08:57 am
ہاتھ میں کنگن‘کان میں جھمکا

ہاتھ میں کنگن‘کان میں جھمکا

08:57 am

کہا جاتاہے کہ سونا خواتین کی کمزوری ہے،پرانے زمانے کی خواتین سونے کے زیورات برے وقت کیلئے بچا کررکھتی تھیں،لیکن فی زمانہ جہاں مہنگائی نے عوام کا جینا محال کیا ہے وہیں سونابھی لوگوں کی پہنچ سے بہت دور ہو چکا ہے ،خصوصاً والدین کیلئے یہ معاشی اور سماجی مسئلہ بنتا جارہا ہے کہ شادی بیاہ کے موقعے پر خاص طور پر لڑکیوں کی شادی میں خالص سونے کے زیورات دینا نہ صرف انتہائی مشکل ہو چکا ہے بلکہ معمولی کو الٹی کا عام سالاکٹ چین سیٹ بھی لوگوں کو قوت خرید سے باہر ہے کیونکہ گزشتہ دس پندرہ سالوں میں سونے کی قیمت میں زمین وآسمان کا فرق آچکا ہے۔
 
جہاں دیگر اشیاء کی بڑھتی قیمتوں نے مڈل کلاس کی زندگی کو خاصا مشکل بنا دیا ہے وہیں سونے کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں سے بھی سب سے زیادہ مڈل کلاس سونے کی بڑھتی قیمتوں کے باعث دلہن اور دولہے کے خاندان دونوں کو پریشان کیا ہے۔پاکستان کے صرافہ بازاروں میں اس وقت فی تولہ سونے کی قیمت 95ہزار روپے کے قریب پہنچ گئی ہے ،جو کہ سناروں کے مطابق بہت جلد ایک لاکھ روپے سے بھی تجاوز کرجائے گی۔سونے کی بڑھتی قیمتوں کے باعث دلہن اور دولہے کے خاندان دونوں پریشان ہیں اور بعض اوقات اس کا انجام کہیں تنازع اور ناچا کیوں پر ختم ہوتا ہے تو کہیں نوبت رشتہ ٹوٹنے تک پہنچ جاتی ہے ۔دوسری جانب،مہنگائی سے ایک نئی تبدیلی جنم لے رہی ہے جس کی وجہ سے سونے کے زیورات کا رواج آئندہ وقتوں میں ختم ہوتا نظر آرہا ہے ۔یہی وجہ پچھلے کچھ سالوں سے مصنوعی زیورات کی ڈیمانڈ جس قدر تیزی سے بڑھی ہے وہ10سال پہلے تک نہیں تھی ۔اس کی وجہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فیشن کا بدلتارجحان ہے۔اس وقت قیمتی پتھروں کے استعمال سے آرٹیفیشل جیولری کی تیاری کی جارہی ہے ۔پرانے زمانے میں جس طرح سے بڑے بڑے اور خوبصورت پتھروں سے جیولری تیار کی جاتی تھی وہی چیز آج کی آرٹیفیشل جیولری کے ڈیزائنز میں بھی بخوبی دیکھی جاسکتی ہے ۔اس کے علاوہ گولڈ پلیٹیڈ یعنی سونے کا رنگ چڑھی جیولری کی بھی خاصی ڈیمانڈ ہے۔اس وقت ہر برائیڈل آرٹیفیشل جیولری کے زیور ہی پہنے نظر آتی ہے ۔مصنوعی جیولری میں ہمارے پاس خاصی چوائس موجود ہوتی ہے لباس پر کام کے مطابق آپ مختلف رنگوں سے مزین جیولری کا انتخاب با آسانی کر سکتی ہیں۔اس وقت مارکیٹ میں مصنوعی جیولری کے حوالے سے بہت سارے برینڈز موجود ہیں جو آرٹیفیشل جیولری کے نت نئے ڈیزائنز پرکام کر رہے ہیں ۔آرٹیفیشل جیولری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کسی بھی لباس کے ساتھ اپنی من پسند جیولری پہن سکتی ہیں ۔یہ بات توطے ہے کہ جیولری کوئی بھی ہو خواتین کی تیاری ان کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی ہے۔سونے کی قیمتیں بڑھنے پر ہم سے سوشل میڈیا کے مختلف گروپوں میں لوگوں کی رائے جاننے کے لیے سوال کیا کہ آیا سونا انتہائی مہنگا ہونے سے شادیوں پر اثر پڑے گا یا پھر اس کا رواج ختم ہو جائے گا؟اس کے جواب میں سینکڑوں صارفین نے اپنی رائے کا اظہارکیا۔یہ تمام تبصرے آپ بھی ملا حظہ فرمائیں۔جو ہر داؤ د کہتی ہیں جس طرح ایک رسم چلی آئی ہے کہ مائیں اکثر بیٹیوں کی شادی کے لیے ان کے بچپن سے ہی سونا جمع کرنا شروع کر دیتی ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتی رہتی ہیں لہٰذا انھیں بھی یہی مشورہ دیاگیا لیکن انہوں نے اپنی والدہ کو خبر دار کر دیاہے کہ وہ اپنی شادی پر سونے کے زیورات نہیں پہنیں گی تاکہ نہ ان کے اہل خانہ اور نہ لڑکے والوں کو پریشانی اٹھانی پڑے۔اکثر خواتین کی رائے یہ بھی ہے کہ شادی کے بعد سونے کا سارا زیور لاکر میں چلا جاتا ہے اور شاذونا درہی اس کے استعمال کا موقع ملتا ہے،کیونکہ آج کل جن خواتین نے خواہ مخواہ زیور پہنا ہوتا ہے اسے باشعور طبقوں میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ان خواتین کا یہ بھی ماننا تھاکہ سونا پہننا محض ایک دکھا وا ہے ،جس کا جدید دور کے پڑھے لکھے لوگوں پر کچھ اچھا تاثر نہیں پڑتا۔بعض لوگوں کی رائے میں سونے کی زیورات کے مطالبے نے شادی کو مشکل بنا دیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ قرضے لینے کی نوبت آتی ہے ،والدین کی راتوں کی نیند یں حرام ہو جاتی ہیں اور بد مز گیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک اور صارف ابراہیم شاہ کا کہنا تھا :”مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی والے سونے کے زیورات کے بغیر راضی ہی نہیں ہوتے ۔اس رواج کو ختم کرنے کے لیے خواتین کو ہی آگے بڑھ کر احتجاج کرنا ہوگا۔“سماجی ماہرین کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں شعور بڑھنے سے غیر ضروری رسم ورواج کا خاتمہ ہورہا ہے اور کئی جوڑے سادگی سے نکاح کرکے دوسروں کے لیے مثال بن کر سوشل میڈیا پر عوام سے داد وصول کررہے ہیں۔ حال ہی میں ٹی وی اور فلم اداکار حمزہ علی عباسی کی شادی اس کی ایک مثال ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے سونا انتہائی مہنگا ہو جانے کے سبب بہت جلد اس کا رواج ختم ہو جائے گا ،لہٰذا جس فرسودہ رواج کو کوئی چیز شکست نہ دے سکی اس کو مہنگائی سے شکست مل جائے گی۔

تازہ ترین خبریں