ذاتی مفاد بمقابلہ قومی مفاد

ذاتی مفاد بمقابلہ قومی مفاد

3 days ago.

پاکستانی معاشرے کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو اس کی بہتری میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہے، یہاں لوگ مفاد حاصل کرنے لیے کسی پر مہربانی کرتے ہیں اور جواباً ایسی ہی مہربانیوں کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ مہربانی روپے پیسے اور سفارش کسی بھی صورت میں ہوسکتی ہے۔ کسی بھی کام کے لیے ہم کسی کی سرپرستی یا تحفظ تلاش کرتے ہیں۔ سکول میں بچے کے داخلے کے لیے بھی ہم ایسے سہارے ڈھونڈتے ہیں۔ ہمیں ہر عہدے پر ایسے لوگوں کی تلاش ہوتی ہے جو رشوت لے کر یا کسی اور تعاون کے بدلے ہمارا کام کردیں۔ دوست تو دوست اگر کوئی اجنبی بھی ایسے عہدے پر فائز ہے جو کسی بھی وقت ہمارے کام آسکتا ہو ہم اس پر مہربان ہوجاتے ہیں۔  ہمارے سماج کے انتہائی بارسوخ لوگ جنھیں کسی مدد یا سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اپنی اناؤں کی تسکین اور اپنے گرد خوشامدی اکٹھے کرنے کے لیے ایسی مہربانیاں کرتے ہیں۔ حال ہی میں پی آئی اے کے پائلٹس کے جعلی لائسنس کا گھپلا سامنے آیا تو یہاں بھی یہی بات ثابت ہوئی کہ پی آئی اے میں داخل ہونے کے لیے کس طرح رشوت اور سفارش کا استعمال ہوتا ہے۔ لین دین کا یہ کلچر اپنی جڑیں اس قدر گہری کرچکا ہے کہ چاہے آپ کا معاملہ میرٹ کے مطابق ہو یا نہ ہو اپنا کام کروانے کے لیے آپ کو کچھ دے دلا کر ہی اپنا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ 

وفاقی بجٹ‘ مشکل حالات اور جرات مندانہ فیصلے 

وفاقی بجٹ‘ مشکل حالات اور جرات مندانہ فیصلے 

7 days ago.

پاکستان کی معیشت کورونا وائرس کی وباء سے پہلے ہی  شدید دبائو کا شکار تھی۔ جاری کھاتوں کے خسارے میں 75فی صد کمی آگئی اور مجموعی طور پر مالیاتی توازن‘ مثبت ہوگیا، جو جی ڈی پی کا اعشاریہ تین فی صد بنتا  ہے۔ ملک کی کریڈٹ ریٹنگ منفی سے مستحکم ہوگئی۔ ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس کی درجہ بندی میں پاکستان 136سے 108 ویں نمبر پر آگیا۔ کئی تجزیہ کاروں نے معاشی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات کا اعتراف کیا اور انہیں بہتری کی راہ پر بڑھتے قدم قرار دیا۔بدقسمتی سے وباء نے ان کاوشوں کو شدید دھچکا پہنچایا۔ دنیا بھر کی معاشی صورت حال کی طرح وباء سے قبل پاکستان کی معیشت میں آنے والی بہتری گزشتہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں وباء کے باعث  ابتری  میں تبدیل ہوگئی۔بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اختیار کی گئی ہمہ جہت حکمت عملی اور اس کے لیے کیے گئے اقدامات سے وباء کا پھیلائو سست ہوا، اس کے ساتھ معاشرے کے پسماندہ طبقات کو نقدی کی فراہمی اور بحالی کے دیگر اقدامات بھی کیے گئے۔ اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں اور قرض داروں کو سہولت فراہم کرنے لیے مراعات متعارف کروائیں اور شرح سود میں بھی کمی کی۔ مالی سال 2019-20ء کے خاتمے تک وباء نے رفتار پکڑ لی اور ابھی اسے عروج تک جانا ہے۔ مستقبل قریب میں بے یقینی اور عالمی حالات بہتر ہوتے نظرنہیں آتے اور کم از کم اگلے مالی برس تک صورت حال یہی رہنے کا غالب امکان ہے۔   

فتنہ و انتشار کی ممکنہ دوسری لہر 

فتنہ و انتشار کی ممکنہ دوسری لہر 

9 days ago.

(گزشتہ سے پیوستہ) حالیہ وباء سے جنوبی ایشیاء کی جغرافیائی سیاست میں آنے والے تغیرات میں بے پناہ تیزی آچکی ہے۔ وباء سے پیدا ہونے والے معاشی بحران نے جہان پاکستان کو اپنی گرفت میں لیا ہے وہیں بھارت بھی اس کے اثرات محفوظ نہیں ہے۔ اس وبا کے اقتصادی اثرات غیر معمولی طورپر دور رس ہیں۔ 2020ء کی چوتھی سہ ماہی میں بھارت کی شرح نمو 3.1 فی صد کم ہوجائے گی۔ بھارتی حکومت کے مرکزی اقتصادی مشیر کے مطابق کورونا وائرس وباء  کے باعث ملکی معیشت کی شرح نمو میں واضح کمی آئے گی۔  قابل غور بات یہ ہے کہ عالمی بینک کے مطابق وبا سے قبل ہی بھارتی معیشت سست روی کا شکار ہوچکی تھی، وباء نے صرف پہلے سے موجود خطرات کو مزید سنگین کردیا ہے۔ دوسری جانب مودی سرکار کی جانب سے انتہا پسند ہندو قوم پرستوں کی حمایت نے بھارتی رائے عامہ کو انتشار سے دوچار رکھا ہے۔ اس کی مسلم مخالف پالیسوں اور نفرت انگیزی صرف مسلمانوں ہی میں نہیں بلکہ پورے سماج میں رفتہ رفتہ ایک مزاحمت کو جنم دے رہی ہے۔  گزشتہ برس جموں و کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی، انتظامی حیثیت کو تبدیل کرکے دو حصوں میں اس کی  تقسیم اور ایک حصے کو براہ راست دہلی کے ماتحت کرنے کے اقدامات نے دنیا اور چین کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں۔ مودی اور بھارت کی بدقسمی یہ ہے کہ لداخ کو بھارتی وفاق کے ماتحت علاقہ قرار دیا گیا جو کہ چین و بھارت کے مابین متنازعہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے بھی لداخ اور چینی تبت کے مابین بھارت کے مقابلے میں زیاہ مناسبت پائی جاتی ہے۔  5جون کو بھارت کی اشتعال انگیزی نے چین کے غیض و غضب کو دعوت دی اور یہ مسئلہ پھر تازہ ہوگیا۔ بھارت کی امریکہ سے بڑھتی پینگیں بڑھانے سے،  جس کا اصل مقصد چین قابو میں رکھنا ہے، صورت حال کو ایک اور رُخ ملا ہے۔ ان واقعات نے بھارت میں ایسے حالات پیدا کردئیے ہیں جو کسی بھی مرحلے میں بے قابو ہوسکتے ہیں۔ 

وفاقی بجٹ:مشکل حالات اور جرات مندانہ فیصلے 

وفاقی بجٹ:مشکل حالات اور جرات مندانہ فیصلے 

12 days ago.

2018ء میں تحریک انصاف نے جب اقتدار سنبھالا تو معاشی بدنظمی اور بدحالی ہولناک شکل اختیار کرچکی تھی اور کرپشن نے رہی سہی کسر پوری کردی تھی۔ 2019ء کے اختتام تک معاشی بہتری کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے۔ تجارتی خسارے میں غیر معمولی کمی آچکی تھی، مالی خسارے پر قابو پالیا گیا تھا، زرمبادلہ کی صورت حال تسلی بخش ہورہی تھی، کریڈٹ ریٹنگ اور ایز آف ڈوئنگ بزنس کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری آرہی تھی۔ درآمدات کم ہونے کی وجہ سے تجارتی خسارہ کم ہورہا تھا لیکن اس بہتری کے لیے معاشی ترقی کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ مالیاتی سطح پر بہتری کے آثار ترقیاتی بجٹ میں کمی کی وجہ سے نظر آرہے تھے  آمدن میں اضافہ اس کا سبب نہیں تھا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی قابل ذکر نہیں تھی۔ 2020ء کی ابتدا ہی میں کورونا وائرس وباء کے عالمی پھیلاؤ کے خدشات نے مقامی خطرے کی شکل اختیار کرلی تھی اور ملک گیر سطح پر ہونے والے لاک ڈاؤن  اور وباء کی روک تھام کے لیے ہونے والے اقدامات کے نتیجے میں شدید معاشی بحران نے آن گھیرا۔ 

چین اور بھارت کی ممکنہ جنگ 

چین اور بھارت کی ممکنہ جنگ 

a month ago.

 ( گزشتہ سے پیوستہ) 18مئی کو چین نے باضابطہ طور پر گلوان وادی میں بھارت کو چینی حدود کے اندر ’’غیر قانونی تعمیرات‘‘ کا ذمے دار قرار دیا اور چینی سرحد کے قریب علاقے ہتھیانے کے پس منظر میں امریکی ایما ء کی بھی نشاندہی کی۔ بیان میں کہا گیا ’’ بھارتی حکومت کو عقل کے ناخن لینے چاہیے اور امریکا کی بندوق کے لیے اپنا کاندھا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘ اس کے دو دن بعد 27مئی کو امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ امریکا چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعے میں ثالثی کے لیے تیار ہے۔  اس پیشکش کے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک نے اسے مسترد کردیا۔ دونوں ممالک نے موقف اختیارکیا کہ ایسے مسائل حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے پاس اپنے ذرائع ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر بھارتی وزیر اعظم مودی بھی خاصے ناخوش ہیں اور اسے بھارتی مفادات کی قیمت پر چین اور امریکہ کے مابین جاری سرد جنگ  لڑنے کی ایک کوشش گردانتے ہیں۔ 

’’را‘‘ کو بے نقاب کرنے کا موقع

’’را‘‘ کو بے نقاب کرنے کا موقع

2 months ago.

بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ(را) بنیادی طور پر بیرون ملک سے خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے بنائی گئی تھی لیکن درحقیقت یہ اندرون و بیرون ملک ہر طرح کی خفیہ کارروائیوں اور شر انگیزیوں میں ملوث ہے۔ ’را‘ اپنے ’فالس فلیگ‘ آپریشنز کے ذریعے ایسی کارروائیوں کا الزام دوسروں کو دیتی ہے جن میں خاص طور بھارت کے اندر ہونے والے پرُتشدد حملوں میں مالی و جانی نقصان ہوا ہو۔ عام طور پر پاکستان ہی اس الزام تراشی کا نشانہ بنتا ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو بھارت اپنا شہری تصور نہیں کرتا اس لیے ایسی کارروائیوں میں کولیٹرل ڈیمیج کے لیے ان کی زندگیوں کو ارزاں سمجھتا ہے۔ بنیادی طور پر داخلی اور بیرونی سطح پر انٹیلی جینس کی ذمے داریاں انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) کے دائرہ اختیار میں آیا کرتی تھیں، یہ ادارہ بھی برطانوی راج سے ورثے میں ملا تھا۔ برطانیہ نے 1885ء میں اس کی بنیاد رکھی تھی اور اس کے قیام کا مقصد افغانستان اور روس کی صورت حال پر نظر رکھنا تھا۔ بعدازاں اس سے ہندوستانی انقلابیوں اور استعمار مخالف تحریکوں کی نگرانی کا کام بھی لیا گیا۔ یہ ایجینسی ایم آئی فائیو اور اسکاٹ لینڈ سے قریبی روابط رکھتی تھی۔ 1947ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد اس کا نام آئی بی رکھ دیا گیا اور یہ وزارت داخلہ کے ماتحت آگئی۔ 1962ء کی چین بھارت اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں انٹیلی جینس کی ناکامیوں کی وجہ سے 1968ء میں بھارت نے ایک قدرے آزادانہ خفیہ ایجنسی قائم کی۔ 

افغانستان کی جانب سے امنڈتا خطرہ! 

افغانستان کی جانب سے امنڈتا خطرہ! 

2 months ago.

کسی قوم کو بحیثیت مجموعی احسان فراموش قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم افغان حکومت نے بارہا اپنی احسان فراموشی ثابت کی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دہائیوں میں افغانوں کے لیے بہت کچھ کیا لیکن اپنے مغربی پڑوسی سے اس کے تعلقات ابتدا ہی سے مشکلات کا شکار رہے۔ اس میں ڈیورنڈ لائن کے تنازعے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور دیگر کئی تنازعات کی طرح یہ بھی ہمیں برطانوی استعمار سے ورثے میں ملا ہے۔ اگرچہ اس لائن کے منطقی یا غیر منطقی ہونے کے بارے میں بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ برطانوی راج سرحدی لکیروں سمیت جو کچھ چھوڑ کر گیا اس کے حصے دار پاکستان اور بھارت تھے۔ افغان حکومتوں کی جانب سے اس لائن پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں اور بات اس لیے بھی مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے کہ یہ لکیر کئی قبائل اور خاندانوں کو تقسیم کرتی ہے اس لیے جب بھی افغانستان کا معاملہ زیر بحث آتا ہے تو پاکستان کے پختون اس تناظر میں بھی اسے دیکھتے ہیں۔ 

غیر معمولی حالات اور غیرروایتی حل

غیر معمولی حالات اور غیرروایتی حل

2 months ago.

کروڑوں بے روزگار ہوچکے ہیں اور ابھی اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ کورونا وائرس وباء  سے صرف اموات نہیں ہوئیں بلکہ اس نے انتہائی سنگین معاشی بحران پیدا کیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صنعتی اور کاروباری ادارے زوال کا شکار ہوں گے، بعض تو مستقل طور پر تباہ ہوجائیں گے، اس لیے معیشت کی بحالی آسان کام نہیں ہوگا لیکن ہمیں کم از کم اس کی کوشش تو کرنا ہوگی۔ لیکن ہم کس طرح معیشت یا اس کے کچھ حصے کو دوبارہ مستحکم کر پائیں گے؟ یہ اہم سوال ہے۔  مغربی دنیا نے اس کے لیے خطرہ مول لے کر بتدریج لاک ڈاؤن  میںنرمی پیدا کرنا شروع کردی ہے لیکن اس کے باوجود ان کی معیشت کو سنبھلنے میں 12سے 18ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں اگر وبا کی اگلی لہر اس شدت سے واپس نہ آئی تو یہ ممکن ہوسکے گا۔ آثار بتاتے ہیں کہ امریکا میں یہ بحران مزید شدید ہوگا۔ بحران میں سارے وسائل بروئے کار لانا پڑتے ہیں اور غیر معمولی حالات میں غیر روایتی راستے تلاش کیے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ان لوگوں کی صلاحیتوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو متنازعہ ہی کیوں نہ ہوں اور نظام قانون و انصاف سے الجھتے کیوں نہ رہے ہوں۔