’آزادی‘ یا ’بربادی‘ مارچ؟ 

’آزادی‘ یا ’بربادی‘ مارچ؟ 

19 days ago.

جب تک یہ تحریر شائع ہوگی مولانا فضل الرحمن اور ان کے حامی اسلام آباد پہنچ چکے ہوں گے۔ خوش قسمتی سے حکومت نے بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا راستہ نہیں روکا اور امید ہے کہ جمع ہونے والے مظاہرین بھی اسی سمجھ داری کا مظاہرہ کریں گے۔ اگرچہ یہ اجتماع  عمران خان کی سیاست کے خاتمے کا تند و تیز مطالبہ  کررہا ہے تاہم امید ہے کہ اس  کے باوجود یہ اسلام آباد کے امن و امان(اور صفائی ستھرائی) کو متاثر نہیں کرے گا۔ نام نہاد ’’آزادی مارچ‘‘ کا آغاز پشتون آبادی رکھنے والے کراچی کے نواحی علاقے سہراب گوٹھ سے ہوا۔ مذاکراتی ٹیم کی مسلسل کوششوں کے باوجود حکومت یہ مارچ روک نہیں  سکی۔ آزادی مارچ کے قائدین  یہ ثابت کرنے کے لیے  سڑکوں پر نہیں کہ تحریکِ انصاف کی حکومت ناکام ہورہی ہے، بلکہ انھیں اس بات کا خوف ہے کہ حکومت کامیاب ہورہی ہے۔ مولانا یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس لیے وہ عمران خان کے استعفی سے کم پر راضی نہیں۔ کیا وہ یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی حیثیت محض ربڑ اسٹیمپ سے زیادہ نہیں؟ ان کے نعرے’’آزادی‘‘ کا مفہوم بھی واضح نہیں۔   

بلیک میلنگ کب تک؟ 

بلیک میلنگ کب تک؟ 

a month ago.

کرپشن اور اقرباء پروری کے جن خطرات کی نشان دہی  بانی پاکستان قائد اعظم نے کی تھی، گزرتے وقت کے ساتھ نہ صرف ان کا تسلسل برقرار ہا بلکہ ان کے مختلف حربوں کو قانونی تحفظ اور جواز بھی فراہم کردیے گئے ۔ آج ہر کوئی بظاہر اس بات کا قائل نظر آتا ہے کہ کوئی بھی  اپنے عہدے سے فوائد حاصل کرنے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ جوابدہی کے غیر مؤثر نظام نے حکومتی اداروں اور کاروباری حلقوں میں ایسے طرز فکر کو فروغ دیا ہے جس کے مطابق کرپشن کو معمول کی بات تصور کیا جاتا ہے بلکہ اس کے لیے مزید آزادی کا مطالبہ بھی ہوتا ہے۔ موجودہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ اس قدر بے توقیر ہوچکے ہیں کہ ان کا نفاذ ناممکن دکھائی دیتا ہے کیوں کہ جن کے ہاتھوں ان قوانین کا نفاذ ہونا تھا ان کے شیطانی دماغ ان قوانین ہی کو مال بنانے کا سب سے بڑا آلہ بنا چکے ہیں۔ کم ٹیکس وصولیوں ہی کا مسئلہ لیجئے جس کی وجہ سے پاکستانی ریاست اپنے اخراجات پورے نہ ہونے کے باعث قرضے یا امداد طلب کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ 

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے 

2 months ago.

(گزشتہ سے پیوستہ)  عسکری تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا جس میں سولہ نفر پر مشتمل مختصر دستے نے نہ صرف دو ٹینک تباہ کیے تھے بلکہ دو ٹینکوں اور دو انفینٹر کمپنیوں جوابی حملے کو بھی ناکام بنادیا تھا۔  شکربو چوکی رینجرز کے حوالے کرنے بعد میں ڈالی آپریشن کے لیے بٹالین میں چلا گیا۔ میری کمپنی نے دشمن کے عقب میں اونچے مقام پر قدم جمانا تھے۔ ہم نے اے اور سی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ڈالی پر قبضے کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔ ہمیں فضائی مدد فراہم کرنے والے دو جنگی طیارے بے جگری کے ساتھ آگے بڑھے۔ بیس کمانڈر ایئر کموڈور ایم کے عباسی خود ایک طیارہ اڑا رہے تھے۔ فضائی حملے میں نہ صرف دشمنوں کی گولہ بارود سے بھری ٹرین تباہ ہوئی بلکہ انھیں بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ شام ڈھلے فلک شگاف نعروں کے ساتھ حملے کا آغاز ہوا اور مکمل طور پر کام یاب رہا۔ ڈی کمپنی کی مدد سے ڈالی کو خالی کروالیا گیا۔ پہلے ہی یہ کمپنی جاسو(جوپر) کی جانب سے ہونے والے جوابی حملے کو ناکام بنا چکی تھی۔ ڈی کمپنی اور رائفلز اور مارٹر گولوں کے ساتھ حملہ آور ہوئی اور ایک سپاہی دشمن کو للکارتا رہا ’’مورچوں سے نکل آؤ ورنہ ہم تمہارا قیمہ بنا دیں گے‘‘۔

دفاع کے لیے وسائل اہمیت ، چند تجاویز 

دفاع کے لیے وسائل اہمیت ، چند تجاویز 

2 months ago.

جہاں تک معیشت کا تعلق ہے تو پاکستان ایک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ پستی کے اس سفر کا آغاز زرداری اور پیپلز پارٹی  کی کرپٹ ترین حکومت کی 2008 میں آمد سے ہوا اور 2013 میں نواز شریف برسر اقتدار آنے کے بعد بھی جوں کا توں جاری رہا۔ اس بات میں تو کسی شک یا قیاس آرائی کی گنجائش نہیں کہ یہ لوگ بدعنوان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری عدلیہ اس حوالے سے اپنے ضمیر کو مطمئن کرسکتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے الفاظ کے ساتھ کھیل رہی ہے جبکہ چالاک وکلاء، جنہیں اچھی ادائیگیاں کی جاتی ہیں، قانون کی روح کو مجروح کررہے ہیں؟ کیا ہمارے جوانوں نے بے کار اپنے ملک کے لئے جانیں گنوا دیں؟ معاشی نظامکی ابتری ملکی سلامتی کی ضروریات کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔ معیشت اور سلامتی باہمی طور پر وابستہ تصور کرنے کے منفرد تصور سے ہی اس صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، پاکستان کو روایتی سانچوں اور جمود کو ختم  کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگرچہ محصولات میں اضافہ لازمی ہے، لیکن ہمیں بچت اور تبدیلیوں کو موثر بنانے کے ہر طریقے پر غور کرنا چاہیے۔  

بھارتی دستور کی دفعہ 15: محض ایک فریب

بھارتی دستور کی دفعہ 15: محض ایک فریب

2 months ago.

1950ء میں بھارتی دستور میں شامل ہونے والی دفعہ  15کے مطابق ’’ریاست کسی شہری سے مذہب، نسل، ذات، صنف، جائے پیدائش یا ان میں سے کسی بھی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتے گی۔‘‘  مطالبۂ پاکستان کے خلاف کانگریس اور بھارت کا استدلال یہ تھا کہ ہندوستانیوں میں مسلم قومیت جیسی کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ تمام ہندوستانی چاہے وہ کسی بھی ذات، جنس یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ہندوستانی قوم کا حصہ ہیں اور سیکیولر ریاست کی نظر میں سب برابر حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان یا کسی اور نام سے علیحدہ ریاست کے قیام کا کوئی جواز نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تقریباً نصف آبادی نے کانگریس کے اس وعدے پر اعتبار کرلیا،ان کی قیادت جواہر لعل نہرو کے قریبی دوست ابوالکلام آزاد کررہے تھے۔ شیخ عبداﷲ بھی نہرو کے قریبی دوست تھے اور انہی کی وجہ سے کشمیری مسلمان بھی ہندوستانی قوم میں اپنی قبولیت کے امکانات پر یقین رکھتے تھے۔ دونوں مسلمان رہنما آزاد اور شیخ عبداﷲ کو جلد ہی اپنی غلطی کا اندازہ ہوگیا۔ 1950کی دہائی تک ان دونوں رہنماؤں پر آشکار ہوگیا کہ ہندوستان کی آزادی کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ سمجھتے رہے اور کانگریس نے ان سے عہد شکنی کی۔ مایوسی کے عالم میں آزاد کا انتقال 1958ء میں ہوا، بھارت کے بارے میں اپنے اوہام کا انہوں نے کبھی براہ راست اعتراف نہیں کیا۔ 1992ء میں ان کے ایک قریبی دوست نے کہا کہ ’’آزاد دل شکستہ دنیا سے رخصت ہوئے‘‘۔ شیخ عبداﷲ کو ان کے دوست نہرو نے دس برس تک اس لیے جیل میں رکھا کہ انہوں نے اس پر آواز اٹھائی تھی کہ دہلی نے کشمیر کو وہ خودمختاری نہیں دی جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔