مودی حکومت کے ہندو راشٹر یہ کے لئے  مسلم کش اہداف

مودی حکومت کے ہندو راشٹر یہ کے لئے  مسلم کش اہداف

5 days ago.

بھارت میں نریندر مودی کے دوسرے دور اقتدار میں تیزی سے مسلم کش قوانین پر عملدر آمد ہو رہا ہے۔ دفعہ 370اور 35اے کے خاتمہ، تین طلاق ایشو اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے مضمرات کیا ہوں گے، اب مودی حکومت کا اگلا قدم کیا ہو گا، اس پر بحث جاری ہے۔ کیا مودی حکومت کا مقصد اس خطے میں کنفیڈریشن کا قیام اور ہندو راشٹریہ کا خواب پورا کرنے کے لئے بدنیتی پر مبنی ہے۔کیامسلمانوں سے صدیوں کا انتقام لیا جا رہاہے، یا یکساں سول کوڈ کے نام پر مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی  ہے۔مودی گجرات ماڈل ہی پورے بھارت میں عملاً رہے ہیں۔ روکنے، ٹوکنے والا کوئی نہیں۔متشدد اور انتہا پسندی پر مبنی مودی نظریات کو ہندو نظریات میں بدل دیا گیا ہے۔یہی نئی دہلی کی سٹیٹ پالیسی ہے۔ اس کی لپیٹ میں عیسائی، سکھ ،پارسی،کمیونسٹ، شودر، بدھسٹ، جین مت کے پیروکار سبھی آ رہے ہیں۔ مگر پہلی وار مسلمانوں پر کی گئی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ریاستی دہشتگردی جاری ہے مگر دیگر اس کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے تماشا دیکھ رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہوں یا روسی اور چینی صدور، سبھی شاید  یہ نہیں سمجھ سکے کہ مودی کی دہشتگردی سے بھارت میں عیسائیت اور کمیونزم کو بھی شدید خطرہ ہے۔ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مودی ڈاکٹرائن میں صرف ہندو راشٹریہ کا قیام ہے۔ وہ ایک ایک کر کے غیر ہندوئوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ شاید یہ کہیں احساس بھی ہو کہ اس پالیسی سے دنیا بھر میں مودی خود ہی ہندو قوم کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ 

سید علی شاہ گیلانی کا مکتوب

سید علی شاہ گیلانی کا مکتوب

7 days ago.

مقبوضہ کشمیرمیںبھارتی کریک ڈائون، کشمیریوں کی قید، مواصلاتی پابندیوں کے 100دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر سید علی گیلانی نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے نام  ایک اہم خط ارسال کیا ہے۔  اس مفصل مکتوب میں کشمیریوں کے بزرگ قائد نے حکومت پاکستان سے متعلق اہم گفتگو کی ہے۔ جس میں آل پارٹیز پارلیمانی اجلاس طلب کر کے حکومتی سطح پر بعض اقدامات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سید گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ایسے لیڈر ہیںجو اپنے موقف پر چٹان کے طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ بھارت کا ظلم و جبر، قید و بند پابندیاں ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ انہوں نے اپنی آواز کبھی بھی دبنے نہ دی۔ بھارت کے ہاں میں کبھی ہاں نہ ملائی۔ جب جنرل پرویز مشرف نے ان پر اپنا چار نکاتی فارمولہ قبول کرنے کے لئے دبائو ڈالا تو انہوں نے بڑھ چڑھ کر اسے مسترد کر دیا۔ کیوں کہ یہ فارمولہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کر رہا تھا۔ کشمیریوں کی جدوجہد کا سارا دارومدار ان ہی قراردادوں پر ہے۔ یہی کشمیریوں کی جدوجہد کی بنیاد ہیں۔   

 چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا

چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا

15 days ago.

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جبری پابندیوں، لاک ڈائون اور بدترین مظالم کے 94ویں روز آج چناب، پیر پنچال اور جموں خطوں کے ان شہداء کو خراج عقیدت آج پیش کیا جا رہا ہے جنھیں 1947میں آج ہی کے دن شروع ہونے والے قتل عام کے دوران تہہ تیغ کیا گیا۔آج مقبوضہ ریاست  میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ، ریاستی دہشت گردی کے دوران قربانیوں کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ کشمیری دنیا کی ایک نڈر ،بہادر اور باوقار قوم کے طور پر منظر عام پر آئے ہیں۔جو بھارت کی طاقت کے سامنے سرینڈر کرنے کو ہر گز تیار نہیں۔ قربانیوں کا تسلسل ہے۔ ایسے میںشہدائے جموں کی یاد نومبر کی آمد کے ساتھ ہی تڑپا کر رکھ رہی ہے۔ زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔کئی حریت پسندشخصیات ان واقعات کی چشم دید گواہ ہیں۔ان کی آنکھوں میںخون کے آنسو  بہتے دیکھے ہیں ۔ آزادکشمیر لبریشن سیل کے سابق سیکریٹری عبدالرشید ملک مرحوم کے سامنے ان کی اہلیہ اور دیگر عزیز و اقارب کوشہید کیا گیا ۔ راولپنڈی پریس کلب کے سابق سیکرٹری اور صحافی قیوم قریشی مرحوم کے خاندان کے کئی افراداورلبریشن فرنٹ کے سابق چیئر مین ڈاکٹر فاروق حیدر مرحوم کے بھائی بھی شہدائے جموں میں شامل ہیں۔چند افراد آج بھی زندہ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیاروں کے گلے کاٹے گئے۔

کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 72سال

کشمیر پر بھارتی جبری قبضے اور جارحیت کے 72سال

23 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) اس پالیسی نے بھی دستاویز الحاق کی نفی کردی کہ اگر عوام نے الحاقِ پاکستان کا فیصلہ کیا یا خودمختاری جاری رکھنے کے حق میں رائے دی تو پھر دستاویز الحاق کی اہمیت بھی ردّی کے کاغذ جیسی ہی ہوگی۔یہ پالیسی جس طرح 28اکتوبر1947ء کو قابل قبول تھی آج2019ء کو بھی اس پر عمل درآمد ہو تو کشمیریوں کو قبول ہوگی۔یہ رائے شماری کانگریس کی حکومت کے انتظام میں صوبہ سرحد میں کی گئی جبکہ غیر مسلم اکثریتی صوبے آسام کے مسلم اکثریتی ضلع سلہٹ میں بھی رائے شماری کرالی گئی تھی۔یہی نہیں بلکہ جب کشمیر کے بالکل برعکس جونا گڑھ کی ہندو اکثریت کے مسلمان حکمران نواب نے 15؍اگست1947ء کو الحاق پاکستان کیا تو بھارت نے اس کی مخالفت کی تو جواہر لعل نہرو نے 30ستمبر1947ء کو کہا کہ ’’ہم اس مسئلے کا حل عوام کے ریفرنڈم یا رائے شماری سے چاہتے ہیں، ہم اس ریفرنڈم کے نتائج کو قبول کرلیں گے۔ پاکستان جونا گڑھ مسئلہ غیر جانبدارانہ ریفرنڈم سے حل کرے۔‘‘ اسی طرح جونا گڑھ میں فروری 1948ء کو ریفرنڈم ہوا۔ ووٹ بھارت کے الحاق کو ملا۔ کشمیر میں بھارتی پالیسی کے تحت ریفرنڈم نہیں کرایا گیا۔  

حکومت آزاد کشمیر کا مشن اور وژن

حکومت آزاد کشمیر کا مشن اور وژن

27 days ago.

سیز فائر لائن کے آر پار بھارتی جارحیت اور نہتے شہریوں کے قتل عام کے دوران آزادکشمیر اور اقوام متحدہ کایوم تاسیس منایا گیا۔مقبوضہ کشمیر کی تقریباً ایک کروڑ آبادی 81 روز سے گھروں میں قید ہے۔ بھارت نے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لئے کشمیریوں کا رابطہ دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے۔1947ءمیں کشمیریوںنے ڈوگرہ شاہی سے بغاوت کے بعدآزاد کرائے گئے 13ہزار 297مربع کلومیٹر علاقے پرپہلی انقلابی حکومت قائم کی۔عبوری حکومت نے اپنے پہلے اعلانیہ میں کہا کہ یہ حکومت اس امر کا انتظام کرے گی کہ یہاں غیر جانبدار مبصرین آئیں جن کی نگرانی میں پورے جموں و کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے۔آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان کو مقبوضہ ریاست کو آزاد کرانے کے ایک بیس کیمپ کا کام کرنا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہاں کے حکمرانوں کی ترجیحات بدل گئیں۔وہ فروعی اور برادری ازم کے نام پر پورے مکان کے بجائے ایک کمرے کی حق ملکیت پر لڑرہے ہیں۔آج200سے زیادہ یونین کونسلوں اور تقریباً 1700دیہات پر مشتمل آزاد ریاست میں اقتدار اور مراعات کی جنگ جاری ہے۔   

آزادی مارچ کی منزل اسلام آباد‘ کشمیریوں کی سرینگر!

آزادی مارچ کی منزل اسلام آباد‘ کشمیریوں کی سرینگر!

a month ago.

جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اعلان کے مطابق وہ 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا آغاز کریں گے ، یہ مارچ 31اکتوبر کو اسلام آباد سے ٹکرائے گا۔ مولانا کے مطابق اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا مقصد عمران خان حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔ انہوں نے اس مارچ کو 27اکتوبر کے دن شروع کرنے کا مقصد جو بیان کیا ، اس میں کشمیر کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہاں 27اکتوبر کا کشمیر کی تاریخ میں اہم کردار ہے۔ آج سے سات دہائیاں قبل اسی دن بھارت نے کشمیر میں اپنی قابض فوجیں داخل کر کے ریاست کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ مقبوضہ جمو ںو کشمیر پر بھارت کے جبری قبضہ اور جارحیت کے 72سال مکمل ہونے پر بھارت نے مقبوضہ ریاست کے حصے بخرے کر دیئے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کے بجائے ریاست کو ڈی گریڈ کر دیا۔ ریاست کے ٹکڑے کرنے کے بعد انہیں اپنی غلام کالونیاں بناتے ہوئے اپنے مرکزی علاقوں کا درجہ دے دیا۔ 5اگست 2019ء کو یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ اس دن بھارت نے مقبوضہ ریاست پر از سرنو حملہ کیا،لشکر کشی کی اور مزید فوج داخل کرتے ہوئے کشمیری عوام کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کھلی جنگ شروع کر دی۔ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو گھروں میں قید کر کے ان کا محاصرہ کر دیا۔کرفیو اور پابندیاں سخت کیں اور کشمیر کو دنیا کے لئے انفارمیشن بلیک ہول بنا دیا۔

جنگ بندی لکیر توڑنے کے لئے فریڈم مارچ

جنگ بندی لکیر توڑنے کے لئے فریڈم مارچ

a month ago.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد47کے تحت کشمیری جنگ بندی لکیر کو آزادانہ عبور کر سکتے ہیں۔یہ قرارداد کشمیریوں کو اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ وہ اس لکیر کے آر پار آ جا سکیں۔ پاک بھارت کی فورسز اس لائن کو پار نہیں کر سکتیں۔اس لائن کی نگرانی کے لئے سلامتی کونسل نے فوجی مبصرین تعینات کئے ہیں جو 1949سے آج تک اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔وہ روزانہ اپنی رپورٹس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ارسال کرتے ہیںیہی ان کا مینڈیٹ ہے تا ہم بھارت نے شملہ معاہدے کے بعد سے یواین فوجی مبصرین کو اپنے زیر قبضہ کشمیر کی طرف سے اس لائن کی نگرانی کرنے سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے مگر فوجی مبصرین مقبوضہ کشمیر میں بھی موجود ہیں۔آزاد کشمیر میں ان فوجی مبصرین کا ہیڈکوارٹران دنوں اسلام آباد میں ہے۔یہ سرمائی ہیڈ کوارٹر ہے جو چند برس قبل راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل ہوا ہے جبکہ فوجی مبصرین کا گرمائی ہیڈکوارٹر سرینگر میں ہے جہاں چیف ملٹری آبزرور چھ ماہ تک کام کرتے ہیں۔میری تین چیف فوجی مبصرین جنرل تورونن،جنرل جوزف بالی،برگیڈیئر اسپنوزہ سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں جنھوں نے اعتراف کیا کہ بھارت کی طرف سے ان کی پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔گپکار روڈ سرینگر میں کشمیریوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرلز کے نام ہزاروںکی تعداد میں قراردادیں جمع کرائی ہیں مگر دوران انٹرویوز چیف ملٹری آبزرورز نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سلامتی کونسل نے انہیں جنگ بندی لائن کی نگرانی اور سیکریٹری جنرل کو رپورٹ کرنے کا منڈیٹ دیا ہے۔اگر سلامتی کونسل ان کے مینڈیٹ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سیاسی مینڈیٹ بھی دے تو وہ کشمیریوں کے خدمات انجام دے سکیں گے۔ان فوجی مبصرین سے قیام امن فورس جیسی خدمات نہیں لی گئیں۔یو این پیس کیپنگ فورس دنیا بھر میں قابض فورسز کی جگہ خدمات انجام دینے کے لئے سلامتی کونسل کی طرف سے تعینات کی جاتی ہے۔پاکستان اور بھارت اس فورس میں ایک ساتھ بھی کام کرتے رہے ہیں۔کانگو میں جو پیس کیپنگ فورس ہے،اس میں بھارت اور امریکہ ایک فارمیشن میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی یہاں موجود ہے مگر پاک فورسز کے اہلکار بھارت کے ساتھ مل کر کام نہیں کر رہے۔اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں  بھی پاک فورسز نے عالمی امن کے لئے بہت کام کیا ہے۔پاک فوج نے عالمی امن کے لئے جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔   

بھارت کا مشن کشمیر

بھارت کا مشن کشمیر

a month ago.

مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک دائون،کرفیو اور سخت پابندیوں کے 67ویں روز بھی نظام زندگی مفلوج ہے۔ بھارت پابندیوں کے خاتمے اور سب ٹھیک ہے ،کے مسلسل دعوے کر رہا ہے اور ان دعوئوں کے دوران شمال کشمیر ، وسطی کشمیر کے بعد جنوبی کشمیر کا آپریشن تیز کیا گیا ہے۔ ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں کئی رہائشی مکانات کو بارودی دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ گھروں کو زمین بوس کرنے سے پہلے فرضی جھڑپ کاڈرامہ رچایا گیا۔ایک مکان سے ملبے سے کشمیری نوجوان کی سوختہ نعش بر آمد کی گئی۔ قابض فورسز نے دو کشمیریوںکو شہید کرنے کے بعد ان کا تعلق لشکر طیبہ سے جتلایاتا کہ دنیا کو مزید گمراہ کیا جا سکےکیوں کہ بھارت پروفیسر حافظ سعید کے بارے میں دنیا میں چیخ و پکار کر چکا ہے۔ لاک ڈائون کے دوران بھارتی فورسز نے نصف درجن کے قریب جعلی جھڑپیں کیں۔ اس سے پہلے گاندربل کے جنگلات میں جاری آپریشن میں دو کشمیریوں کو 28ستمبر کے روز شہید کیا گیا جن کی شناخت 12روز گزرنے کے باوجود ظاہر نہیں کی جا سکی۔ خدشہ ہے کہ بھارت ماضی کی منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کو گھروں سے حراست میں لینے کے بعد انہیں جنگلوں اور بیابانوں یا جنگ بندی لائن پر پہنچا کر فرضی معرکوں میں شہید کر رہا ہے۔ موجودہ لاک ڈائون کے بعد اس طرح کی فرضی جھڑپ بارہمولہ کے قدیم محلہ میں20اگست کو کی گئی جس میں محسن گجری نامی کشمیری نوجوان کو شہید کیا گیا۔ اس کے چند دن بعد ایک کشمیری کو سوپور میں شہید کیا گیاجبکہ نصف درجن سے زیادہ کشمیریوں کو وادی چناب اور پیر پنچال میں شہید کیا گیا۔ 

تقریر کشمیریوں کی تقدیربدل سکتی ہے؟

تقریر کشمیریوں کی تقدیربدل سکتی ہے؟

2 months ago.

لاک ڈائون کے دو ماہ مکمل ہو رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس کے باوجود کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کا خاتمہ کجا ، اس میں کمی بھی نہ آ سکی۔ یورپین یونین میں آواز بلند ہوئی۔ امریکہ اور برطانیہ میں کشمیریوں پر مظالم پر تشویش ظاہر کی گئی۔ او آئی سی کے کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ نے بھی چیخ و پکار کی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نے بھارت کے خلاف بیانات دیئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تاریخ ساز تقریر کی۔ بھارت کو پچھاڑ کے رکھ دیا۔ہم اس تقریر پر جشن منا رہے ہیں۔ مگر بھارت ٹس سے مس نہ ہوا۔ جیسا کہ دنیا نے مودی کو یقین دلا دیا ہو کہ جو مرضی مظالم ڈھا لو، کوئی بات نہیں۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ عالمی میڈیا بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی درد بھری داستانیں بیان کر رہا ہے۔ دنیا میں کشمیر پر تجزیئے اور تبصرے ہو رہے ہیںمگر بھارت سب ان سنی کر رہا ہے۔ سب نظر انداز کر رہا ہے۔ عربوں نے مودی کو ایوارڈز سے نواز دیا۔ سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ اسلام آباد آئے۔ وہ بھی اظہار یک جہتی سے زیادہ کچھ نہ کر سکے۔  

 سچ کیا ہے؟

 سچ کیا ہے؟

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) چلی کی دو بار صدر مملکت منتخب ہونے والی مچلی بچلٹ نے اپنے والدین سمیت کئی برس تک سیاسی قید کاٹی ہے۔ آپ کے ولد ائر فورس میںجنرل تھے، قید کے دوران ہی دنیا سے چل بسے۔ قید سے رہائی  کے بعد والدہ کے ہمراہ کئی برس تک جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔حالات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ حالات نے کروٹ لی۔بچلٹ  ملک کی دو بار صدر منتخب ہوئیں اور اب اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ہیں۔شاید وہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی ظلم و جبر اور جارحیت، قید و بند کی سنگینی کو سمجھ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بھارتی اقدامات کی بھر پور مخالفت کی ہے۔ ان کا بھارت کو صاف طور پر یہ پیغام دینا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ’’ کسی بھی فیصلے کے عمل میں کشمیری عوام کی شمولیت اور مشاورت ضروری ہے کہ جس کے اثرات ان کے مستقبل پر پڑتے ہوں‘‘۔ بھارتی اقدامات اور فیصلوں کے عمل میں کشمیریوں کی کوئی مشاورت یا شمولیت نہیں۔ 

 تباہ کن کشیدگی اور سفارتی حکمت عملی

 تباہ کن کشیدگی اور سفارتی حکمت عملی

2 months ago.

 سعودی تیل تنصیبات پر حملہ ایک غیر معمو لی  واقعہ  ہے۔ اس کے مضر اثرات پاکستان تک بھی پہنچیں گے۔ غالباً اسلام آباد کے فیصلہ ساز معاملے کی حساسیت کا ادراک رکھتے ہیں ! یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم صاحب امریکہ  براستہ سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں ۔ سعودی اعلیٰ حکام بشمول ولی عہد محمد بن سلمان سے  ملاقاتیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں ۔ اگرچہ پاکستان کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر مرکوز ہے لیکن سعودی تنصیبات پر حملے سے مشرق وسطیٰ میں ابھرتی کشیدگی  سے لاتعلق رہنا دانشمندی نہیں بلکہ حماقت ہوگی ۔ یہ غور طلب اور کسی حد تک دلچسپ حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اہم کردار کسی نہ کسی شکل میں پاکستان کو متاثر کرنے والے علاقائی مسائل سے بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ جڑے  ہوئے ہیں ۔ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں تین فریق نمایاں اہمیت کے حامل ہیں ۔ سعودی عرب ، ایران اور امریکہ۔ سعودی عرب نے متاثرہ فریق کی حیثیت سے ایران پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔   

غداری کی سزا

غداری کی سزا

2 months ago.

انہوں نے کانٹے بوئے، گلاب کی تمنا کی ۔ جو گڑھا کھودا ، آج اسی میں خود گر گئے۔پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے)کی قبر کھودی ، آج خود اس میں دفن ہو گئے۔ یہ داستان ڈاکڑفاروق عبد اللہ کی ہے جو ڈیڑھ ماہ سے اپنے گھر میں قید ہیں، تمام کشمیری بھی 45دنوں سے قید ہیں۔ فاروق عبد اللہ، بھارت کے رکن پارلیمنٹ ہیں، تین بار وزیر اعلیٰ رہے، بھارت کے وفاقی وزیر بھی رہے،ایک بار بھارت کے صدر بھی منتخب ہوتے ہوتے رہ گئے۔ بھارت کا صدر بنانے کا دھوکہ دیا گیا ۔ بی جے پی کے ساتھ اتحادی حکومتیں بھی قائم کرتے رہے، کالے قوانین پی ایس اے، ٹاڈا، پوٹا، افسپا کو کشمیر میں نافذ کرنے اور ہزاروں کشمیریوں کو پابند سلاسل کرنے میں سرگرمی دکھائی۔ان قوانین کے تحت بھارتی سپاہی کو جنرل جیسے اختیارات ہیں وہ کسی کو بھی کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے حراست میںلے سکتا ہے۔ بھارتی فوجی کسی بھی کشمیری کو گولی مار کر قتل کر سکتا ہے۔ بھارتی عدالت میں اس کے اس جرم پر کوئی شنوائی نہ ہو گئی۔ آج تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری کو بے دردی سے قتل کیا گیا مگر ایک بھی فوجی کو سزا نہ ہوئی۔ پی ایس اے قانون کے تحت بھارتی فورسز کسی بھی کشمیری کو وجہ بتائے بغیر حراست میں لے کر دو سال تک قید کر سکتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کو کئی کئی بار اس قانون کے تحت جیلوں میں رکھا گیا۔ ماورائے عدالت قیدی بنایا گیا، جوں ہی دو سال قید مکمل ہوتی ہے تو قیدی کو نئے سرے سے اس کالے قانون کی گرفت میں لا یا جاتا ہے۔