آئینی جارحیت کا ایک سال

بھارت کی آئینی جارحیت کا ایک سال

2 months ago.

 بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر میں رائے شماری کرانے کے مطالبات نظر انداز کرنے اور کشمیریوں کے حقوق پر آئینی شب خون مارنے کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔اب ہزاروں کی تعداد میں بھارتی شہری جن میں اکثریت انتہا پسند فورسز کی ہے، مقبوضہ ریاست میں زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ بھارتی شہریوں کو سرمایہ کاری کی آڑ میں اراضی دی جا رہی ہے۔ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل اسناد دی جا رہی ہیں۔آزادی پسندوں ہی نہیں بلکہ بھارت نواز کشمیریوں پر سخت اور جبری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ایک سال قبل 5گست2019ء کو بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیںمسترد کر دیااور ٹرمپ کے ایک شاطرانہ ٹریپ کے طور پر امریکی ثالثی کی مسلسل کئی  پیشکشوں کے بعد بالآخر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر دی۔ مقبوضہ ریاست کی بھارت کے ساتھ نام نہاد اور مشروط الحاق کی آرٹیکل 370اور 35اے جیسی بنیاد مٹا دی۔ مقبوضہ ریاست کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو اپنی مرکزی حکومت کے زیر انتظام فاٹا جیسے علاقے بنا دیا۔کشمیر کو کالونی کا درجہ دینے کا یہ فارمولہ گو کہ بی جے پی کے الیکشن منشور میں درج تھا مگراس پر عمل در آمد وزیراعظم عمران خان کی صدر ٹرمپ سے کامیاب قرار دی گئی دوستانہ ملاقات کے بعد ہنگامی طور پر کیا گیا۔ 

عمران خان کا شیخ حسینہ کو ٹیلیفون

عمران خان کا شیخ حسینہ کو ٹیلیفون

2 months ago.

وزیراعظم عمران خان کی بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ٹیلیفون کال نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہلچل سی مچا دی ہے۔یہ کال دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی کی خاموشی سے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔بدھ کے روز دوپہر ایک بجے جولائی کی شدید گرمی میں دونوں وزرائے اعظم کے مابین کم از کم پندرہ منٹ کی ٹیلی گفتگو سے کیا برسوں کی جمی برف پگل جائے گی؟ اس بارے میں ہر کوئی  دلچسپ تبصرے کر رہا ہے۔ تا ہم پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارت کاری کا یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے کیونکہ دونوں ممالک آپسی تعلقات تعطل کے شکار ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہاگیا کہ عمران خان نے اپنی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان باہمی اعتماد، باہمی احترام، خود مختاری اورمساوات کی بنیاد پر بنگلہ دیش کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو گہرا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔وزیر اعظم نے شیخ حسینہ کو دورہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کورونا وائرس کے دوران جاں بحق افراد کے لئے تعزیت کا اظہار کیا،بنگلہ دیش میں حالیہ سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا اور اس قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔دونوں رہنماؤں نے کوویڈ 19 کے ذریعہ درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپنے اپنے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ عمران خان نے شیخ حسینہ کو اپنی حکومت کی کاوشوں سے آگاہ کیا اور وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کے بارے میں اپنی بنگلہ دیشی ہم منصب کی تعریف کی۔انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لئے اپنے 'قرض سے متعلق امداد پر عالمی اقدام' سے بھی آگاہ کیا۔عمران خان نے بنگلہ دیش کے ساتھ قریبی تعلقات کی پاکستان کی اہمیت سمیت دوطرفہ رابطوں اور عوام سے عوام کے تبادلے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔سارک کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیراعظم نے پائیدار امن اور خوشحالی کے لئے علاقائی تعاون کو بڑھانے کے لئے کام کرنے والے دونوں ممالک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہندوستان کے مقبوضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورتحال کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر کابیان کیا اور محفوظ اور خوشحال خطے کے لئے جموں و کشمیر تنازعہ کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔

عوام کے بعد زمین اور ثقافت پر حملے

عوام کے بعد زمین اور ثقافت پر حملے

2 months ago.

 مقبوضہ کشمیر میں بندوبستی رقبہ جات سمیت سرکاری ، شاملات، خلاصہ سرکار،شاملات دیہہ  اور گھاس چرائی اراضی بھارتی فورسز  اور غیر کشمیریوں کو تیزی سے منتقل کی جارہی ہے اور اس طرح مقبوضہ خطے کو فوجی چھائونی میں تبدیل کیاجارہاہے -مقبوضہ ریاست میں گورنر حکومت نے حال ہی میں سٹریٹجک علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوںکو باقاعدہ بنانے کے لئے خصوصی اختیارات کی منظوری دی ہے جو کہ فوجی عملے کے کام کاج اور تربیتی ضروریات کے لئے لازمی قرار دی گئی ہے۔ کنٹونمنٹ علاقوں میں فوج کی تحویل میں زمین پر فوج کا حق لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ فوجی دستوں کے لئے اراضی کی ضرورت میں باقاعدگی نہ لانا گورنرحکومت کی واضح پالیسی ہے۔ دفاعی عملے نے دہلی حکومت کی نوٹس میںجو مسائل لائے ہیں ، اُنہیں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی آر میں حل کیا جا رہا ہے۔ کئی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے تمام اختیارات فوجی عملے کو تفویض کئے گئے ہیں۔ چھائونیوں کے گردونواح والے علاقوں کو سٹریٹجک علاقے قرار دینے کے لئے کوئی ٹھوس وجوہات بیان نہیں کئے گئے۔ ایسے علاقوں کو تیزی سے  نوٹیفائی کیا جا رہا ہے۔یہ واضح ہے کہ یہ خصوصی رعایت فوجی دستوں کو  مقبوضہ جموںو کشمیر میں مزید اراضی کے حصول کے اختیار دیتی ہے۔فوج کو بے لگا م اختیارات تفویض کئے جارہے ہیں اور انہیں ماسٹر پلان کے قواعد و ضوابط اور ماحولیاتی تحفظات پر عمل پیرا رہنے سے مستثنیٰ قرار دیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی

2 months ago.

ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جس جیل میں قید ہیں،وہاں ایک خاتون قیدی کورونا وبا سے دم توڑ بیٹھی جب کہ دیگر 131قیدی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ڈاکٹر عافیہ کی حفاظت کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے۔ پاکستانی ڈاکٹر کی رہائی کے لئے عمران خان حکومت سرگرم دکھائی دے رہی تھی۔انہوں نے 2018کے عام انتخابات میں جس میں وہ کامیاب ہوئے، ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا معاملہ انتخابی منشور کا حصہ بنایا۔ وزیراعظم نے یہ ایشو امریکی حکام کے ساتھ بھی اٹھایا۔ مگر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی امریکہ کو حوالے کرنے کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا معاملہ بھی سرد خانے کی نذر ہوا۔ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت عدالت کا دو رکنی بینچ کر رہا تھامگر حکومت نے عدالت کی معاونت کے بجائے حیلے بہانوں سے کام لیا۔اپریل 2019کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹرعافیہ پاکستان واپس نہیں آنا چاہتی، اس لئے حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔

 طالبان کو روسی اسلحہ کی فراہمی کا تنازعہ

 طالبان کو روسی اسلحہ کی فراہمی کا تنازعہ

2 months ago.

 طالبان پر روس سے اسلحہ لے کر امریکیوں پر حملے کرنے  اور ان حملوں کے بدلے روس سے انعامات وصول کرنے کے الزامات دوران اشرف غنی مذاکرات کی آڑ میں نیا جال ڈال رہے ہیں۔یہ الزامات نہیں بلکہ طاقتور امریکی ادارے سی آئی اے کی صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی رپورٹیں ہیں۔ جن کی بنیاد پر امریکی افواج کے چیئرمین آف دی جائنٹ چیفسز آف سٹاف جنرل مارک مائیلی کہتے ہیں کہ امریکہ کو یقین ہے کہ ماضی میں روس نے افغانستان میں طالبان کی مدد کی تھی، مگر کیا وہ اب بھی ایسا کر رہا ہے اور کیا اُس نے امریکیوں پر حملے کروائے یا اس نے امریکی افواج کے اہلکاروں پر قاتلانہ حملوں کیلئے طالبان کو انعامی رقوم ادا کیں، اس بارے میں کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں۔تا ہم اپنے یقین کے زرائع کو بے نقاب کئے بغیر وہ کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنے حلفیہ بیان میں بتارہے ہیں کہ رقوم دینے کے حوالے سے ان کے پاس کوئی انٹیلی جنس معلومات نہیں ہیں۔