دل اور دیہات دو لخت ہو گئے

دل اور دیہات دو لخت ہو گئے

19 hours ago.

  ہر سال یہاں کراچی، لاہور سمیت پاکستان بھر سے لاکھوں سیاح آتے ہیں ۔وہ قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہزاروں سال قدیم شاردہ یونیورسٹی کے کھنڈرات کا قصہ درد سناہوگا۔ آثار قدیمہ کے نواردات، بودھ اور ہندو مت مندروںکے کھنڈر ات کا نظارہ کیا۔سبھی نے اس گنگا میں ہاتھ دھوئے۔اس دریاکوانڈیا میں کشن گنگا کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ہم اسے دریائے نیلم کہتے ہیں۔ شاید کوئی یہ نہیں جانسکا ہو گا کہ اس دھرتی نے کیسے کیسے دکھ اور درد دیکھے اور سہے ہیں۔میں نے سامنے دیکھا تو یہ ویرانہ آنسو بہا رہا تھا۔  اس کی چیخ و پکار نیلم کی چیختی چلاتی موجوں میں گم ہو رہی ہے۔سچ مانیں اس جدائی، اس غیر فطری  تقسیم پرمیں نے بھی وہاں بیٹھ کر چند آنسو بہائے۔ ایسا لگا کہ اس ماتم میں وہاں کی ہر شے شامل تھی۔کون پتھر ہو گا جو ضبط رکھ سکے اور دل تھام لے۔ میں نے بھی بہتی گنگا میں اپنے اشک بہا لئے۔ یہاں پتھر بھی اشکبار نظر آئے۔ محسوس ہونے لگا کہمیرے ساتھ اظہار یک جہتی میں وہاں  موجود ہر شے، ماحول کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ ایک بلبل نے اڑان بھری اور سامنے دریا کے اس پار جا بیٹھی۔میری اڑان اب بھی جاری ہے۔

 بھارت کا یوم جمہوریہ

بھارت کا یوم جمہوریہ

3 days ago.

ساڑھے پانچ ماہ سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور جارحیت، لاک ڈائون اور پابندیوں کے شکارکشمیر ی جنگ بندی لائن کے آر پار اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں 26جنوری ( بھارت کا71واں یوم جمہوریہ )کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے  ہیں، پورے بھارت میں آزادی کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔عوام شہریت قانون میں ترمیم کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ، جو مسلم دشمنی پر مبنی ہیں۔  برازیل کے صدر کی بھارت کے یوم جمہوریہ2020 کی پریڈ میں شرکت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 26 جنوری 1950ء کو بھارت میں انگریزوں کے قانون گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1935 کی جگہ بھارت کے آئین نے لی اور اسے نافذ العمل کیا گیا۔ یہ آئین 26نومبر 1949کو منظور ہوا۔26جنوری کو بھارت کا یوم جمہوریہ منانے کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ 26جنوری 1929کو لاہور میں کانگریس کے اجلاس میں جواہر لعل نہرو کو کانگریس کاصدر منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر پہلی بار ہندوستان کی مکمل آزادی کے لئے قرارداد منظور کی گئی۔ اور 26جنوری1930کو یوم آزادی کے طور پر منایا گیا۔ 20سال بعد اسی دن بھارتی آئین کے نفاذ کے بعد سے یہ دن یوم جمہوریہ کے طور پر منایاجانے لگا۔تب سے ا س دن دہلی میں پریڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ہندوستان کے صدر سلامی لیتے ہیں۔اس موقع پر کسی ملک کے سربراہ مملکت یا حکومت کو پریڈ پر سلامی لینے کے لئے مدعو کیا جاتا ہے۔ 2018کو  بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایسوسی ایشن آف جنوب مشرقی ایشین ممالک یا آسیان کے 10ممالک کے سربراہان مملکت کو ایک ساتھ یوم جمہوریم پر مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا ۔ جن میں تھائی لینڈ، ویتنام، انڈونیشیا، ملیشیا، فلپائن، سنگاپور، برمایا میانمار، کمبوڈیا، لائوس اور برونئی شامل ہیں۔ ایک کے بجائے 10سربراہاں مملکت کی دہلی میں آمد اور چیف گیسٹ کے طور پر یوم جمہوریہ پر شرکت کو بھارت نے  بڑے پیمانے پر تشہیر کی۔ بھارت کا اپنی نام نہاد جمہوریت کا دنیا میں اس طرح چرچا کا یہ موقعہ ملا ۔کیوں کہ اس موقعہ پر بھارت اپنی فوجی طاقت کی نمائش کرتا ہے۔ پریڈ پر مہمان سلامی لیتے ہیں۔بھارت دنیا کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔  

کشمیر پر سلامتی کونسل کا دوسرا اجلاس

کشمیر پر سلامتی کونسل کا دوسرا اجلاس

10 days ago.

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی)نے 1971کے بعد، گزشتہ 50 سال میںدوسری بار(چھ ماہ سے بھی کم عرصہ میں دوسری بار) بدھ کے روز جموں و کشمیر پر بند کمرے میں ایک اجلاس منعقد کیا اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔سلامتی کونسل کاپہلا مشاورتی اجلاس 16اگست 2019کو منعقد ہوا تھا۔ اس کے بعد 17دسمبر کو بھی ایک خصوصی اجلاس طلب کیا گیا تھا ،مگر فرانس کی مخالفت کے بعد اجلاس ملتوی کردیاگیا، تا ہم اسی دن اقوام متحدہ کے ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اپنی روزانہ نیوز بریفنگ کے موقع پر، ترجمان اسٹیفن ڈوجرک نے کہا، ''ہم مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں''۔ توقع کی جارہی تھی کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران متنازعہ خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے ، لیکن فرانس کی مخالفت کے بعد اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔امریکہ ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس - پانچ مستقل ممبروں میں سے کسی کی تجویز سے صرف اتفاق رائے سے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔ ایک صحافی نے مسٹر ڈوجرک کو یاد دلایا کہ 5 اگست سے مقبوضہ علاقے میں لوگ کرفیو، لاک ڈاؤن اور معلومات کے فقدان کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ وہ اس صورتحال سے بخوبی واقف ہیں لیکن ان کے پاس کوئی نئی اطلاع نہیں ہے۔ ایک فرانسیسی سفارتی ذرائع نے نیویارک میں بھارتی صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ملک نے مجوزہ اجلاس کی مخالفت کی۔’’ہماری پوزیشن بالکل واضح ہے۔ بھارت اور پاکستان کے مابین مسئلہ کشمیر کا دو طرفہ رویہ اختیار کرنا ہے۔ ‘‘ 

آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب

آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب

15 days ago.

 (گزشتہ سے پیوستہ)   اسی تناظر میں ہم ملک کے شمال مشرقی علاقوں سمیت شمالی سرحدوں پر اپنی صلاحیتیں اور استعداد بڑھانے جا رہے ہیں۔‘جنرل نرونے نے 31 دسمبر کو جنرل بپن راوت کی جگہ آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا، جب کہ جنرل بپن راوت کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) مقرر کیا گیا ۔نئے آرمی چیف نے مزید کہا کہ شمال میں چین کے ساتھ متنازع سرحد کی حد بندی ہونا ابھی باقی ہے۔ ’ہم نے امن برقرار رکھنے میں پیش رفت کی ہے۔ ہم حتمی حل کے لیے ایک منزل طے کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘آزاد کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے سے متعلق بھارتی حکمران مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں، ان  بیانات کے حوالے سے جنرل نرونے نے کہا کہ فوج اس بارے میں تمام خطرات اور حکمت عملی کا تجزیہ کرتی ہے، یہ ایک مستقل عمل ہے۔فوج کی جدید کاری کے منصوبوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ یہ اولین ترجیح ہو گی۔’ہمارے پاس متوقع خطرات کے تجزیے کی بنیاد پر ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے۔ جیسے جیسے خطرات بدلتے رہتے ہیں ویسے ہی منصوبہ بندی کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ رینک اور فائل کے مابین سکیورٹی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور انسانی حقوق کے امور کو حل کرنا بھی ان کی اولین ترجیح ہے۔

امریکہ کا جنگی جنون

امریکہ کا جنگی جنون

22 days ago.

بغداد میں امریکی سفارت خانے پر مشتعل مظاہرین کے   حملہ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سینکڑوں اضافی امریکی فوجیوں کو مشرق وسطی میں تعینات کردیا ہے۔ایران کی جانب سے انتقام کے انتباہ کے بعدیہ  امریکہ کا  احتیاطی اقدام ہے جو امریکی اہلکاروں اور سہولیات و تنصیبات کے خلاف خطرے کی گھنٹی بجنے اور اس میں اضافے کے ردعمل میںاٹھایا گیا ہے۔ کیا ٹرمپ   دنیا بھر میںامریکی مفادات کا تحفظ کرسکے گا۔جب کہ مشرق وسطٰی میں امریکی پالیسیوں کے مخالفین بھی ایران کے انتقام میں اعلانیہ یا مخفی تعاون کر سکتے ہیں۔ تا ہم کسی بھی حملے کا الزام  ایران پرہی لگے گا۔امریکہ  دھمکیاں دینے لگا ہے کہ ’’ہمارے بہت سارے بڑے  جنگجو، ایک ساتھ دنیا کے سب سے مہلک فوجی سازوسامان کے ساتھ فوری طور پر سائٹ پر پہنچ گئے۔‘‘  ’’ہماری کسی بھی سہولیات پر ایران کو ضائع ہونے والی جانوں، یا ہونے والے نقصانات کے لئے پوری طرح ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ وہ بہت بڑی قیمت ادا کریں گے! یہ کوئی انتباہ نہیں، دھمکی ہے۔‘‘افغانستان سے ترکی تک جہاں بھی امریکی فوجی اڈے ہیں، ان ممالک کے عوام امریکہ کو جارحیت پسند ملک قرار دیتے ہیں۔ عراقیوں نے بھی امریکی حملوں کی مذمت کی ہے اور بغداد نے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لے گا۔ امریکی فضائی حملوں پر حکومت کی تنقید کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی عراقیوں سے غیر ملکی سفارتخانوں سے دور رہنے کی تاکیدکر رہے ہیں۔اگر چہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ فون پر گفتگو میںوزیراعظم مہدی  نے امریکہ کو یقین دلایا کہ بغداد امریکی اہلکاروں اور املاک کے تحفظ کی ضمانت دے گا، امریکہ بھی عراق میں موجود اپنے تقریباً 6ہزار اہلکاروں کے محفوظ ہونے کی اطلاع دے رہا ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ بغداد میں سفارت خانہ خالی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔امریکیوں پر حملوں سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین عراق تصادم کا میدان بن سکتا ہے۔  واشنگٹن اور ایران کے مابین تناؤ بڑھ رہا  ہے، سفارتی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تہران کے حامی  امریکی مفادات اور اس کے اتحادیوں کے مفادات پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔اگر ایران کو افغان مجاہدین جیسے صف شکن دستیاب ہو گئے تو وہ دنیا بھر میں امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں۔ 

 یوم حق خود ارادیت

 یوم حق خود ارادیت

25 days ago.

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے  19دسمبر 2019کو  پاکستان کی سپانسر شپ میں ایک قرار داد منظور کی ،جس میں مظلوم کشمیری عوام کے بھارتی قبضے سے آزادی کے لئے حق خودارادیت کی جدوجہد کو ازسر نو جائز قرار دیا گیا۔اتفاق رائے سے منظور کی جانے والی اس قرار داد، جس میں دنیا کے 81  ممالک نے تعاون کیا ، نے ان ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی غیر ملکی فوجی مداخلت اور بیرونی ممالک اور علاقوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ جبر، امتیازی سلوک اور بدتمیزی کی کارروائیوں کو بھی فوری طور پر ختم کریں۔قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اسے ایک کامیابی قرار دیا۔حق خود ارادیت سے متعلق اقوام متحدہ  کے چارٹر  کے باب اول کا آرٹیکل 1 (2) عالمی ادارہ کے مقصد اور اصولوں کا اجمالی خاکہ پیش  کرتا ہے۔ اس میں ان الفاظ میں خود ارادیت کے حق کا مقصد بیان کیا گیا ہے ’’   مساوی حقوق اور لوگوں کے حق خودارادیت کے اصول پر، اور عالمی امن کو مستحکم کرنے ،دوسرے مناسب اقدامات اٹھانے کے لئے ، احترام کی بنیاد پر اقوام کے مابین دوستانہ تعلقات استوار کئے جائیں‘‘۔ اس بنیاد پر ہر کسی کو حق خود ارادیت حاصل ہے۔ اس کے تحت لوگ  اپنے سیاسی سٹیٹس کا آزادانہ تعین کرسکتے ہیں، آزادی سے اپنی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی پر توجہ دے سکتے ہیں۔بین الاقوامی عدالت انصاف نے نامیبیا، مغربی سہارا، مشرقی تیمور سے متعلق اسی اصول کو اپنایا مگر کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کے لئے بھارت پر دبائو نہ ڈالا جا سکا۔اس لئے پاک بھارت دو طرفہ بات چیت اور معاہدے ناکام ہو جانے کے بعد پاکستان یو این چارٹر کے آرٹیکل 103پر توجہ دے۔

مودی ازم کا زوال

مودی ازم کا زوال

26 days ago.

بھارت کے متنازعہ ترین اور مسلم کش قوانین کے خلاف زبردست عوامی مظاہروں کے دوراں جھارکھنڈ ریاست میں نریندر مودی کی بی جے پی کو بدترین شکست نے بھاجپا کا زوال شروع کر دیا ہے۔جب کہ شہر شہر بڑے مظاہروں کے دوران اب خواتین بھی سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔دہلی میں جامعہ نگر، شاہین باغ اور دہلی کے مختلف علاقوں کی خواتین کا 18روز سے دھرنا جاری ہے، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ خواتین کے ساتھ مختلف یونیورسٹیوں کی طالبات بھی شرکت کر رہی ہیں۔  دھرنا اور مظاہرہ میں شریک ہونے والے مقررین نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) واپس لینے اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این آر پی) کا بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصدبھارت  کو تقسیم کی جانب دھکیلنا ہے۔ گزشتہ روزجواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے اس مظاہرہ میں شریک ہوکر خواتین کا حوصلہ بڑھایا۔  زبردست سردی کے موسم میں مسلسل 18 دنوں سے دھرنا دینے والی خواتین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے مذہبی بنیاد پر قانون بناکر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مظاہرہ میں سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آئی جی کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے عبد الرحمٰن، ا داکار ذیشان ایوب، بارکونسل کے ارکان، وکلاء، جے این یو کے پروفیسرز، سیاست دانوں نے شرکت کی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اترپردیش میں مظاہرین پر سفاکیت  کے مظاہرہ نے مسلمانو ں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔اسی دوران پارلیمانی انتخابات کے بعد جہاں کہیں بھی اسمبلی  انتخابات ہوئے، وہاں  بی جے پی کو مایوسی ہی ہاتھ آئی ہے۔ ہریانہ میں جوڑ توڑ کی بدولت کھٹر حکومت دو بارہ بن گئی لیکن وہاں بھی وہ پہلے کی طرح زعفرانی ایجنڈوں کو پورا کرنے کی حالت میں نہیں ۔ مہاراشٹر میں اس کا برا حشر ہوا ۔ اب  بی جے پی کی کوشش ہے کہ وہ صرف اور صرف ہندوتوا  ایجنڈوں یعنی فرقہ وارانہ شدت پسندی کو فروغ دے کر مسلمانوں کو مشتعل کرے اور دیگر بنیادی مسائل سے ان کی توجہ ہٹا کر اپنا سیاسی مفاد پورا کرے۔  

بھارتی مسلمان کے صبر کا پیمانہ

بھارتی مسلمان کے صبر کا پیمانہ

a month ago.

آج سارے انڈیا میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی ایشو کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بھارتی پولیس کے تشدد سے درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ مگر یہ مظاہرے سارے ملک میں پھیل رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کی جانب سے اپوزیشن پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوام کے ذہنوں میں خوف اور اندیشے پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ مگر اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی حکومت اپنے بیانات کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے۔ جہاں تک حقائق کا تعلق ہے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ دلی حکومت اس مسئلہ پر واضح طور پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کیلئے جھوٹ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت کے ارادے صاف ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے موقف اور اس کے بیانات ہی میں تضاد پایا جاتا ہے۔نریندر مودی کا دعوی ہے کہ 2014 ء میں اقتدار پر آنے کے بعد سے بی جے پی نے کبھی این آر سی کی بات نہیں کی ہے۔ مودی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر صرف آسام کی حد تک این آر سی کروانا پڑا ہے۔ اس طرح وہ اپنی معصومیت کی دہائی دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کر نے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بے شمار موقعوں پرمودی کے نمبر دو وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا کہ ملک بھر میں این آر سی نافذ کیا جائیگا اور 2024ء  تک این آر سی لاگو کردیا جائیگا۔امیت شاہ نے خود مودی کی موجودگی میں پارلیمنٹ میں کہا کہ این آر سی سارے ملک میں نافذ ہوگا۔ اس کے باوجود مودی کا دعویٰ ہے کہ ان کی حکومت نے ابھی تک این آر سی پر کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا ہے۔بھارت کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش میں جہاں بی جے پی حکومت ہے، این آر سی کا عمل شروع بھی کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر ہریانہ منوہر لال کھتر نے ریاست میں این آر سی لاگو کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی جے پی کے دوسرے قائدین بھی مسلسل این آر سی لاگو کرنے کے اعلانات کر رہے ہیں اور اس سب کے باوجود وزیر اعظم اس پر غلط بیانی کر رہے ہیں۔  

 سقوط ڈھاکہ کے تازہ زخم

سقوط ڈھاکہ کے تازہ زخم

a month ago.

بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے شہریت کے قانون میں ترمیم اور مسلم دشمنی کے دیگر قوانین، ماردھاڑ ،مظالم دو قومی نظریہ کے مخالفین کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔  اندرا گاندھی کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کرنے کا دعویٰ کون غلط ثابت کر ے گا۔ پاکستان ٹوٹنے کی وجوہات ہمیشہ افسوس اور صدمے کے ساتھ زیر بحث رہتی ہیں۔دسمبر میں یہ زخم پھر تازہ ہو جاتے ہیں۔  سقوط  کے کردار بھی زیر بحث آتے ہیں۔ماضی سے کون سبق سیکھے گا۔  تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے غلطیاں کیوںدہرائی جاتی ہیں۔ آسان طریقہ ہے  کہ ذمہ داری کسی کو ملک دشمن،ایجنٹ، سیکورٹی رسک یا مخالف قرار دے کر اس پر ڈال دی جائے۔ 14 اگست 1947ء کو دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والی مملکت خدا داد کو ہندوستانی سامراج نے پاکستان اور اسلام دشمنوں کی سرپرستی میں 16؍دسمبر 1971ء کو توڑ دیا۔ پاکستان اپنے قیام کی سلور جوبلی بھی نہیں منا سکا جب اُس کا ایک بازو کاٹ دیا گیا۔ اس طرح اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والی واحد مملکت کے خلاف ہندو بنئے نے انگریزوں کے ساتھ مل کر سازش کی۔ اس سازش کی کامیابی کے لئے پاکستان کے طالع آزما او راقتدار کے بھوکے ہوس پرست حکمرانوں کا بھی کردار رہا۔ اپنی انا کی تسکین کے لئے مسلمانوں کے خواب چکنا چور کر دیئے۔مگر وہ سزا سے بچ گئے۔آج بنگلہ دیش میں پاکستان دوست اور وحدت کے علمبرداروں اور پاک فوج کا ساتھ دینے والوں کو  انتقام اور تعصب کی بنیاد پر چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ عدلیہ استعمال کی جا رہی ہے، لیکن ہم خاموش ہیں۔

انسانی حقوق

انسانی حقوق

2 months ago.

 (گزشتہ سے پیوستہ) پروینہ گزشتہ برسوں سے اپنی دکھ بھری کہانی دنیا کو سنا رہی ہے۔ وہ راجوری کدل سرینگر کی رہائشی ہے۔ کم عمری میں اس کی شادی ہوئی۔ اور اسے تعلیم کو خیر آباد کہنا پڑا۔چھوٹی عمر میں اس کا پہلا بیٹاپیدا ہوا۔ اس کے بیٹے جاوید کو بھارتی فوج نے اس وقت گرفتار کر لیا جب یہ خاندان جاوید کے میٹرک پاس کرنے کی خوشی منا رہا تھا۔ یہ 17-18 اگست 1990ء کی رات تھی۔ وہ بٹہ مالو میں کزن کے گھر گیا تھا ۔ جہاں سے اسے گرفتارکیا گیا۔ بھارتی فوجی  جاوید احمد بٹ کو گرفتار کرنے آئے اور پروینہ کے بیٹے کو ساتھ لے گئے۔ وہ بیٹے کی تلاش میں ہر انٹروگیشن سنٹر، جیل، فوجی کیمپ میں گئی۔ لیکن جاوید نہ ملا۔ کسی نے کہا کہ وہ فوجی ہسپتال میں ہے۔ لیکن وہاں بھی نہ ملا۔ 1997ء میں مقبوضہ کشمیر کی حکومت نے فوج کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے دہلی حکومت سے اجازت طلب کی لیکن وزارت داخلہ نے یہ اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔  پروینہ  نے اب دیگر گمشدہ نوجوانوں کی بھی تلاش شروع کر دی۔ اے پی ڈی پی تنظیم قائم کی ۔  وہ فلپائن، یورپ، تھائی لینڈ، انڈونیشیا بھی پہنچیں اور دنیا کو کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ افراد کے بارے میں بتایا۔