03:56 pm
عراق میں مظاہروں کا سلسلہ جاری درجنوں ہلاک سینکڑوں  زخمی،بغداد میں بجلی بند ملک کے تمام شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ

عراق میں مظاہروں کا سلسلہ جاری درجنوں ہلاک سینکڑوں زخمی،بغداد میں بجلی بند ملک کے تمام شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ

03:56 pm

بغداد( آن لائن )عراق کے دارالحکومت بغداد میں مظاہروں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی بند کردی گئی ہے دوسری طرف ملک کے تمام شہروں میں سیکیورٹی مزید ہائی الرٹ کردی گئی ہے. عرب نشریاتی ادارے کے مطابق دارالحکومت بغداد کے علاقے تحریر اسکوائر اور مرکزی کالونیوں میں گزشتہ رات سے بجلی بند ہیاس سے پہلے ہزاروں یونیورسٹی طلبانے بغداد میں تحریر اسکوائر میں جلوس نکالا اتواار کی صبح سے ہی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں بغداد میں رات گئے ہونے والے مظاہروں میں ایک شخص ہلاک
اور درجنوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے.الرشید اسٹریٹ پر جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو مرکزی بنک جانے والی سڑک پر آگے جانے سے روکنے کے لیے ان گولیاں چلائیں اور آنسوگیس کی شیلنگ کی اس کے نتیجے میں 15 افراد زخمی ہوگئے. بغداد میں آپریشنل کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قیس المحمداوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین کا ایک گروہ مرکزی بنک، دیگر اہم اہداف تک پہنچنے ، دکانوں سرکاری و نجی املاک کو نذر آتش کرنے اور دستی بموں سے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا ان کا کہنا تھا کہ یہ پرامن مظاہرین نہیں ہیں، لہذا ان کے ساتھ سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے کہاکہ جہاں احتجاج پرامن ہے وہاں 20 دن سے پولیس اور مظاہرین کیدرمیان کسی قسم کا کوئی تصادم نہیں ہوا ہے.جنوبی صوبہ بصرہ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے آج سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں بصرہ شہر کے نزدیک واقع بندرگاہ ا�ں قصر میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں سات مظاہرین ہلاک اور ایک سو سے زائدزخمی ہوئے ہیں سینکڑوں مظاہرین نے ام قصر بندر گاہ کی طرف جانے والے راستے کو بند کررکھا تھا۔سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کے لیے ایک مرتبہ پھر براہ راست فائرنگ کی ہے.عراق اس بندرگاہ کے ذریعے تیل برآمد کرتا اور غذائی اجناس کو درآمد کرتا ہے عراقی حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے احتجاج کے باوجود بندرگاہ پر معمول کی سرگرمیاں معطل نہیں ہوئی ہیں اور ٹرک بندرگاہ میں داخل ہورہے تھے. دارالحکومت بغداد میں شاہراہ رشید پر سکیورٹی فورسز نے احتجاجی ریلی کے شرکاکو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے مظاہرین عراق کے مرکزی بنک کی جانے والی شاہراہ کی طرف جانا چاہتے تھے لیکن سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اآنسو گیس کے گولے پھینکے ہیں اور براہ راست فائرنگ کی ہے پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق فائرنگ سے پندرہ افراد زخمی ہوئے ہیں.عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی شہر نجف ، بصرہ اور دوسرے علاقوں میں مظاہرین نے متعدد شاہراہوں اور پلوں کو بند کررکھا ہے بصرہ میں مظاہرین سرکاری ملازمین کو دفاتر میں جانے سے روک رہے ہیں پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ہفتے کی شب اور اتوار کو بھی جنوبی صوبہ ناصریہ میں مظاہرین پر فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں.مظاہرین ناصریہ میں دریائے فرات پر تین پلوں پر جمع ہوکر حکومت کے خلاف ٹائر جلا کر احتجاج کررہے تھے سکیورٹی فورسز نے انھیں منتشر کرنے کے لیے ا ٓنسو گیس کے گولے پھینکے اور براہ راست گولیاں چلائی تھیں جس سے پچاس سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیںناصریہ میں سکول اور بیشتر سرکاری اداروں کی جانب جانے والے راستوں کو مظاہرین نے بند کررکھا ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق شہر کے وسط میں واقع ایک ہسپتال میں مریض اآنسو گیس سے متاثر ہوئے ہیں اور ہسپتال کی انتظامیہ نے وہاں سے نومولود بچوں کو ان کے تحفظ کے پیش نظر کہیں اور منتقل کردیا ہیجنوبی شہر کربلا میں بھی عراقی سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے چوبیس افراد کو زخمی کردیا سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو مقامی حکومت کے دفاتر جانے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی تھی جنوبی شہروں دیوانیہ ، الکوت ، عمارہ اورنجف سے بھی پ�ژتشدد مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں اور ان شہروں بیشتر اسکول اور سرکاری دفاتر بند تھے دیوانیہ اور نجف میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو افراد مارے گئے ہیں.