06:59 am
ناروے کے عوام مسلمانوں کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں

ناروے کے عوام مسلمانوں کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں

06:59 am

اوسلو(نیوز ڈیسک ) ناروے کے عوام مسلمانوں کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لوگوں نے سڑکوں پر اکٹھے ہو کر قرآن مجید کی تلاوت سنی اور مذہبی نفرت پر مبنی عمل کی مذمت بھی کی ہے۔ ناروے کے علاقے کرسٹیان سینڈ میں منعقدہ اسلام مخالف ریلی میں پولیس حکام کی جانب سے کئی مرتبہ انتباہ کے باوجود قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کے بعد ایک لاکھ آبادی پر مشتمل علاقے میں مسلمانوں کے لیے جذبات میں اضافہ ہوا ہے
اور مقامی افراد اس نفرت پر مبنی جرم کی مذمت کر رہے ہیں۔دوسری جانب ناروے کی حکومت نے قرآن پاک کی بیحرمتی کے واقعات روکنے کا حکم دے دیا ہے۔نارویجن میڈیا کے مطابق حکومت نے پولیس کو احکامات جاری کیے ہیں کہ کسی بھی شخص یا تنظیم کو قرآن کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔حکومت نے نسل پرستی سے متعلق آئینی شق کی بنیاد پر نئی قانونی تشریح جاری کی ہے، جس کے تحت پولیس پر مذہبی علامتوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کو روکنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ قرآن کی بے حرمتی کی کوشش کرنے والے شخص کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی، کیونکہ ایسے واقعات سے مسلمانوں کے ردعمل اور انتقامی کارروائیوں کا خطرہ ہے۔16 نومبر کو ناروے میں اسلام مخالف تنظیم اسٹاپ اسلامائزیشن آف ناروے (سیان) نے ریلی نکالی تھی، جس میں اس کے رہنما لارس تھورسن نے قرآن کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہاں موجود چند مسلمان نوجوانوں نے قرآن کی بے حرمتی اس کی کوشش کو ناکام بنادیا تھا۔ پاکستان نے اس واقعے پر ناروے کے سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

تازہ ترین خبریں