مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں جنوبی ایشیاء کا مستقبل پرامن نہیں

 مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں جنوبی ایشیاء کا مستقبل پرامن نہیں

4 months ago.

گزشتہ ایام میں لاہور میں پاک بھارت مذاکرات کی ایک بیٹھک ہوئی۔اس میں دونوں ممالک کے درمیان کرتارپور راہداری کے حوالے سے مذاکرات ہوئے ۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اس کے لئے شاباشی کے مستحق ہیں ۔ کر تارپور پر ہوئے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے اشارے مل چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ طرفین میں اسی فی صد معاملات طے پا چکے ہیں جب کہ اسلام آبادکی طرف سے راہداری پر اسی فیصد کام بھی مکمل ہو چکا ہے ۔کرتار پور راہداری پر مذاکرات کا یہ دوسرا دور تھا، جس میں بھارت کے آٹھ رکنی وفد نے شرکت کی جب کہ پاکستان کی جانب سے تیرہ رکنی وفدنے مذاکرات میں حصہ لیا۔ مذاکرات کے اس تازہ دور میں سکھ یاتریوں کی رجسٹریشن اور داخلے کے طریقہ کار،کسٹم اور امیگریشن،کرنسی کی نوعیت اور حد ، ٹرانسپورٹ  اور قیام کی مدت کے حوالے سے بات چیت کی گئی ۔ کرتارپور راہداری کے قیام کے لیے بھارتی سکھ رہنما اور عمران خان کے سابق کرکٹر دوست نجوت سنگھ سدھو بارش کا پہلا قطرہ بنے ۔  

کوئی تعمیری سیاست نہیں رہی!

کوئی تعمیری سیاست نہیں رہی!

5 months ago.

 گزشتہ دن سپہ سالارِ پاک فوج نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ’’قومی معیشت‘‘ کے موضوع پر منعقد کئے جانے والے سیمینار میں خاصی کھل کر بات چیت کی اور قوم کو جہاں یکجا رہنے کا پیغام دیا وہاں ایسی قوتوں کو بھی پیغام دیا جو کہ اس نازک ترین صورتحال کے دوران ملک میں جلسے جلوسوں اور احتجاجوں کے ذریعے انارکی پھیلانے کے پلید خواب دیکھ رہی ہیں۔  آرمی چیف نے کھلم کھلا کہا کہ ملک مشکل معاشی صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ ماضی میں اہم مشکل فیصلے کرنے سے ہم کتراتے رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی  قومی اہمیت کے معاملات پر بات چیت کرنا اور نئے راستے نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔  انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے سے ہی مختلف ممالک کامیابی سے معاشی بحرانوں سے نکلے ہیں اور ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔  مگر ایسی صورتحال میں محض اکیلا ایک آدمی کچھ نہیں کرسکتا بلکہ پوری قوم کو ایک ہونا ہو گا اور اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ پاک فوج نے بھی دفاعی بجٹ میں اس سال اضافہ نہ لے کر اپنا حصہ ڈال دیا ہے انہوں نے  مزید کہا کہ ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں اس لئے ہمیں علاقائی روابط اور تعاون پر زور دینا ہو گا۔   

 مال و متاع آلائشوں سے پاک

 مال و متاع آلائشوں سے پاک

6 months ago.

  زکوٰۃ اسلام کے اقتصادی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ایتائے زکوٰۃ کے حکم کے پیچھے یہ فلسفہ کار فرماہے کہ اسلامی حکومت پورے معاشرے کو ایسا اقتصادی و معاشی نظام طرز زندگی اور سماجی ڈھانچہ مہیا کرے جس سے حرام کمائی کے راستے مسدود ہو جائیں او ر رزق حلال کے دروازے کھلتے چلے جائیں اس لئے شریعت نے ہر صاحب نصاب پر یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ سالانہ بنیادوں پر اپنے جمع شدہ اموال پر اڑھائی فی صد کے حساب سے مال نکال کر اجتماعی طور پر حکومت کے بیت المال میں جمع کرادے تاکہ وہ اسے معاشرے کے نادہندہ اور محتاج افراد کی ضروریات کے لئے ان پر صرف کر سکیں اس شرح سے اگر سب اہل ثروت اور متمول افراد اپنے سال بھر کے اندوختہ و زرمال سے اپنا اپنا حصہ نکالتے رہیں تو اس طرح نہ صرف ان کی کمائی حلال اور ان کا مال و متاع آلائشوں سے پاک و صاف ہو جائے گا بلکہ معاشرے میں پائی جانے والی معاشی ناہمواریاں بھی ازخود دور ہوتی رہیں گی اگر یہ سوچ افراد معاشرہ کے قلوب و اذہان میں جا گزیں ہو جائے تو پوری زندگی میں حلال و حرام کی حدیں متعین ہو جائیں گی اور اجتماعی حیات کے احوال و معاملات سنور جائیں گے