08:58 am
ترک صدرکا انتقامی فیصلہ،احمد داود اوگلو کی استنبول یونیورسٹی بند کر دی

ترک صدرکا انتقامی فیصلہ،احمد داود اوگلو کی استنبول یونیورسٹی بند کر دی

08:58 am

انقرہ (این این آئی)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے سابق وزیراعظم احمد دائود اوگلوکی شہیر استنبول یونیورسٹی کو بند کردیا جس کے بعد ہزاروں طلبا کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک صدر نے احمد دائود اوگلو کوپارٹی چھوڑنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے یہ سزا دی ہے۔ جبکہ یونیورسٹی کوملنے والی رقم بھی بند کردی اور یونیورسٹی کے اثاثے بھی منجمد کردئیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق استنبول کی ایک عدالت نے خلق بنک کو شہیر استنبول یونیورسٹی کوفنڈز کی فراہمی پرپابندی لگا ئی ہے۔ اوگلو نے یہ درس گاہ 2008 میں قائم کی تھی۔
 
یونیورسٹی کے قیام کے لیے خلق بنک کی طرف سے 70 ملین ڈالر کے مساوی رقم فراہم کی گئی۔ یہ رقم قرض کی شکل میں ادا کی گئی تھی۔ اس رقم سے مشری استنبول میں ایک وسیع وعریض ہاسٹل اور یونیورسٹی کیمپس قائم کیا گیا۔یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سربراہ کھرمان ساکول نے بتایا کہ شہیر استنبول یونیورسٹی میں 7 ہزار طلبا طالبات زیرتعلیم ہیں۔ ان میں ایک چوتھائی طلبا اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یونیورسٹی نے 10 فی صد عملہ بیرون ملک سے تعینات کیا ہے جب کہ اس درس گاہ میں زیرتعلیم 15 فی صد طلبا غیرملکی ہیں۔ خلق بنک کی طرف سے کھاتے منجمد کیے جانے کے بعد عملے کے کسی رکن کو تنخواہ ادا کی جاسکتی ہے اور نہ یونیورسٹی کیدیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کا کوئی اور راستہ بچا ہے۔