04:58 pm
 دہشتگردوں کی فائرنگ ،خواتین سمیت15 سیکورٹی اہلکارجاں بحق

دہشتگردوں کی فائرنگ ،خواتین سمیت15 سیکورٹی اہلکارجاں بحق

04:58 pm

بینکاک(ویب ڈیسک)تھائی لینڈ کے دہشتگردی سے متاثرہ جنوبی صوبے میں مسلح افرادکی فائرنگ سے 15سیکورٹی اہلکارہلاک جبکہ 5زخمی ہوگئے جبکہ اس واقعے کو15برسوں میں بدترین واقعہ قراردیاجارہاہے ،تھائی لینڈ کی فوج کے ترجمان کرنل کیاٹیساک نیونگ کاکہناتھاکہ یالاصوبے میں واقع دوچیک پوسٹوں میں خون آلودہ کپڑے بھی ملے ہیں جس سے ظاہرہوتاہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران حملہ آوربھی زخمی ہوگئےہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افسران میں 4 خواتین تھیں اور ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے۔صوبائی پولیس سربراہ کرنل تھ
اویساک تھونسونگسی کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد یالا جانے والی شاہراہ کو گاڑیوں کے لیے بند کردیا گیا کیونکہ بجلی کو منقطع کرنے کے لیے کھمبے کے قریب باردوی مواد نصب کیا گیا تھا اور اسکول میں ٹائرز بھی نذر آتش کردیے گئے تھے۔تھائی لینڈ کے وزیراعظم پرایوتھ چان اوچا کا کہنا تھا کہ اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد فوجی اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے بجائے اپنی توجہ سیکیورٹی رضاکاروں پر مرکوز کررہے ہیں کیونکہ وہ ان کا آسان ہدف ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رضاکاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کی جائے گی۔خیال رہے کہ تھائی لینڈ کے جنوبی علاقوں میں رضاکار فورسز کو گاؤں کی سیکیورٹی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا جن کی تربیت فوج کرتی ہے لیکن تنخواہ نہیں دی جاتی جبکہ انہیں چھوٹے پیمانے کا اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے جس کے باعث وہ دہشت گردوں کا بہتر انداز میں مقابلہ نہیں کرپاتے۔تھائی لینڈ کے مسلم اکثریتی جنوبی صوبوں پتانی، ناراتھیواٹ اور یالا میں 2004 میں علیحدگی پسندوں کی تحریک شروع ہوئی تھی جس کے بعد اب تک7 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مسلمان شہریوں کو شکایات ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے جبکہ ان صوبوں میں کئی دہائیوں سے مختلف اوقات میں علیحدگی کی تحریک شروع ہوجاتی ہے اور اس کو کچلنے کے لیے شدید کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں