11:24 am
مکان کو گھر اور گھر کو ماحول دوست بنائیے

مکان کو گھر اور گھر کو ماحول دوست بنائیے

11:24 am

مہذب انسان کی نشانی یہ ہے کہ ناصرف اس کی ظاہری شخصیت باوقار ،سلجھی ہوئی، مفاہمانہ طرز عمل اور پرکشش ہو بلکہ وہ جہاں رہتا ہو وہ بہتر مکان ہو ،اس کی تعمیر اور آرائش وزیبائش میں انفرادیت اور تخلیقیت کا عنصر واضح ہوتا ہو۔مکانات کی کشادگی کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن اسے فطرت سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔پتھروں سے فن تعمیرکے کئی زاوئیے اب بھی راجستھان اور پاک وہند کے کئی قلعوں ،میناروں ،حویلیوں اور مساجد کے علاوہ گرجاگھروں کی تعمیر میں نظر آتاہے۔
 
ان میں سے کئی عمارتوں کو اقوام متحدہ نے عالمی ورثے کا درجہ دیا۔یہ فن تعمیر سلاوٹ قبیلے کی تخلیق تھی۔مکلی کے قبرستان کا فن تعمیر دیکھئے تو یہی انداز اختیار کیا گیا ہے۔حیدر آباد سندھ کے سلاوٹ پاڑہ کے اب تو نشانات بھی معدوم ہیں لیکن جدید تعمیر اتی ماہرین نے متعدد عمارات کی تعمیر میں اس فن سے اکتساب کیا۔جس کی خاص بات یہ تھی کہ آپ کا مکان چاروں طرف سے ہوا دار ہو اور صحن سے آسمان اور تارے صاف نظر آتے ہوں۔چاندنی صحن میں اترے اور گھرکے افراد صحن میں یا لان میں بیٹھ کر فرصت کے لمحات کا لطف لے سکیں۔ماحول دوست مکانات یا گھروں کا تصورا بھرنے کا ایک سبب شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی بھی ہے ۔غلط منصوبہ بندی کے نتیجے میں بنائی جانے والی عمارتوں ،درخت کاٹنے اور باغات کی کمیابی کے سبب لوگ آلودہ فضا میں رہنے پر مجبور ہیں۔ذیل میں ہم چند تجاویز دے رہے ہیں جو ہمارے کنبوں کو سر سبز ماحول اورتوانا فضا عطا کرسکتی ہیں۔ہوادار کھڑکیوں کی تعداد بڑھائی جاسکے تواگر چہ تجویز آپ کے ماہر تعمیرات اور گھر کے سربراہ کی باہمی مشاورت سے قابل عمل ہوتو اچھی بات ہے۔فینگ شوئی اور ماحول کی طہارت کے نقطہ نظر سے آمنے سامنے کی دیواروں یا افقی وعمودی سطح پر اس طرح بنائی جائیں کہ جن سے ہوا کا گزر ہو ،آپ کا مکان قابل توسیع ہوتو زیادہ بہترہے۔مکان لب سڑک واقع ہو یا نہ ہو،اس سے فرق نہیں پڑتا فرق پڑتا ہے تو مغربی یا مشرقی رخ سے ہوا کے گزر کا ،جس کا اندازہ فنی وپیشہ ورانہ بنیادوں پر ماہرین تعمیرات بخوبی کرتے ہیں۔اس کے بعد ان دریچوں اور کھڑکیوں پر کسی موٹے دبیز کپڑے کے پردے بھی نہ لگائیے کیونکہ پردے بظاہر آرائش ظاہر کرتے ہیں لیکن اصل میں یہ ہوا روکنے اور گردوغبار سے ممکنہ حد تک بچاؤ کرتے ہیں۔شام یا علی الصبح کھڑکیوں کو کھول کر تازہ ہوا کے جھونکوں سے سر شار ہونے کا بھی لطف اٹھانا چاہئے۔باورچی خانہ اور کھانے کا کمرہکشادہ گھروں میں باورچی خانے ہی میں کھانے کی میز لگادی جاتی ہے۔کم از کم گھر کے مکین وہیں کھانا کھاتے ہیں جبکہ پر تکلف دعوتوں کے لئے کھانے کا کمرہ علیحدہ ہوتاہے ۔ہر کمرے میں قدرتی ہر یالی کے ساتھ ساتھ روشنی کا انعکاس بھی ہوتا رہے ۔یہ دونوں چیزیں حشرات الارض کو کمرے میں آنے سے روکتی ہیں۔باورچی خانے میں چمنی کا استعمال دھوئیں کے اخراج میں مدد دیتاہے۔لان یا صحن ،بھر پور توجہ کے مراکزہرا بھرالان اور پکا بنا ہوا صحن علیحدہ یا ایک ہی گھر میں دو مختلف مقامات پر موجود ہونے سے بھی ماحول اور فضاء کو مکدر ہونے سے بچایا جا سکتاہے۔تراشیدہ گھاس اور دبیز لان کا حصہ بینائی کے تحفظ کے لئے بہترین ہے۔یہاں سردیوں میں دن کے وقت بیٹھئے ،بچوں کی سالگرہ اور شام کے ناشتے یا مہمانوں کی تواضح کے لئے اس حصے کو استعمال کیجئے۔جہاں تک قدرتی روشنی آپ کا ساتھ دے سکے اس کے بعد شام ڈھلتے ہی آپ مصنوعی روشنی استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔صحن میں تخت اور تخت پردادی جان یا کسی اور بزرگ کے ساتھ پاندان کا تصور،ا س سے پہلے کہ قصہ پارینہ بن جائے آپ اپنے بچوں کو اس مشرقی ماحول سے واقفیت دلائیے۔خواہ صحن میں بچھایہ تخت نماز کی ادائیگی ہی کے لئے مخصوص ہو۔یہ سر گرمی ہی نہایت مثبت اور توانائی بحال کر دیتی ہے۔

تازہ ترین خبریں